فلسطین پر لچک کا مظاہرہ کیا تو ہمارا مسئلہ کشمیر پر موقف بھی کمزور ہو جائیگا

فلسطین پر لچک کا مظاہرہ کیا تو ہمارا مسئلہ کشمیر پر موقف بھی کمزور ہو جائیگا

  

 لاہور(لیڈی رپورٹر) نظریہئ پاکستان فلسطین کی آزادی کے بغیر نامکمل ہے کیونکہ اس نظریہ کو قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ آگے لیکر بڑھے اور ہم نے بھی اسی نظریہ کو آگے لیکر بڑھنا ہے۔ مسئلہ فلسطین کو فلسطینیوں کی خواہشات کے مطابق حل کیا جائے اور اس وقت تک اسرائیل کیساتھ کسی قسم کے تعلقات قائم نہیں کرنا چاہئیں۔ قائداعظمؒ نے مسئلہ فلسطین کو مسلمانوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ قرار دیا تھا اور وہ ہمیشہ فلسطین کی آزادی کیلئے آواز اٹھاتے رہے۔ قائداعظمؒ کی اپیل پر 26اگست1938ء کو آل انڈیا مسلم لیگ نے پورے برصغیر میں یوم فلسطین منایا۔ 23مارچ 1940ء کو قرارداد لاہور کے علاوہ فلسطینی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کی قرارداد بھی منظور کی گئی تھی۔ اسرائیل ایک غاصب ملک ہے جس نے مسلمانوں کے علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ اسلامی ممالک اور مہذب دنیا کو چاہئے کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ کھڑی ہو۔ وزیراعظم کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا بیان ہر محب وطن پاکستانی کے دل کی آواز ہے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے نظریہئ پاکستان ٹرسٹ کے زیر اہتمام آن لائن فکری نشست بعنوان ”آزادیئ فلسطین اور قائداعظمؒ کی سیاسی بصیرت“ کے دوران کیا۔ چیئرمین نظریہئ پاکستان ٹرسٹ محمد رفیق تارڑ نے اپنے خطاب میں کہا کہ قا ئد اعظم محمد علی جناحؒ جہاں برّصغیر پاک و ہند کے مسلمانان کی آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے وہیں جدوجہدِ آزادی فلسطین کیلئے بھی مسلسل تگ و دو کر تے رہے کیونکہ ملّت کا پاسبان ہونے کے ناطے پوری امّتِ مسلمہ کا غم آپ کی رگ و پے میں سرایت کیے ہوئے تھا۔ مسئلہ فلسطین کے پرامن اور منصفانہ حل تک اسرائیل سے کسی قسم کے تعلقات قائم نہیں کرنے چاہئیں۔ سرتاج عزیز اورراجہ ظفر الحق نے کہا کہ مسئلہ فلسطین اس وقت بڑے نازک مرحلے پر پہنچا ہوا ہے۔ یہ ایک ایسا قدیم مسئلہ ہے جو حل ہونے کے بجائے پیچیدگیوں کی جانب جا رہا ہے۔ میاں فاروق الطاف نے کہا کہ امت مسلمہ کو درپیش مسائل میں سے ایک پرانا اور حساس مسئلہ فلسطین ہے۔ قائداعظمؒ اور آل انڈیا مسلم لیگ ہمیشہ فلسطین کی آزادی کیلئے آواز اٹھاتے رہے۔ سینیٹر ولید اقبال نے کہا اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ جب تک مسئلہ فلسطین حل اور فلسطینیوں کو ان کا حق نہیں مل جاتا پاکستان کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ کسی قسم کے تعلقات قائم کرنے کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا۔ صحافی جاوید صدیق نے کہا کہ قائداعظمؒ نے فرمایا تھا کہ اسرائیل کو اسلامی دنیا اس وقت تک تسلیم نہیں کر سکتی جب تک کہ فلسطینیوں کو ان کا حق نہیں مل جاتا۔ سینیٹر عبدالقیوم نے کہا کہ قائداعظمؒ نے مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل پر زور دیا اور ہمیشہ فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ ظفر بختاوری نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا یہ بیان خوش آئند ہے کہ اگر ہم مسئلہ فلسطین پر لچک کا مظاہرہ کریں گے تو ہمارا مسئلہ کشمیر پر موقف بھی کمزور ہو جائیگا۔بیگم مہناز رفیع نے کہا کہ قائداعظمؒ زندگی بھر اسلامی ممالک کی آزادی اور حریت کے حق میں آواز بلند کرتے رہے۔صاحبزادہ سید محبوب گیلانی نے کہا کہ بطور مسلمان اور پاکستانی میری یہ ذمہ داری ہے کہ میں فلسطین کو اپنے دل اور روح سے کبھی فراموش نہ ہونے دوں۔شاہد رشید نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کو اپنے قائد اور بانی کی دی ہوئی دانشمندانہ اور مبنی برحق حکمت عملی کو پورے جوش و خروش سے اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

نظریہ پاکستان ٹرسٹ

مزید :

صفحہ آخر -