جنوبی پنجاب کی انتخابی سیاست

جنوبی پنجاب کی انتخابی سیاست

11مئی 2013ءکے عام انتخابات میں جنوبی پنجاب کی قومی اسمبلی میں 43اور پنجاب اسمبلی میں 92نشستیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ جنوبی پنجاب ، ملتان سے لے کر رحیم یارخان تک 3ڈویژنوں میں تقسیم ہے،جس میں 11اضلاع آتے ہیں۔قومی اسمبلی کی سیاست میں اگر ہم پچھلے عام انتخابات پر نظر ڈالیں تو یہاں سے پیپلزپارٹی کا پلڑا بھاری رہا تھا۔2008ءکے عام انتخابات میں جنوب کی 43میں سے 21نشستیں حاصل کی تھیں۔مسلم لیگ(ن) نے 8،جبکہ مسلم لیگ(ق) نے 12نشستیں جیتیں۔فنکشنل لیگ نے ایک اور ایک نشست آزاد امیدوار نے جیتی۔اسی طرح پنجاب اسمبلی کی 92نشستوں میں سے پیپلزپارٹی نے 40، مسلم لیگ(ن) نے 18، مسلم لیگ(ق) نے 20، فنکشنل لیگ نے 3، ایم ایم اے نے 1اور 10نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب رہے۔اب آنے والے عام انتخابات میں تمام سیاسی جماعتوں کی نظر قومی اسمبلی کی ان 43 نشستوں پر ہے۔پچھلے عام انتخابات میں ضلع خانیوال سے مسلم لیگ(ن) قومی اسمبلی کی 4اور پنجاب اسمبلی کی 8نشستوں میں سے کوئی بھی نشست حاصل نہیں کر پائی تھی۔اسی طرح مظفرگڑھ اور لودھراں بھی جنوبی پنجاب کے ان اضلاع میں شامل ہیں، جہاں مسلم لیگ(ن) ناکام ہوگئی تھی۔سابق حکمران جماعت پی پی پی ڈیرہ غازی خان کی نہ ہی کوئی قومی اور نہ ہی صوبائی نشست جیت سکی۔پچھلے عام انتخابات میں پی پی پی کے بعد مسلم لیگ(ق) کی پوزیشن بہتر تھی، لیکن اب آنے والے انتخابات میں ایسا نظر نہیں آرہا۔آنے والے عام انتخابات میں مسلم لیگ(ق) کے متعدد امیدوار مسلم لیگ (ن) اور دیگر جماعتوں کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑیں گے۔اس کے علاوہ صوبائی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہونے والے بہت سے امیدوار بھی اب مسلم لیگ(ن) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے، جبکہ مسلم لیگ (ق) کے پاس اب بھی کچھ اچھے امیدوار موجود ہیں، ان میں خانیوال کی ہراج فیملی، بہاولپور سے طارق بشیر چیمہ، بہاولنگر سے سید اصغر شاہ اور رحیم یارخان سے مخدوم خسرو بختیار شامل ہیں۔پی پی پی گزشتہ عام انتخابات کی طرح اس بار بھی جنوبی پنجاب میں اچھی پوزیشن میں ہے۔

بہاولپور کے گردیزی اور رحیم یارخان سے مخدوم احمد محمود کی فیملی کے پیپلزپارٹی میں آنے سے پارٹی کو فائدہ ہوا ہے۔ ملکی سیاست میں تیسری بڑی قوت کے طور پر اُبھرنے والی جماعت تحریک انصاف کو بھی جنوبی پنجاب میں اچھے امیدواروں کی تلاش ہے۔بہاولپور کے نواب صلاح الدین عباسی کے تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد سے ضلع بہاولپور کی حد تک تحریک انصاف کو فائدہ ہوگا۔اس کے علاوہ ملتان سے جاوید ہاشمی اور شاہ محمود قریشی، وہاڑی سے اسحاق خان خاکوانی اور بہاولنگر سے افضل سندھو مضبوط امیدوار کے طور پر تحریک انصاف میں شامل ہیں۔مجموعی طور پر قومی اسمبلی کی 43اور پنجاب اسمبلی کی 92 نشستیں آنے والے انتخابات میں کسی بھی سیاسی جماعت کو حکومت بنانے میں انتہائی اہمیت کی حامل ثابت ہوں گی۔ ٭

مزید : کالم