1965 کی بھارت اور پاکستان کی جنگ لیکن دراصل اس کی وجہ کیا بنی؟ برطانوی میڈیا نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

1965 کی بھارت اور پاکستان کی جنگ لیکن دراصل اس کی وجہ کیا بنی؟ برطانوی میڈیا نے ...
1965 کی بھارت اور پاکستان کی جنگ لیکن دراصل اس کی وجہ کیا بنی؟ برطانوی میڈیا نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان میں ہر سال 6 ستمبر کو یوم دفاع منایا جاتا ہے ، یہ دن پاک بھارت جنگ 1965ء میں افواج کی دفاعی کارکردگی اور قربانیوں کی یاد میں منایا جاتا ہے جس کا   مقصد پاکستان کے دفاع اور عسکری طاقت کو مضبوط کرنے کی یاددہانی ہے تا کہ ہر آنے والے دن میں کسی بھی حملے سے بطریق احسن نمٹا جا سکے لیکن اس جنگ کی بنیاد کیا تھا؟ برطانوی میڈیا نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا۔

بی بی سی اردو کے مطابق  1965 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ کی بنیاد رن آف کچھ کے ویران علاقے میں ہونے والی ایک چھوٹی سی جھڑپ سے رکھی گئی تھی،یہ پورا علاقہ ایک طرح کا صحرا تھا جہاں کچھ چرواہے کبھی کبھار اپنی بھیڑ بکریاں چرانے جایا کرتے تھے یا بھولے بھٹکے کبھی پولیس والوں کا دستہ گشت کر لیا کرتا تھا۔حکمت عملی کے اعتبار سے یہاں پاکستان بہت فائدے میں تھا کیونکہ اس علاقے سے محض 26 میل کے فاصلے ہی پر ریلوے سٹیشن اور اس ریلوے سٹیشن سے 113 میل کی دوری پر کراچی جہاں   پاکستان کی آٹھویں ڈویژن کا  ہیڈ کوارٹر تھا۔دوسری طرف بھارت کی جانب سے کچھ کے میدان میں پہنچنے کے تمام راستے تقریباً ناقابلِ رسائی تھے، بھارت کا  سب سے نزدیک 31ویں بریگیڈ بھی احمد آباد میں تھی جہاں سے نزدیکی ریلوے سٹیشن بھوج سے 180 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔

جھگڑے کی ابتدا اس وقت ہوئی جب بھارتی سکیورٹی فورسز کو پتہ چلا کہ پاکستان نے ڈینگ اور سرائی کو ملانے کے لیے 18 میل طویل ایک کچی سڑک بنا لی ہے اور دعویٰ کیا گیا کہ یہ سڑک کئی مقامات پر بھارتی سرحد کے ڈیڑھ میل اندر تک جاتی تھی۔ادھر مارچ کے آتے آتے بھارت نے بھی کبر کوٹ کے قریب نصف کلومیٹر جنوب میں سردار چوکی بنالی۔پاکستان کے کمانڈر میجر جنرل ٹکّا خان نے بریگیڈیئر اظہر کو حکم دیا کہ حملہ کر کے بھارت کی نئی بنی سردار چوکی کو تباہ کر دیا جائے، نو اپریل کی صبح دو بجے پاکستانی حملہ شروع ہوا توشالیمار چوکی پر تعینات سپیشل ریزرو پولیس کے جوان، مشین گن اور مورٹر فائر کے کور میں آگے بڑھتے ہوئے پاکستانی فوجیوں کا مقابلہ نہیں کر پائے تاہم  14گھنٹوں کے زبردست حملے کے بعد بریگیڈیئر اظہر نے گولہ باری روکنے کا حکم دیا۔اس دوران سردار چوکی کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار دو میل واپس وجیو کوٹ چوکی پر چلے آئے، پاکستانی فوجی بھی اسی مقام پر واپس آگئے جہاں  سے حملہ شروع ہوا تھا اور شام کو دوبارہ اس بھارتی چوکی پر اہلکار تعینات کردیئے ۔

بھارت نے صورت حال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے میجر جنرل ڈن کو ممبئی سے کچھ بھیجا  اور پاکستان نے بھی اس دوران مکمل آٹھویں انفینٹری ڈویژن کو کراچی سے پاکستانی شہر حیدرآباد بلا لیا۔اس وقت علاقے میں بریگیڈ کے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل سندرجی کے کورکوٹ پر حملے کے مشورے کو حکومت نے مسترد کردیا۔ 24 اپریل کو بریگیڈیئر افتخار جنجوعہ کی قیادت میں پاکستانی فوجیوں نے سیرا بیت پر قبضہ کر لیا اور انھوں نے اس کے لیے پوری دو ٹینک رجمنٹیں اور توپ خانے کا استعمال کیا اور بھارتی فوجیوں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔اگلے دو دنوں میں بھارتی فوجیوں کو بیئر بیت کی چوکی بھی خالی کرنی پڑی۔

 بھارت کو اس وقت اور شرمسار ہونا پڑا جب پاکستان نے ملکی اور غیر ملکی صحافیوں کو بلا کر بھارتی فوجیوں کے چھوڑے ہوئے ہتھیاروں اور گولہ بارود دکھائے لیکن بعد میں برطانیہ کی مداخلت سے دونوں فوجیں اپنے پرانے محاذ پر واپس چلی گئیں۔

بی بی سی کا یہ آرٹیکل ان کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے ، وہاں پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں۔

مزید :

قومی -دفاع وطن -