فوج کیساتھ کوئی تنازع ہوا نہ ہو گا، خارجی، داخلی معاملات پر عسکری قیادت سے کھل کر بات ہوتی ہے تمام فیصلے اتفاق رائے سے ہوتے ہیں، عمران خان، عاصم سلیم باجوہ کا بطور معاون خصوصی استعفا قبول کرنے سے انکار 

    فوج کیساتھ کوئی تنازع ہوا نہ ہو گا، خارجی، داخلی معاملات پر عسکری قیادت ...

  

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے عاصم سلیم باجوہ کا بطور معاون خصوصی استعفیٰ قبول کرنے سے انکار کردیا۔وزیراعظم ہاؤس کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کو بطور معاون خصوصی کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ عاصم باجوہ نے اپنے اثاثوں سے متعلق خبر پر جو ثبوت اور  وضاحت دی ہے وہ اس سے مطمئن ہیں لہٰذا عاصم باجوہ اپنا کام جاری رکھیں۔ دریں اثنا وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کچھ لوگوں کی بڑی خواہش ہے کہ میرے فوج کے ساتھ تعلقات خراب ہوں، لیکن آج تک فوج کے ساتھ تنازع کی کوئی وجہ ہوئی اور نہ مستقبل میں کوئی آثار ہیں۔ نجی چینل دنیا نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ خارجی اور داخلی معاملات پر عسکری قیادت سے کھل کر بات ہوتی ہے۔ اندرونی اور بیرونی معاملات پر تمام فیصلے ملکی مفاد میں اتفاق رائے سے کیے جاتے ہیں۔صوبہ پنجاب کی حکومت کے  بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ طرز حکمرانی کی مزید بہتری کیلئے خصوصی توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار ہر بڑے فیصلے پر رابطے میں رہتے ہیں۔ آئندہ چند دنوں میں انتظامی معاملات سے متعلق مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ پنجاب میں بڑے جرائم پیشہ عناصر کیخلاف بلاتفریق کارروائی کی ہدایت کی ہے۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما جہانگیر خان ترین بارے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے مستقبل کا فیصلہ متعلقہ ادارے تحقیقات کی صورت میں کریں گے۔سعودی عرب کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات معمول کے مطابق اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ قومی احتساب بیورو اپنے انداز سے اپنا کام کر رہا ہے۔ چاہتے ہیں نیب میگا سکینڈلز کو بہتر انداز سے منطقی انجام تک پہنچائے۔وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد پر بھی طنز کیا ور کہا کہ حزب اختلاف کے پاس کرنے کو کچھ نہیں، اے پی سی مصروفیت کا بہانہ ہو سکتا ہے۔دوسری طرف وزیرِ اعظم عمران خان نے جنوبی پنجاب سیکر ٹریٹ کے قیام کے حوالے سے عملی اقدامات اٹھانے پر وزیرِ اعلی پنجاب  اور پنجاب  حکومت کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب کو شناخت دینے کے حوالے سے عملی اقدمات  پی ٹی آئی حکومت کی  جنوبی   پنجاب  کے عوام سے دلی  وابستگی، ان کی مشکلات کا ادراک  و حل اورحکومتی منشور کو عملی جامہ پہنانے کا ثبوت ہے، ماضی میں جنوبی پنجاب کے عوام اور ان کے مسائل کے حل کو نظر انداز کیا جاتا رہا، جنوبی پنجاب کے لئے علیحدہ  سالانہ ترقیاتی پروگرام سے علاقے میں تعمیر و ترقی کا نیا باب روشن ہوگا، پی ٹی آئی حکومت کی اولین ترجیح عوام کی زندگیوں میں بہتری لانا ہے، حکومتی اقدامات کے لوگوں کی زندگیوں پر مثبت اثرات واضح نظر آنے چاہیں۔وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت   جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے قیام اور ورکنگ کے  حوالے سے اجلاس  ہو ا جس میں  وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی  موجود  جبکہ وزیرِ اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار،  وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جوان بخت، چیف سیکرٹری پنجاب، ایڈیشنل چیف سیکرٹری برائے جنوبی پنجاب اور ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب   ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک تھے۔ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے  پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے جنوبی پنجاب  کے عوام کی امنگوں  کی تکمیل کے حوالے سے عملی اقدامات، جنوبی پنجاب سیکرٹیریٹ کے قیام،  انتظامی اختیارات کی منتقلی اور عوام  کے احساس محرومی کو ختم کرنے  اور ان کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کیے جانے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹیریٹ کے قیام سے پی ٹی آئی حکومت نے جنوبی پنجاب کی عوام سے کیا گیا وعدہ وفا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے عملی اقدامات کو جہاں عوام میں بے پناہ پذیرائی ملی ہے وہاں اپنی شناخت کے حوالے سے  جنوبی  پنجاب کے عوام میں امید پیدا ہوئی ہے۔ وزیرِ خارجہ نے آئندہ سال بجٹ  کے حوالے سے جنوبی پنجاب کے لئے علیحدہ سالانہ ترقیاتی پروگرام اور پنجاب  پبلک سروس  کمیشن  کے تحت   ملازمتوں اور دیگر نوکریوں کے حوالے سے جنوبی پنجاب  کے عوام کیلئے کوٹے کی تجویز پیش کی۔ وزیرِ اعلی پنجاب نے جنوبی پنجاب سیکریٹیرٹ کے حوالے سے اب تک ہونے والی  پیش رفت پر بریفنگ دیتے ہوئے وزیرِ اعظم کو بتایا کہ  جنوبی پنجاب کے لئے سیکریٹیریٹ کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے، اس حوالے سے پنجاب گورنمنٹ کے رولز آف بزنس میں ترمیم کی جا چکی ہے اور اب تک سولہ سیکرٹیری صاحبان کی جنوبی پنجاب میں تعیناتی کی جا چکی ہے۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ صحت، تعلیم، پولیس، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، لوکل گورنمنٹ، فنانس، اور ایگری کلچر کے محکموں کو جنوبی پنجاب منتقل کیا جا چکا ہے۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا گیا کہ 15اکتوبر 2020 سے جنوبی پنجاب سیکرٹیریٹ باقاعدہ کام شروع کر دے گا۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ نئے سیکر ٹریٹ کے حوالے سے موثر نظام تشکیل دیا گیا ہے جس میں ٹیکنالوجی ، ای گورننس  اور پیپر لیس کلچر کو متعارف کرانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر موثر اور سہل طریقے سے  حل کیے جا سکیں۔ ایڈیشنل آئی جی انعام غنی نے ملتان اور بہاولپور میں پولیس کے  دفاتر کے قیام  اور پولیس سے متعلقہ اختیارات کی منتقلی کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے جنوبی پنجاب سیکر ٹریٹ کے قیام کے حوالے سے عملی اقدامات اٹھانے پر وزیرِ اعلی پنجاب  اور پنجاب  حکومت کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب کو شناخت دینے کے حوالے سے عملی اقدمات  پی ٹی آئی حکومت کی  جنوبی   پنجاب  کے عوام سے دلی  وابستگی، ان کی مشکلات کا ادراک  و حل اورحکومتی منشور کو عملی جامہ پہنانے کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں جنوبی پنجاب کے عوام اور ان کے مسائل کے حل کو نظر انداز کیا جاتا رہا۔ وزیرِ اعظم نے صوبائی مالیاتی ایوارڈ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب کے لئے علیحدہ  سالانہ ترقیاتی پروگرام سے علاقے میں تعمیر و ترقی کا نیا باب روشن ہوگا۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ اختیارات کی منتقلی کو مرحلہ وار طریقے سے آگے بڑھایا جائے تاکہ انتظامی معاملات کو بہتر اور منظم طریقے سے چلایا جا سکے۔

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -