مختلف شہروں میں بارش‘ چھتیں گرنے سے  متعدد افراد زخمی‘ شہریوں کا کاروبار بھی تباہ

    مختلف شہروں میں بارش‘ چھتیں گرنے سے  متعدد افراد زخمی‘ شہریوں کا ...

  

 ہارون آباد‘ خانیوال (نامہ نگار + بیورو نیوز) ہارون آباد اور گردونواح (بقیہ نمبر2صفحہ 6پر)

میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب گرج چمک کیساتھ موسلادھار بارش ہوئی جس کے باعث شہر کے کئی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا اور چھوٹی بڑی سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگی جس سے عام راہگیروں سمیت ٹریفک کی روانی میں شدید دشواری پیش آئی جبکہ نواحی گاؤں 21تھری آر میں غریب محنت کش محمد اعظم کے گھر کی چھت گر گئی جس کے باعث کمرے میں موجود محمد اعظم اور اس کے بیوی بچے ملبے تلے دب گئے۔دھماکہ جیسی آواز سن کے اہل محلہ فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور اپنی مدد آپ کے تحت ملبے تلے دبے افراد کو زندہ سلامت نکال لیا تاہم محمد اعظم اور اس کا چار سالہ بیٹا سخی حسان معمولی زخمی ہو گئے،بارش کے باعث متعدد موٹر سائیکل سوار پھسل کر زخمی ہونے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جنہیں طبی امداد کیلئے ٹی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا گیا، افسوس کا امریہ ہے کہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے کئی علاقوں سے تاحال پانی کی نکاسی کا عمل شروع نہیں ہوسکا ہے۔  خانیوال کے نواحی علاقہ ڈنگیاں پلاں کے قریب بارش کے باعث چھپر کی چھت گرگئی جس کے نتیجہ میں خاتون بچوں سمیت تین افرادزخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کے بعد ہسپتال منتقل کردیاگیا متاثرہ زخمیوں انیلہ زوجہ ظفر، مدثر ولد ظفر،شکیلہ دختر ظفر شامل ہیں۔ طوفانی بارشوں نے تباہی مچا دی اور کئی بھٹہ مالکان کے بھٹے بٹھا دئیے لاکھوں کی اینٹیں برباد ہو گئی بارشوں کی وجہ سے ندی نالوں طغیانی کے باعث راستے بند ہونے کی وجہ سیکوئلے کی گاڑیوں کے ریٹ بڑھ گئے 34ہزار کی بجائے 40 ہزار فی ٹن کوئلے کے ریٹ بڑھ گئے اور 34ہزار روپے سیلز ٹیکس لیکن حکومت ٹیکس وصول کرنے کے باوجود کوئی ریلیف نہیں دے رہی اور دسمبر میں  نوٹس دیئے گئے ہیں  کہ جدید ٹیکنالوجی پر نہیں آئیں  گے تو بھٹے بند کر دئیے جائیں گے جس کی وجہ سے بھٹہ مالکان میں شدید تشویش پائی جاتی ہے اور لاکھوں  کی تعداد میں  لیبر کا بھی بے روزگار ہونے کاخطرہ ہے۔ان خیالا ت کا اظہار بھٹہ مالکان ایسوسی ایشن کے سر گرم رہنما ؤں  چوہدری رمضان،چوہدری رشید اور چوہدری جاوید نے نقصان کی تفصیل بتاتے ہوئے کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بھٹہ کاروبار تباہ نہ کیا جائے لاکھوں  لوگوں کو روزگار دینے والے بھٹہ کاروبار کو ریلیف دیا جائے۔

بارش

مزید :

ملتان صفحہ آخر -