مہذب ممالک، شام میں بیرونی مداخلت اور جارحیت بند کرائیں

مہذب ممالک، شام میں بیرونی مداخلت اور جارحیت بند کرائیں

عرب ملک شام میں ، غیر ملکی مداخلت اور مسلسل جارحیت کی وجہ سے، عرصہ دو سال سے، عوام کی جان ومال اور عزت و حرمت، عدم تحفظ کا شکار بنے ہوئے ہیں۔ اس وقت سے اب تک ، شاید ہی کوئی ہفتہ ایسا گزرا ہو، جس کے دوران، بیرونی مداخلت کاروں کی ظالمانہ کارروائیوں سے، عام لوگوں کی زندگی اور املاک، کسی نقصان سے دوچار نہ ہوئی ہوں۔ اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ تاحال11 لاکھ افراد، ملک سے ہجرت کر کے دیگر ہمسایہ ممالک میں پناہ گاہیں تلاش کرنے چلے گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ذرائع سے یہ اطلاع بھی منظر عام پر آئی ہے کہ حالیہ تباہ کن کارروائیوں کی تعمیر و مرمت کے لئے 700 ملین ڈالر کی مالی امداد کی ضرورت ہے۔ یہ رقم جلد فراہم کرنے کے انتظامات کر کے ، مسمار شدہ اور تباہ حال عمارات اور انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اقدامات کرنے میں ، کوئی غفلت، تساہل اور حیلہ سازی نہیں ہونی چاہئے۔

شام ایک چھوٹا، آزاد اور خود مختار ملک ہے، جو اپنی آزادی، خود مختاری اور اپنے ملک کے باشندوں کو، جان و مال کے تحفظ کی خاطر، ضروری اقدامات کرتا ہے۔ ملک کے صدر بشار الاسد، اپنے والد کی وفات کے بعد، اس مقتدر منصب پر فائز ہوئے تھے، جو بیرونی مداخلت اور دھمکیوں کے باوجود، ابھی تک اپنے عوام کو انسانی حقوق کا تحفظ فراہم کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اگر مقامی لوگوں یا کسی خاص بڑے گروپ، طبقے اور حلقے کو ان آسائشوں کے بارے میں کوئی عذر و اعتراض ہے، تو وہ اپنے حکمرانوں اور متعلقہ حکام سے رجوع کر کے حق رسی کی تگ و دو کر سکتا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق اب تک، شام میں باغی سرگرمیوں سے، متاثرہ علاقوں میں ، 70 ہزار سے زائد افراد، موت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ قتل و غارت کا یہ سلسلہ جلد یا مستقبل قریب میں رکنے یا ختم ہونے کے، کوئی آثار اور امکانات نظر نہیں آتے، کیونکہ مداخلت اور جارحیت کار طاقتوں کی قیادت، امریکی اوباما حکومت کر رہی ہے۔ برطانیہ اور فرانس کے حکمران بھی، اس ریاستی دہشت گردی میں ، امریکی حکومت کی کھلی جارحیت میں معاونت کر رہے ہیں۔ یہ کارروائیاں جاری رکھنے کے لئے امریکی حکومت نے، باغی عناصر کو چند ہفتے قبل، 60 ملین ڈالر کی مزید مالی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس مقصد کے لئے امریکہ کے وزیر خارجہ، جان کیری نے چند یورپی ممالک کا دورہ بھی کیا ہے، تاکہ ان کی ممکنہ امداد اور حمایت بھی حاصل کی جائے۔ اس ضمن میں امریکی ظلم و جبر کی کارروائیاں، صاف اور واضح طور پر، بین الاقوامی اور اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی پر مبنی ہیں، لیکن امریکی حکومت، اپنی بہتر معیشت اور مضبوط دفاعی صلاحیت کے بل بوتے پر، شام میں انسانی حقوق کے عدم تحفظ کے طرز عمل کی الزام تراشی کر کے، مداخلت کرنے کے جواز کا ڈھول پیٹتی چلی آ رہی ہے۔

اس جارحانہ کارروائی کو، جائز قرار دلانے کے لئے، اپنے اتحادی بعض یورپی ممالک کی تائید و حمایت بھی، حاصل کر لینے سے، اس کی قانونی حیثیت بلاشبہ متعلقہ بین الاقوامی اصول و ضابطوں کے مطابق نہیں ہو سکتی۔ اقوام متحدہ کا عالمی ادارہ، رکن ممالک میں ، امن اور لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کے لئے قائم کیا گیا تھا تاکہ آزاد ممالک کے لوگوں کے بنیادی حقوق اور ان کی سلامتی کو کسی انداز سے، کوئی نقصان اورآنچ نہ آنے پائے۔ اقوام متحدہ کے منشور میں کہیں بھی، بیرونی ممالک کو یہ حق اور اختیار تفویض نہیں کیا گیا کہ کوئی ملک، گروپ یا اتحاد، انسانی حقوق کو پامال کرنے کا الزام لگا کر دیگر کسی ملک کی حکومت کو گرا کر تبدیل کر دے۔ اقوام متحدہ کے منشور اور دیگر بین الاقوامی قوانین کی قصداً غلط، بے بنیاد اور اپنی مرضی کے مطابق تشریح و توضیح کر لینے سے، کسی ملک یا اتحاد کو دیگر ممالک میں حکومتوں کو اپنی من مانی خواہشات اور تجاویز کے ذریعے قائم یا تبدیل کرنا، دورِ جہالت کی سیاہ کاریوں کو دُہرانے کے مترادف ہے۔ موجودہ مہذب زمانے میں ان کی بحالی کی کوئی گنجائش نہیں۔ ٭

مزید : کالم