گستاخانہ خاکوں کی اشاعت‘ حکومتی مذمت کافی نہیں‘ ذیشان اختر 

    گستاخانہ خاکوں کی اشاعت‘ حکومتی مذمت کافی نہیں‘ ذیشان اختر 

  

 بہاولپور(ڈسٹرکٹ رپورٹر) نائب امیر جماعت اسلامی جنوبی پنجاب سید ذیشان اختر،کسان بورڈ پاکستان کے مرکزی چیئر مین جام حضوربخش لاڑ نے فرانسیسی میگزین ”چارلی (بقیہ نمبر13صفحہ 6پر)

ایگڈو“ کی جانب سے ایک بار پھر توہین آمیز خاکے چھاپنے اور سویڈن میں قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عالم اسلام سے متحد ہونے اور او آئی سی کی طرف سے اس قبیح حرکت کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیاہے۔ حکومت پاکستان کی طرف سے صرف مذمت کافی نہیں، حکومت کو آگے بڑھ کر اقوام متحدہ میں اس مسئلہ کو اٹھانا اور تمام مذاہب کی  مقدس ہستیوں کی توہین کو عالمی جرم قرار دینے کا مطالبہ کرناچاہیے۔ تمام مذاہب کی کتب اور عبادت گاہوں کے احترام کو یقینی بنانا اقوام متحدہ کے عالمی چارٹر کا حصہ ہے مگر اسلامی شعائر،قرآن پاک اور پیغمبر اسلام کے معاملہ میں اس پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہاکہ اسلام دشمن قرآن پاک کی توہین اور پیغمبر اسلام، خاتم النبیین کے خاکے شائع کر کے عالمی امن کو تباہ اور دنیا کو عالمی جنگ کی آگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔فرانسیسی صدر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے اس کی مذمت نہ کرنا قابل تشویش ہے اور ان کی طرف سے اس پر خاموشی کا مطلب یہی لیا جائیگا کہ وہ پس پردہ اس کی حمایت کر رہے ہیں۔

ذیشان اختر

مزید :

ملتان صفحہ آخر -