ایئرپورٹ پر سونے کے صابن پکڑے گئے، سونا سمگل کرنے کا ایسا طریقہ کہ کسٹمز حکام بھی نہ سوچ سکتے تھے

ایئرپورٹ پر سونے کے صابن پکڑے گئے، سونا سمگل کرنے کا ایسا طریقہ کہ کسٹمز حکام ...
ایئرپورٹ پر سونے کے صابن پکڑے گئے، سونا سمگل کرنے کا ایسا طریقہ کہ کسٹمز حکام بھی نہ سوچ سکتے تھے

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)یوں تو ہر طرح کی سمگلنگ میں جرائم پیشہ لوگ نت نئے طریقے اختیار کرتے ہیں لیکن سونے کے سمگلر گویا سب سے زیادہ تخلیقی صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں کہ وہ ایسے طریقے اختیار کرتے ہیں، جن کے متعلق جان کر آدمی بھونچکا رہ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ پکڑے بھی کم ہی جاتے ہیں۔ انڈیا ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں سونے کے سمگلروں کے کچھ ایسے ہی اختراعی طریقے بیان کیے ہیں۔ ان میں سے ایک طریقہ صابن کی ٹکیوں میں بھر کر سونا سمگل کرنا ہے۔ اس طریقے کے ذریعے سمگل ہونے والا 38لاکھ بھارتی روپے مالیت کا سونا چند ماہ قبل بھارتی ریاست تامل ناڈو کے تریچی ایئرپورٹ پر پکڑا گیا تھا۔ سمگلروں نے صابن کی ٹکیوں میں اس مہارت سے سونے کو بھرا تھا اور ان پر واپس پیکنگ کی تھی کہ کوئی بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ ان ٹکیوں کی پیکنگ کھولی گئی ہے یا انہیں کاٹ کر اندرسے کھوکھلا کرکے سونا بھرا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ٹافیوں، چاکلیٹ، بسکٹ اور دیگر ایسی چیزوں کی پیکنگ میں سونا سمگل کرنا سمگلروں کا پسندیدہ طریقہ ہے کیونکہ ایسی چیزیں ہوائی جہازوں میں لیجانے کی اجازت ہے اور ان کی چیکنگ بھی زیادہ سخت نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ کھلونوں، پرفیومزاور دیگر چیزوں میں بھی سونا چھپا کر سمگل کیا جاتا ہے۔ زیادہ محتاط کام کرنے والے سمگلر سونا اصل حالت کی بجائے ورق کی شکل میں مختلف چیزوں میں ڈال کر سمگل کرتے ہیں۔ اس طریقے سے سونے کی کم مقدار سمگل ہوتی ہے تاہم یہ سکینرز کو دھوکا دینے کا بہترین طریقہ ہے کیونکہ باریک ٹکڑوں اور ورق کی شکل میں سونے کو سکینرز پکڑ نہیں پاتے۔اس کے علاوہ کیپسولز میں سونا بھر کر اسے منہ کے ذریعے نگل کر یا مقعد کے ذریعے جسم میں ڈال کر سمگل کرنا بھی سونے کی سمگلنگ کا سب سے چالاک طریقہ ہے۔ ایسے سمگلرز کو بھی سکینرز کم ہی پکڑ پاتے ہیں۔ یہ زیادہ تر اپنی مشکوک حرکات کی وجہ سے پکڑے جاتے ہیں۔ ورق اور باریک ٹکڑوں کے علاوہ سونا ’پیسٹ‘ کی شکل میں بھی سمگل کیا جاتا ہے اور اس طرح بھی سکینرز سونے کو ڈی ٹیکٹ نہیں کر پاتے۔ 

اس طریقے میں سونے کو پیسٹ میں بدلا جاتا ہے اور سمگل کرنے کے بعد ایک کیمیائی عمل سے گزار کر اسے واپس سونا بنا لیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سفارتی چینلز کے ذریعے بھی سونے کی سمگلنگ کی وارداتیں پکڑی گئی ہیں۔ ایسے سمگلرز مختلف ممالک کے سفارتخانوں میں ملازم ہوتے ہیں۔ وہ بیرون ملک سے سفارتی سامان میں سونا رکھوا کر سمگل کرواتے ہیں۔ چونکہ سفارتی سازوسامان کی چیکنگ نہیں ہوتی لہٰذا اس طریقے سے سونا پکڑے جانے کا احتمال کم ہی ہوتا ہے۔ اس نوعیت کی صرف ایک ہی واردات چند ماہ قبل پکڑی گئی۔ اس میں متحدہ عرب امارات کے سفارتخانے کا ایک حاضر سروس مرد ملازم اور ایک سابق ملازم لڑکی ملوث تھے۔ یہ لوگ کئی سالوں سے متحدہ عرب امارات سے سونا سمگل کر رہے تھے اور بالآخر پکڑے گئے۔

مزید :

بین الاقوامی -