کشمیری نوجوان کو اغوا کر کے خاتون کا لباس پہنا دیا گیا

کشمیری نوجوان کو اغوا کر کے خاتون کا لباس پہنا دیا گیا
کشمیری نوجوان کو اغوا کر کے خاتون کا لباس پہنا دیا گیا

  


جے پور (آئی این پی )جمعرات 5 ستمبر کو مغربی بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع الور کی جیل سے ایک 25 سالہ کشمیری نوجوان کی ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے، جس میں مذکورہ نوجوان خواتین کے لباس میں ملبوس ہے اور اسے ایک بیم سے باندھ کر رکھا گیا ہے،مذکورہ کشمیری نوجوان کی شناخت میر فیض کے نام سے ہوئی ہے اور وہ تھرڈ ایئر ایروناٹیکل انجینئرنگ کا طالب علم بتایا جاتا ہے۔

ایک بھارتی ویب پورٹل سے گفتگو کرتے ہوئے میر فیض کے بڑے بھائی، میر فیصل نے بتایا کہ وہ دہلی میں کام کرتا ہے، اس نے مذکورہ معاملے کے سامنے آنے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اس کا بھائی خواتین کے لباس میں کیوں تھا؟۔اس نے بتایا کہ اس نے پولیس کو جو رپورٹ درج کرائی ہے اس کے مطابق اس کا بھائی میر فیض نیمرانا مارکیٹ میں کچھ خریدنے گیا تھا، جہاں پر اسے تین لڑکوں نے اغوا کرلیا اور زبردستی اسے ایک بائیک پر بٹھا کر سنسان مقام پر لے گئے۔جہاں اسے خواتین کا لباس پہننے پر مجبور کیا گیا اور جان سے مارنے کی دھمکی دے کر مارکیٹ میں اسی لباس میں جانے کو کہا اور جب اس نے ایک اے ٹی ایم میں جا کر لباس تبدیل کرنے کی کوشش کی تو وہاں لوگ جمع ہو گئے اور انہوں نے اس کو پکڑ کر ایک پلر سے باندھ دیا اور اس کی پٹائی کرنا شروع کر دی۔ مذکورہ بالا نوجوان کے بھائی کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کروانے کے باوجود پولیس ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے اور میر فیض کو پوری رات حوالات میں بند رکھا، پولیس کی مار پیٹ سے اس کی قوت سماعت متاثر ہوئی ہے۔بڑی مشکل سے پولیس میر فیض کا طبی معائنہ کرانے پر تیار ہوئی ہے، تاکہ مزید تفتیش کی جا سکے، اس سے قبل بچے اغوا کرنے کے الزامات کی افواہیں زیرِ گردش تھیں جس پر پولیس کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ادھر فیض میر نے ان تین اغوا کاروں کی شناخت سے متعلق اپنی لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ہم نے فیض کو چند گھنٹے زیرِ حراست رکھنے کے بعد اسے اس کے بھائی کے ساتھ گڑگاوں جانے کی اجازت دے دی ہے اور ان 3 نامعلوم نوجوانوں کی تلاش جاری ہے۔

مزید : انسانی حقوق


loading...