ملتان کے سپوت میجر ضیاء الدین اوپل کا 17 ستمبر کو یوم شہادت

 ملتان کے سپوت میجر ضیاء الدین اوپل کا 17 ستمبر کو یوم شہادت

  

 ملتان (اے پی پی)پاکستان کے دفاع میں ملتان کے سپوتوں نے ہمیشہ اپنا کردار ادا کیا۔ 1965ء،1971اور پھر 1999ء میں ہونیوالی کارگل کی پاک بھارت جنگ کے علاوہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی ملتان کے جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔1965ء کی جنگ کے ایک ہیرو میجرضیاء الدین اوپل شہید کا تعلق بھی ملتان سے تھا۔ میجرضیاء الدین اوپل 1965ء کی جنگ سے قبل ملتان (بقیہ نمبر4صفحہ 6پر)

میں ہی تعینات تھے۔ ان کے والد شیخ عبدالکریم اوپل صدربازار میں رہتے تھے جس سڑک پر ان کی رہائش تھی وہ اب میجر ضیاء الدین اوپل شہیدسٹریٹ کہلاتی ہے۔میجرضیاء الدین آرٹلری میں فرائض انجام دے رہے تھے۔واہگہ بارڈر پر انہوں نے توپ خانے کے او۔پی کی حیثیت سے دشمن کوبھرپور نقصان پہنچایا اور بھارتی او۔پی کا وائرلیس سسٹم قبضے میں لے کر بھارت سے اس کے اپنے ہی فوجیوں پر گولہ باری کروادی۔17ستمبر 1965ء کو دشمن کا ایک گولہ ان کے مورچے میں گرا اور انہوں نے جام شہادت نوش کیا۔انہیں لاہور میں میانی صاحب کے قبرستان میں سپردخاک کیاگیا۔ میجرضیاء الدین اوپل کی ہمشیرہ ملتان میں ہی مقیم ہیں۔ اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ایک شہید کی بہن ہونے کا اعزازمیرے لیے ہمیشہ سے باعث فخر ہے۔ مجھے اب بھی وہ لمحے یاد ہیں جب ان کی شہادت کی اطلاع ملتان آئی تھی تو میرے والد صاحب نے یہ خبرسننے کے بعد میری والدہ سے کہا ہمار ا بیٹا شہادت کے رتبے پر فائز ہوگیا ہے۔ خدا کا شکر ادا کرو کہ اس نے ہمیں شہید کے والدین ہونے کا اعزاز عطا کیا۔ اس کے بعد دونوں نے شکرانے کے نوافل ادا کیے تھے۔ انہوں نے کہاکہ ان کی خون آلود وردی بہت عرصے تک ہمارے گھر میں محفوظ رہی اور کئی سال بعد وہ وردی سپردخاک کرنے کے لیے جب صندوق سے نکالی گئی تو شہید کالہو اسی طرح تازہ تھااورا س میں سے مہک آرہی تھی۔

میجر ضیاء الدین

مزید :

ملتان صفحہ آخر -