The Paradoxical Prime Minister

The Paradoxical Prime Minister
The Paradoxical Prime Minister

  

 ششی تھرور کا شمار ایسے بھارتی سیاستدانوں میں ہوتا ہے،جنہوں نے سیاست جیسے انتہائی مصروف شغل کے ساتھ ساتھ پڑھائی لکھائی سے  بھی اپنا تعلق برقرار رکھا،ورنہ برصغیر میں اب ایسے سیاستدان نایاب ہوتے جا رہے ہیں جو سیاست کے ساتھ ساتھ نہ صرف مطالعہ کرتے ہوں، بلکہ اپنے مطالعے کو تحقیق کی صورت میں سامنے بھی لائیں۔ کانگرس کے راہنما اور ”یو پی اے“ کی حکومت میں وزیر مملکت رہنے والے ششی تھرور کو دنیا،خاص طور پر برصغیر کے علمی حلقوں میں اس وقت شہرت ملی، جب 2016ء میں ان کی کتاب…… An Era of Darkness: The British Empire in India ……منظر عام پر آئی۔ اس کتاب میں ششی تھرور نے انتہائی تحقیقی انداز سے ثابت کیا کہ بر طانوی سامراج نے کیسے برصغیر کے وسائل کو بے دردی کے ساتھ لوٹا اور واضح کیا کہ برطانیہ کی ترقی میں برصغیر کی لوٹ مار کا اہم حصہ رہا ہے۔ اس کتاب کو پوری دنیا میں مقبولیت حاصل ہوئی، تاہم اس کتاب کے حوالے سے پاکستان کے اخبارات اور جرا ئد میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ آج ہم ششی تھرور کی کتاب…… The Paradoxical Prime Minister……کا ذکر کرنے جا رہے ہیں۔ یہ کتاب 2018ء کے آخر میں منظر عام پر آئی۔اس کتاب میں ششی تھرورنے بھارتی وزیر اعظم مودی اور ان کی جماعت ”بی جے پی“ کی پالیسیوں کو انتہائی تحقیقی انداز سے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس کتاب کے منظر عام پر آنے تک مودی حکومت کو  4 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا تھا۔ ان چار سالوں میں مودی کی پالیسیوں، خاص طور پر تضاد سے بھرپور پالیسیوں کو بڑے واضح انداز سے بیان کیا گیا ہے۔

 سیکولر سوچ رکھنے کے باعث ششی تھرور نے کتاب کے ابتدائی حصوں میں واضح کیا ہے کہ کیسے مودی کی تنگ نظر سوچ، مودی سرکار پر ”آر ایس ایس“ کی انتہا پسندانہ سوچ کا اثر اور ”ہندوتوا“ کی پالیسیوں سے نہ صرف بھارتی سیکولر ازم کو شدید نقصان ہو رہا ہے، بلکہ بھارتی جمہوریت بھی خطرے میں آچکی ہے۔ ششی تھرور، نہرو کی اس سوچ پر یقین رکھتے ہیں کہ اگر بھارت کو اپنا وجود قائم رکھنا ہے تو اس کے لئے سیکولرازم، جمہوریت اور رواداری کے اصولوں کے تحت ہی چلنا ہوگا، مگر آج مودی کے ہندوستان میں ان اصولوں کو پامال کیا جا رہا ہے۔ ششی تھرور کے مطابق گائے کشی یا گائے کا گوشت کھانے کے جھوٹے الزام میں جتنے بھی معصوم افراد کو 2014ء سے2018ء تک قتل کیا گیا، اس کی نظیر 1947ء سے 2014ء تک نہیں ملتی۔

ششی کے مطابق مودی نے 2014ء کے انتخابات سے پہلے انتہائی چالاکی سے اپنے امیج کو بہتر بنانے کے لئے میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کو بھی استعمال کیا، کیونکہ 2014ء میں بی جے پی کی طرف سے وزارت عظمیٰ کا امیدوار نامزد ہونے سے پہلے بھارتی میڈیا کے سنجیدہ اور سیکولر حلقوں میں مودی کو واضح طور پر ایک متعصب سیاستدان کے ساتھ ساتھ 2002ء کے گجرات فسادات کا ذمہ دار بھی قرار دیا جاتا تھا، بلکہ کانگرس کی جانب سے مودی کو ”موت کا سوداگر“ قرار دیا گیا۔ یہ 2002ء کے بعد کا وہ زمانہ تھا جب بھارت کے سیکولر حلقوں کے ساتھ ساتھ خود بی جے پی کے اندر سے بھی ایسی آوازیں بلند ہونے لگیں کہ گجرات کے مسلم کش فسادات میں گجرات کے وزیر اعلیٰ مودی کا کردار اس قدر واضح ہے کہ مودی سے استعفیٰ لے لینا چا ہیے، حتیٰ کہ اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم اور بی جے پی کے راہنما اٹل بہاری واجپائی بھی اس سوچ کے حامی مانے جاتے تھے کہ گجرات فسادات کے بعد مودی کو مستعفی ہو جانا چا ہیے، مگر اس وقت کے وزیر داخلہ اور بی جے پی کے اہم راہنما لعل کرشن ایڈوانی نے مودی کی حمایت کی اور وہ گجرات کے وزیراعلیٰ رہے۔ 

مودی پر گجرات فسادات میں برا ہ راست ملوث ہونے کے الزامات اس قدر سنگین تھے کہ 2002ء کے بعد مودی کو مغربی ممالک نے اپنے ملکوں کا دورہ کرنے کے لئے ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا۔ششی تھرور کے مطابق 2014ء سے پہلے مودی نے سرمایہ کاری اور دوسرے مفادات کے ذریعے میڈیا کو اپنا حامی بنایا،پھر ”گجرات“ ماڈل کا مصنوعی ہوا کھڑا کیا۔ مودی نے میڈیا کی مدد سے یہ تاثر دیا کہ ان کی وزارت اعلیٰ کے دور میں گجرات نے بہت ترقی کی ہے۔ اس دعوے کے مطابق گجرات میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا اور سرمایہ کاروں کو سرما یہ کاری کے لئے دوسری ریاستوں کے مقابلے میں بھرپور مراعات دی جاتی ہیں۔ اسی پراپیگنڈے کو بنیاد بنا کر مودی نے 2014ء میں بھارتی ووٹروں کی حمایت حاصل کی، حالانکہ گجراتی ماڈل کی حقیقت یہ تھی کہ بڑے بڑے سرمایہ داروں کو سرمایہ کاری کے لئے بڑی بڑی مراعات تو ضرور دی گئیں، مگر اس سرمایہ کاری کے لئے گجرات کے عام کسان، مزدور اور محنت کش کا بہت زیادہ استحصال کیا گیا۔ کسانوں کو ان کی زرعی زمینوں سے بے دخل کیا گیا اور مزدوروں کو کم اجرت پر اپنی محنت بیچنے پر مجبور کیا گیا۔ گجرات ماڈل کا اصل مطلب ”سرما یہ دار کی خوشحالی“ اور ٖغر یب کی بدحالی قرار پایا۔  یہی وجہ ہے کہ تعلیم اور صحت جیسے شعبوں میں گجرات بھارت کی دس ریاستوں سے بھی زیادہ نچلی سطح پر رہا۔ ششی تھرور کے مطابق مودی نے اس گجرات ماڈل کو وزیراعظم بننے کے بعد بھارت میں بھی اپنانے کی کوشش کی اور اس سے بھارتی معیشت خاص طور پر عام بھارتی کو بہت نقصان ہوا۔ ششی تھرور اس حوالے سے ”نوٹ بندی“ کی مثال دیتے ہیں کہ کیسے مودی نے اچا نک بڑے نوٹ بند کرنے کا اعلان کر دیا، جس سے امیر بھارتی تو اتنے متاثر نہیں ہوئے، مگر عام بھارتی، مزدور، کسان، چھوٹا تاجر، چھوٹا دکاندار اور چھوٹا صنعت کار مالی طور پر تباہ ہو کر رہ گیا۔ 

2014ء کے بعد سے مودی اور ان کے ساتھی کیسے بھارتی سیکولرازم کو نقصان پہنچا رہے ہیں، اس سب کو انتہائی دلچسپ مثالوں سے بیان کیا گیا ہے۔ ششی تھرور نے ثابت کیا ہے کہ مودی اپنے ایجنڈے کے لئے نہ صرف میڈیا اور بھارتی پارلیمنٹ کو ایک ربڑ سٹمپ کے طور پر استعمال کر رہاہے، بلکہ وہ عدلیہ اور بھارتی فوج کو بھی اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کر رہاہے۔…… The Paradoxical Prime Minister…… میں 2018ء تک کے واقعات کو ہی پیش کیا گیا ہے، مگر ایک زیرک اور قابل سیا ستدان کے طور پر ششی تھرور کو اندازہ ہو رہا تھا کہ مستقبل قریب میں مو دی ایسے اقدامات بھی اٹھائیں گے جو بہت زیادہ تباہی کا با عث بن سکتے ہیں۔ جیسے اس کتاب کے شا ئع ہونے تک مو دی اپنی وزارت عظمیٰ کے پہلے دور میں ہی تھے، مگر2019ء کے انتخابات میں مودی پہلے سے بھی زیا دہ اکثر یت کے ساتھ کا میاب ہو کر آئے اور انہوں نے دو با رہ وزیر اعظم بننے کے بعد اگست2019ء میں بھارتی آئین سے آرٹیکل370خارج کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا۔

ششی تھرور نے 2018ء میں ہی اپنی کتا ب میں واضح کر دیا تھا کہ مستقبل میں مودی کوئی ایسا قدم اٹھا سکتے ہیں اوریہ قدم اٹھانے سے بھارت کے کشمیر پر مو قف کو عالمی سطح پر بھی نقصان ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ جب اگست2019ء میں مودی سرکار نے کشمیر کے حوالے سے یہ قدم اٹھایا تو ششی تھرور ایسے رکن پا رلیمنٹ تھے، جنہوں نے مودی کے اس اقدام کی کھل کر اور دو ٹوک الفاظ میں مذمت کی۔ششی تھرور کی کتاب ……The Paradoxical Prime Minister…… نہ صرف بھارتی سیاست میں دلچسپی رکھنے والے طا لب علموں کے لئے اہم کتاب ہے، بلکہ یہ کتاب ایسے طا لب علموں کے لئے بھی مفید ثابت ہو سکتی ہے جو یہ جاننا چا ہتے ہیں کہ اس وقت دنیا بھر میں مقبولیت پسندی کی سیاست کو فروغ کیوں اور کیسے مل رہا ہے اور مودی جیسے فا شسٹ سیاست دان کیسے مقبولیت پسندی کی سیاست کا سہا را لے کر اقتدار میں آکر دنیا کے ساتھ ساتھ اپنے سماج کے لئے بھی ایک طرح کا خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -