سولر انرجی سے استفادہ مگر؟

سولر انرجی سے استفادہ مگر؟

  

پنجاب حکومت نے اورنج میٹرو ٹرین اور سکولوں کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، جبکہ ضلع لیہ کے علاقے چوبارہ میں سو میگاواٹ کے سولر انرجی پلانٹ کی تنصیب کا بھی معاہدہ کیا ہے۔ سرکاری پریس ریلیز کے مطابق یہ معاہدہ تاریخ کی کم ترین قیمت کا ہے، جس کے مطابق3.7 سینٹ فی یونٹ بجلی خریدی جائے گی۔ یہ فیصلہ بہتر ہے اور سابقہ منصوبوں ہی کا تسلسل ہے کہ اب بھی ہمارے اکثر دیہات میں سکول سولر انرجی استعمال کر رہے ہیں، جبکہ جی ٹی روڈ پر مختلف قصبات کے سامنے بھی سٹریٹ لائٹ اسی نظام کا حصہ ہے۔لاہور میں بھی یہ تجربہ کیا گیا، علامہ اقبال ٹاؤن میں سولر سٹریٹ لائٹ لگائی گئی تھی، جس کا اب نام و نشان بھی نہیں، جبکہ جی ٹی روڈ والی سٹریٹ لائٹ کی بعد از تنصیب مرمت اور دیکھ بھال نہ ہونے سے یہ لائٹیں اکثر  بند رہتی ہیں، اسی طرح لال سوہانرا  سو میگاواٹ سولر انرجی پروجیکٹ سے بھی اچھی خبر موصول نہیں ہوئی اور موجودہ حکومت ہی کی طرف سے اس پر نکتہ چینی کی گئی۔ اب خود صوبائی حکومت نے اس طرف قدم بڑھایا ہے یہ اچھا اور مفید فیصلہ اور منصوبہ ہے،خصوصاً سکولوں اور اورنج میٹرو ٹرین کے لئے سولر انرجی کا استعمال  بہتر ہو گا،اِس سے پہلے اورنج میٹرو ٹرین کے لئے بجلی کے استعمال پر کھلی تنقید ہوتی رہی کہ بجلی پر ٹرین کے چلنے سے خسارہ پورا ہونا تو الگ اخراجات اتنے زیادہ ہوں گے کہ  رعایت دینا مشکل ہو گی، اب سولر انرجی کا استعمال اسے سستا بنا دے گا، تاہم یہ خیال رہے کہ وزیراعلیٰ نے اکتوبر میں  سروس شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سولر منصوبہ تاخیر کا باعث نہ بنے، دوسرے سکولوں کا جہاں تک تعلق ہے تو یہ تجربہ کامیاب ہے، بشرطیکہ بعداز تنصیب دیکھ بھال اور مرمت کا نظام ساتھ ہی متعارف ہو،ورنہ جی ٹی روڈ اور علامہ اقبال ٹاؤن کی مثالیں موجود ہیں۔ یہ گذارش بھی اسی تجربے کی روشنی میں کی ہے۔ اورنج میٹرو  تو یوں بھی حساس معاملہ ہو گا اور کسی تکنیکی خرابی کے باعث اس کی روانی متاثر ہونے سے نقصان ہو گا، اِس لئے سولر انرجی کے حوالے سے تمام منصوبوں کو شروع کرنے سے قبل ان کے ”بیک اَپ“ کی گنجائش لازماً رکھی جائے کہ ساتھ ساتھ ہی دیکھ بھال اور مرمت جاری رہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -