سیاسی ماحول اور اِدھر اُدھر سے؟

سیاسی ماحول اور اِدھر اُدھر سے؟
سیاسی ماحول اور اِدھر اُدھر سے؟

  

لو، جناب، وہی ہوا، جس کے بارے میں گذشتہ روز عرض کیا تھا، حزبِ اختلاف کی جماعتوں پر مشتمل ر ابطہ کمیٹی نے کل جماعتی کانفرنس   بلانے کا فیصلہ کر کے تاریخ کا بھی تعین کر دیا اور دونوں بڑی جماعتوں نے صاد کرتے ہوئے دوسری معترض جماعتوں کو مطمئن بھی کر دیا ہے،بلکہ اضافہ یہ بھی ہوا کہ اب بی این پی (مینگل) بھی شامل ہو گئی۔ یوں قومی اسمبلی والی اپوزیشن بھی مکمل ہی ہو گئی۔رابطہ کمیٹی کے کنونیئر اکرم درانی نے روایتی بات کی کہ اے پی سی میں سبھی جماعتوں کے سربراہ شرکت کریں گے اور لائحہ عمل بھی ترتیب دیا جائے گا، بہرحال حکومت کی مخالفت پر سب کا اتفاق ہے۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ ہاتھی کی دم بھی اسی اے پی سی ہی کے ذریعے نکلے گی، جس کے پھنس جانے سے اپوزیشن منتشر تھی اور شیخ رشید کو پیش گوئیوں کا موقع ملتا رہا ہے، ساتھ ہی سرکاری، جماعتی اور حکومتی ترجمانوں کی فوج ظفر موج طعنہ زنی کرتی رہی ہے۔

بہرحال اب بھی دو چار ہاتھ لب بام والی بات تو ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا یہ مطالبہ قائم ہے، 2018ء کے انتخابات دھاندلی زدہ تھے اور ان کے نتیجے میں قائم حکومت غیر آئینی ہے۔یہ بات اپنی جگہ کہ خود ان کی جماعت کے منتخب اراکین اسی اسمبلی کا حصہ ہیں اِسی لئے محترم اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی بات کرتے ہیں اور یہی وہ اختلافی ”نکتہ عزیز“ ہے کہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی اس تجویز کی حمایت نہیں کرتیں، تاہم معلوم یہ ہوا کہ اب ایک درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش ہو گی کہ معروضی حالات میں اندر اور باہر جدوجہد کی جائے اور اچھے مناسب وقت پر استعفیٰ کا کارڈ بھی استعمال کر لیا جائے، اس تجویز پر فیصلہ کیا ہو گا یہ تو20 ستمبر ہی کو علم ہو جائے گا، تاہم جمعیت علماء اسلام مشروط طور پر یہ عذر تسلیم کرنے پر رضا مند ہے بشرطیکہ قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی سطح پر بھی متحدہ اپوزیشن تشکیل دی جائے اور سب فیصلے باہمی اتفاق رائے سے ہوں اور حکومت سے تعاون بالکل نہ کیا جائے۔ دیکھتے ہیں 20ستمبر والے اجلاس میں کیا ہوتا ہے، انتظار میں کیا حرج ہے، ویسے یہ موسم بھی تو کسی تحریک کے لئے موزوں نہیں۔اگرچہ ستمبر آئیڈیل ہوتا ہے، تاہم برسات اور سیلابوں نے انسانی مسئلہ پیدا کر دیا ہے، غور کرنا ہو گا۔

یہ تو سیاسی موسم تھا، جو ماحولیاتی تبدیلیوں ہی کی طرح بدلتا رہتا ہے، خیال رہے کہ یہاں نیب بھی ہے اور احتساب عدالتوں سے وارنٹ  بھی جاری ہو رہے ہیں۔ نواز شریف اور زرداری زد میں ہیں اور ہر دو کے درمیان اتفاق رائے بھی ہوا ہے۔ اب مولانا فضل الرحمن سودا کاری کی بہتر پوزیشن میں ہیں، پھر بات سے بات نکل آئی اور بہک گئے۔ بہرحال جو ہونا ہے وہ سامنے آ ہی جائے گا فی الحال تو وزیراعظم کہتے ہیں کہ حکومتی پالیسیوں کو فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے اور ساتھ ہی   حساس سوال پر برہم بھی ہو جاتے ہیں، چلیں اب ذرا موسم کی بات کر لیں، تازہ ترین صورتِ حال بھی تشویشناک ہے کہ شمالی علاقہ جات میں طوفانی بارشوں کی وجہ سے دریا، ندی اور نالے بپھر گئے۔ سوات جیسی حسین وادی پانی کے تیز بہاؤ کا سامنا کر رہی ہے، سب سیاحت دھری کی دھری رہ گئی۔ پنجاب کے سینکڑوں دیہات چناب اور جہلم کی سیلابی کیفیت سے متاثر ہیں اور تو اور راوی اور ستلج بھی پریشانی کا باعث بن گئے ہیں، ہم سب معاشی حب ”کراچی“ کے لئے       تڑپ رہے ہیں کہ یہاں سیاست زبردست گرم ہے۔یہ روشنیوں کا شہر آج ہی تو نقصان کی زد میں نہیں، پہلے بارش کا پانی نہیں تو بندوق کی نالی خون بہاتی تھی، کل کے راہزن آج کے منصف بھی ہیں، کوئی بھی اس کراچی اور ملک کے حقیقی مسائل کی طرف توجہ نہیں دیتا، نہ ہی سائنسی انداز سے حالات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ وزیر سائنس فواد چودھری بھی سیاست ہی کر رہے ہیں، ہم آج یہ عرض کر دیں کہ حال ہی میں جو کچھ ہوا، وہ بلوچستان جیسے حساس صوبے میں طویل عرصہ سے جاری شورش جیسے پس منظر کا حامل ہے۔ کل کے ”غنڈے“ آج ”الیکٹرک وہیل چیئر“ پر ہیں اور خود کو مظلوم تر ثابت کر رہے ہیں،کیونکہ ان سے حساب لینے والا ہی کوئی نہیں، ہم سب احتساب کے حامی ہیں، قومی دولت لوٹنے والوں سے کسی کو ہمدردی   نہیں ہو سکتی۔

اگر ان کو احتساب کے شکنجے میں کسنا ہے تو پھر ” کھلا ٹرائل“ کریں۔ ان کو مظلوم بننے کے مواقع بھی آپ ہی کے غلط اطوار بہم پہنچا رہے ہیں۔ آپ سمجھتے ہیں کہ یہ نظام غلط ہے، اسے آپ درست کرنے ہی کا دعویٰ تو کرتے تھے، اب کر لیں،لیکن یہ خیال ذہن سے نکال دیں کہ آپ کو کل بادشاہی اختیارات ملنا چاہئیں کہ آپ بھی ”یہ بری اور یہ پھانسی“ والی عدالت لگا سکیں۔ یہ ممکن نہیں کہ یہاں ایک آئین ہے، اس پر لاکھ اعتراض کریں، اسے غیر مناسب بھی کہہ لیں،لیکن یہ عوامی نمائندوں کا متفقہ آئین کہلاتا ہے،اس کی بنیاد ”پارلیمانی جمہوریت“ ہے، اور اسے کسی آئینی ترمیم یا عدالتی حکم سے کسی دوسرے نظام میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا کہ اس مقصد کے لئے آئین ساز اسمبلی کی ضرورت ہو گی اور معروضی حالات میں یہ ممکن ہی نہیں کہ آئین ساز اسمبلی بنے اور پھر آئین بھی بن جائے۔ آپ کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی بااختیار ہیں اور شاید واحد لیڈر ہیں، جن کو ہر روز یہ بتانا پڑتا ہے کہ حکومت اور فوج ایک صفحہ پر ہیں، اس لئے جو بھی کرنا چاہتے ہیں اپنے حاصل اختیارات ہی سے کر لیں کہ آپ کو کون چیلنج کر رہا ہے، آپ کے نامزد وزراء اعلیٰ کو تو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا، وہ آپ ہی کے اشارہئ ابرو کے محتاج ہیں، ہم آپ سے صرف یہی عرض کر سکتے ہیں کہ آپ کا بنیادی نعرہ ”احتساب“ ہے، تو ضرور کیجئے، لیکن یہ انصاف پر مبنی ہو، اگر قومی لوٹ مار کا حساب لینا ہے تو ضرور لیں،لیکن ساتھ ہی قوم کے خون کا بھی حساب لیں اور ان کا بھی تو احتساب کریں،جنہوں نے عوام کا خون سڑکوں پر بہایا، نعشیں بند بوریوں سے ملیں اور پوری فیکٹری جہنم بن گئی۔

قارئین! معذرت، خیالات بھٹک گئے کہ ہمارے ذہن پر آج کل خوف سوار ہے، مطالعہ نے ہی ایسا کیا ہے۔ منور بیگ مرزا کے تعاون سے ایک پرانی کتاب ”اوباما  وارز“ زیر مطالعہ ہے۔ اب تک پلوں کے نیچے سے بہت پانی گذر گیا، مگر عالمی پس منظر کے لئے یہ کتاب اب تک موزوں ہے کہ امریکی ذہن کا اندازہ ہوتا ہے اور امریکی نظام کی اچھائی اور برائی بھی سامنے آتی ہے۔ اس کتاب سے ”ڈیپ سٹیٹ“ کیاہے، پتہ چل جاتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -