اصلاحات نہیں نظام کی تبدیلی ضروری ہے 

اصلاحات نہیں نظام کی تبدیلی ضروری ہے 
اصلاحات نہیں نظام کی تبدیلی ضروری ہے 

  

سند ھ میں سیلابی ہنگامی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ پاکستان کی بزنس ہب یعنی قومی کاروباری مرکز تباہ و برباد ہو چکا ہے قومی خزانے کو بھرنے والا شہر کراچی کچر اور گارے کا شکار ہو گیا ہے۔ بارشوں سے تباہ و برباد ہونے سے قبل یہ شہر کچڑا کنڈی قرار دیا جا چکا تھا۔بارشوں نے اس کی تباہی و بربادی پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے نازک حالات کو دیکھتے ہوئے افواج پاکستان کو طلب کر لیا گیا ہے۔ ہمارے سالارِ اعلیٰ جنرل باجوہ نے کراچی کا دو روزہ دورہ کیا اور معاملات کو درست کرنے کی نوید سنائی۔ اہا لیان ِ کراچی کو اس اعلان سے ابھی افاقہ تو شاید نہیں ہوا ہوگا،لیکن ایک اُمید ضرور پیدا ہوئی ہے کہ کراچی کے صفائی ستھرائی اور آب رسا ئی کے معاملات سمیت تمام سوک معاملات درست سمت میں چلنے لگیں گے۔

کراچی کو اس حال تک پہنچانے میں سب نے حصہ لیا ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کا اس تباہی میں حصہ بقدر جثہ ہے۔ ایم کیو ایم ہو یا پیپلزپارٹی،  تحریک انصاف ہو یا (ن) لیگ سب اس قومی سانحہ میں شریک سمجھے جائیں گے۔ حالات خراب کرنے میں حصہ دار ہونا جتنا جرم ہے، اتنا ہی معاملات ٹھیک نہ کرنے والوں کی صف میں کھڑا ہونا بھی جرم ہے۔ کراچی، سندھیوں یا اُردو بولنے والوں کا ہی نہیں ہے۔ یہ پاکستان کا ہے، اس پر تمام پاکستانیوں کا حق ہے۔ اس کی خوشحالی میں ہی پاکستان کی خوشحالی ہے، لیکن افسوس کہ ہم نے عروس البلاد کو کچڑا کنڈی میں ہی نہیں، بلکہ کچراور گارھے میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ ایک قومی سطح کی مجرمانہ حرکت ہے، جسے اب درست کرنے اور سنوارنے کے لئے افواج پاکستان کو بلایا جا رہا ہے۔فوج یقینا نہ صرف ایسا کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہے بلکہ قومی جذبے سے سر شاز ہو کر معاملات کو بہتر کرنا جانتی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم ایسے کتنی دیر تک معاملات چلاتے اور بڑھاتے رہیں گے؟ سول انتظامیہ،سیاستدان وغیر ہم کب تک اپنے فرائض سے چشم پوشی کرتے رہیں گے،کیونکہ ہر معاملے میں فوج کو مدد کے لئے طلب کرنا درست نہیں ہے۔ سول اداروں پر اربوں کھربوں روپے اسی لئے تو خرچ نہیں کئے جاتے ہیں کہ مشکل وقت میں وہ منظر سے غائب ہو جائیں اور فوج کو معاملات سدھارنے اور سنبھالنے کی ڈیوٹی دینے کے لئے بلا لیا جائے۔

ہمیں نیک نیتی کے ساتھ،پورے خلوص کے ساتھ اور پوری صلاحیت کے ساتھ معاملات کو درست کرنے اورراہ راست پر لانے کی کاوشیں کرنا ہوں گی، وگرنہ معاملات، جس انداز میں بگڑ رہے ہیں۔خرابی بڑھ رہی ہے اس کا انجام اچھا ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔بات صرف کراچی یا سندھ اور صوبہ سرحد و بلوچستان کی نہیں ہے۔ بات پورے ملک کی ہے۔ ہم عمومی صورت حال میں بھی درست طریقے سے ایکٹ یا ری ایکٹ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں۔ ہنگامی صورت حال کا تو کہنا ہی کچھ اور ہے۔ جہاں تک اداروں اور ان کی صلاحیتوں کا تعلق ہے۔ وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ ایک عام آدمی سے لے کر با شعور اور دانشور طبقے تک ہر ایک کی ایک ہی رائے ہے کہ عوامی سہولیات اور خدمات مہیا کرنے والے سرکاری ادارے کسی لائق نہیں رہے ہیں۔ ادنیٰ سے ادنیٰ افسر ہو یا اعلیٰ سے اعلیٰ سرکاری اہلکار سب اپنے آپ کو عوام کے لئے سمجھنے کی بجائے،حاکم اور بادشاہ تصور کرتے ہیں۔

ایک عام شہری، ماچس کی ڈبیا سے لے کر آٹا،چینی،دال،گھی اور دیگر چھوٹی چھوٹی اشیائے ضرورت تک کی ہر ایٹم پر ٹیکس دیتا ہے حد تو یہ ہے کہ بجلی کے میٹر کی قیمت بھی وہ خود ادا کرتا ہے اور واپڈا اِسی میٹرکا ماہانہ کرایہ بھی اسی صارف سے وصول کرتا ہے۔ہے نہ یہ عجیب بات کہ میں اپنی خرید کردہ شے کا ماہانہ کرایہ واپڈا کو ادا کروں، پھر ہر صارف ٹی وی ٹیکس کی مد میں بھی ماہانہ رقم ادا کرتا ہے۔ اس بات کے باوجود کہ اس کے پاس ٹی وی ہے یا نہیں۔ہمارے دیہاتوں میں ایسے سینکڑوں نہیں،ہزاروں، بلکہ لاکھوں گھر ایسے ہوں گے، جہاں ٹی وی نہیں ہے۔ آپ لاہور شہر کے مضافات میں ہی دیکھ لیں، غریب غربا،جنہوں نے ایک پنکھا اور ایک بلب جلانے کے لئے بجلی کا کنکشن لے رکھا ہے، انہیں بھی ٹیلی وژن فیس ادا کرنا پڑتی ہے۔ کیا یہ سرا سر ظلم و نا انصافی نہیں ہے؟…… لیکن ہمارے ہاں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ قومی اور سرکاری ادارے عوامی سہولیات اور حقوق کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔

تعلیم کی فراہمی فلاحی ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے، لیکن ہمارے ہاں صورتحال یہ ہے کہ کہا جاتا ہے، بلکہ مانا بھی جاتا ہے کہ منشیات کے دھندے کے بعد سب سے زیادہ منافع دینے والا شعبہ تعلیم ہے اور یہ بات خاصی حد تک درست بھی ہے۔ ہمارے ہاں گلی محلوں سے لے کر 1,1یا 2,2کینالوں میں قائم کالجز اور یونیورسٹیوں کے کیمپسز نوٹ بنانے کی مشینوں کی طرح کام کر رہے ہیں، جہاں ڈگریاں بانٹی جا رہی ہیں، لیکن ریاست کچھ کرنے کی صلاحیت سے عاری نظر آ رہی ہے۔ ویسے کیونکہ حکومت یہ ذمہ داری خود پوری نہیں کر رہی ہے۔ اس لئے نجی شعبے کو کھلی چھٹی ہے کہ جیسے چاہیں کریں۔ یہی حال صحت کی سہولیات کا ہے۔ نجی شعبہ یہاں بھی سر گرم عمل ہے، 7/5ہزارکا سٹنٹ لاکھ لاکھ دو دو لاکھ میں ڈالا جاتا رہا ہے۔ٹیسٹوں کی مد میں عوام سے رقوم بٹوری ہی نہیں نچوڑی جا تی ہیں۔ڈاکٹروں اور لیب مالکان کی ملی بھگت نے اس شعبے میں بھی مافیاں نے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔

عوام بے بس ہیں۔آٹا مافیا، شوگر مافیا اور نجانے کون کون سے مافیاز ہیں، جنہوں نے یہاں عوام کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ہاں یاد آیا،کراچی میں ٹینکر مافیا بھی اپنی پوری شدت و قوت کے ساتھ مصروف عمل ہے۔ حکومت اس کے خلاف کچھ بھی نہیں کر پا ئی ہے، بلکہ اطلاعات کے مطابق سرکاری اہلکار اس مافیا کے سر پرست بنے ہوئے ہیں۔ عوام پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ شنید ہے کہ اسلام آباد میں بھی ٹینکرز مافیا قائم ہوچکا ہے اور بتدریخ اپنے قدم آگے بڑھا رہا ہے۔یہ سب باتیں،کیا اس طرف اشار ہ نہیں کر رہی ہیں کہ ریاست فیل ہو چکی ہے؟عوام ٹیکس ادا کرنے کے باوجود بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ان کی داد رسی کرنے والا کوئی نہیں ہے عوام کا اعتماد ریاست سے بتدریخ اٹھتا چلا جا رہا ہے۔لوگ قومی معاملات سے الگ اور بے نیاز ہوتے چلے جا رہے ہیں۔متضاد مفادات کی حامل ملکی و غیر ملکی قوتیں یہاں مصروف عمل ہیں۔ملک کی تہذیبی و تمدنی اساس پر  تیشے چلائے جا رہے ہیں۔انتظامی طور پر تو ہم بدحالی کا شکار تو ہو ہی چکے ہیں اب تو بات فکری و نظری معاملات کی کمزوریوں اور کوتاہیوں تک آن پہنچی ہے۔ہمارے نوجوان نسل غیر ملکی نظام تعلیم اور تدریس کے ہاتھوں یر غمال بن چکی ہے۔ بات اصلاحات سے آگے جاتی نظر آ رہی ہے۔ معاملات کو درست کرنے کے لئے نظام کو تبدیل کرنا ہو گا۔ہمیں نئے سرے سے قومی ترجیحات کا تعین کر کے ایک ایسا نظام ترتیب دینا ہو گا، جو ہمیں دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر دے۔

مزید :

رائے -کالم -