امید ابھی باقی ہے!

امید ابھی باقی ہے!

کل ہی کی بات ہے مَیں ایک پبلک ٹرانسپورٹ کی گاڑی میں بیٹھا ہوا تھا۔ گاڑی آہستہ آہستہ بھرنے لگی اور امید پیدا ہوئی کہ جلد ہی تمام سیٹیں پُر ہوجائیں گی اور گاڑی اڈے سے روانہ ہو جائے گی۔ جب گاڑی میں ایک سیٹ باقی رہ گئی تو دور سے ایک نوجوان گاڑی کی طرف آتا ہوا نظر آیا۔ تمام مسافر اُس کی طرف متوجہ ہوئے ۔ محسوس ہو رہا تھا کہ ایک سیٹ کا مسئلہ بھی حل ہوگیا اور گاڑی بالآخر اڈے سے چل پڑے گی۔ گاڑی کے پاس آکر وہ نوجوان اچانک رُک گیا۔ تمام مسافر اس کی طرف متوجہ ہوئے، وہ نوجوان کو بغور دیکھ رہے تھے اور اس فکر میں تھے کہ نوجوان گاڑی میں سوار ہو اور خالی سیٹ کا مسئلہ حل ہو جائے۔ نوجوان کے اچانک رکنے کا ایک سبب تھا۔ اس کا بایاں ہاتھ خالی تھا، لیکن اس نے دائیں ہاتھ میں ایک سگریٹ پکڑا ہوا تھا۔ سگریٹ ویسے تو نظر نہیں آتا تھا، لیکن جب وہ نوجوان دایاں ہاتھ اوپر کرتا اور سگریٹ کا کش لگاتا تو سگریٹ نظر آنے لگتا۔ جب اس کے منہ سے دھواں باہر نکلتا تو تب بھی محسوس ہوتا کہ وہ سگریٹ پی رہا تھا۔ ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے وہ خفیہ طریقے سے یا راز داری کے ساتھ سگریٹ پی رہا ہے ۔

سگریٹ ختم ہوا اور وہ نوجوان جلدی سے گاڑی میں سوار ہوگیا اور میرے ساتھ والی خالی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ مجھے اس نوجوان کی یہ ادا بہت پسند آئی۔ سگریٹ وہ گاڑی کے اندر لے کر نہیں آیا تھا، تاکہ کسی مسافر کو اس کی اس حرکت سے کوئی پریشانی نہ ہو۔ مجھے بیس سال پہلے کا ایک واقعہ یاد آگیا، جب مَیں نے ایک مسافر کو گاڑی میں سگریٹ پینے سے منع کیا تھا اور نوبت ہاتھا پائی تک جا پہنچی تھی۔ مَیں نے نوجوان کو اپنا تعارف کرایا اور سگریٹ پینے کے بارے میں استفسار کیا تو اس کے چہرے پر شرمندگی کے آثار واضح تھے۔ کہنے لگا کہ چند سال پہلے چند دوستوں کی وجہ سے اسے سگریٹ پینے کی لت پڑ گئی تھی، لیکن اب وہ اسے ترک کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے ۔ اس نے مزید بتایا کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے ہوئے اس نے کبھی سموکنگ نہیں کی اور نہ ہی بڑوں کے سامنے کبھی ایسی حرکت کرنے کی جرا¿ت کی ہے ۔ مَیں سوچنے لگا کہ ایسی ہی معمولی باتوں سے معاشرے تبدیل ہوتے ہیں۔ بیس سال میں مجھے تبدیلی کے ٹھوس شواہد واضح نظر آئے تھے۔

مجھے یاد آیا کہ ایک مرتبہ مَیں کسی تقریب میں موجود تھا تو ایک نوجوان نے مجھ سے سوال کیا کہ پاکستان کب ترقی یافتہ سمجھا جائے گا۔ مَیں نے طنزیہ انداز میں جواب دیا کہ پاکستان کو اس وقت آپ ترقی یافتہ سمجھ سکتے ہیں، جب اس کا کوئی بھی شہری پبلک ٹرانسپورٹ میں تمباکو نوشی نہیں کرے گا اور اُسے احساس ہوگا کہ اگر اس نے ایسا کیا تو دوسرے مسافروں کو اس کے ایسا کرنے سے پریشانی ہوگی۔ بظاہر تو جواب مذاق کے انداز میں دیا گیا تھا، لیکن واقعی بات کسی حد تک درست معلوم ہوتی ہے ۔ جب بحیثیت قوم ہمیں دوسروں کے حقوق کا خیال ہوگا اور ہم کسی کی دلآزاری کرنے کو گناہ سمجھیں گے تو یہ وہ مقام ہوگا، جب ہم کسی بھی ترقی یافتہ ملک کے ہم پلہ کہلانے کے مستحق ہوں گے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بزرگوں نے نئی نسل کی تربیت میں ویسی محنت نہیں کی، جتنی کہ ضرورت تھی۔ اس کے باوجود ہماری موجودہ نسل بہت سے معاملات میں اپنے بزرگوں سے آگے ہے ۔ یہ نسل جھوٹ بہت کم بولتی ہے ۔ مَیں نے بہت سے نوجوانوں کو دیکھا ہے کہ جب سروس جائن کرتے ہیں تو نہ رشوت لیتے ہیں اور نہ ہی جھوٹ بولتے ہیں، لیکن آہستہ آہستہ ہمارا کرپٹ سسٹم اُن کی صلاحیتوں کو زنگ آلود کرنا شروع کر دیتا ہے اور وہ سسٹم کا حصہ بن جاتے ہیں۔

بیرون ملک ہمارے نوجوان جس اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں، اُسے دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔ ہمارے تعلیمی معیار میں بہت سے نقائص ہیں، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارے بہت سے نوجوان اب پرانے اور فرسودہ نوٹسوں سے امتحانات کی تیاری نہیں کرتے اور انٹرنیٹ سے جدید معلومات سے بھرپور استفادہ کرتے ہیں۔ عنقریب الیکشن متوقع ہیں۔ امید ہے کہ ہمارے تعلیم یافتہ نوجوان ان انتخابات میں بھرپور کردار ادا کریں گے اور ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایسے امیدواروں کا چناو¿ کریں گے جو ملک و قوم کے لئے بہتر ثابت ہوں اور ملک کو آگے لے کر جانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ تعلیم یافتہ نوجوان عوامی شعور کی بیداری میں بھی اہم کردار اد کر سکتے ہیں۔یہ نوجوان سماجی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے کر ایک مثالی معاشرے کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ ظلم اور ناانصافی کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن سکتے ہیں۔ ہم تو ایٹمی صلاحیت اور دفاعی قوت کو ہی اثاثہ سمجھتے ہیں، لیکن اس سے بڑا اثاثہ تو ہماری نوجوان نسل ہے ۔ ایک روشن خیال بین الاقوامی امور پر نظر رکھنے والی تعلیم یافتہ نسل اس ملک کو آگے لے کر جانے کی آخری اُمید ہے ۔

ہم نے نوجوانوں کی بہت بڑی اکثریت کو تنگ نظری کے ایسے جال میں پھنسا دیا ہے جس کی وجہ سے ان کی توانائیاں غلط کاموں میں صرف ہو رہی ہیں۔ وہ فرقہ پرستی، تنگ نظری اور عدم برداشت کی ایسی راہ پر گامزن ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے یہ ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے ، لیکن اب بھی سب کچھ ختم نہیں ہوا۔ امید ابھی باقی ہے ۔ اس نوجوان نسل سے ہمیں امید ہے جو جدید علوم سے آراستہ ہے ، جسے انسانی حقوق سے واقفیت ہے ، جو تنگ نظری کی مذمت کرتی ہے اور عدم برداشت کو ملکی ترقی کے لئے زہر قاتل سمجھتی ہے ۔ جس کی سوچ محدود نہیں، جو انسانی بھائی چارے پر یقین رکھتی ہے ، جو ہر قسم کے نسلی تعصبات سے پاک ہے ، جو ذات، برادری پر یقین نہیں رکھتی اور جو انسانی زندگی کی قیمت اور توقیر سے آگاہ ہے ۔ یہ ایک ایسی نسل ہے جو گاڑی میں سوار ہونے سے پہلے سگریٹ باہر پھینک دیتی ہے تاکہ کسی مسافر کو تکلیف نہ ہو، کسی کے حقوق سلب نہ ہوں۔ بات تو معمولی ہے ، لیکن ایک معمولی سی بات بہت بڑے ارتعاش کا باعث بن جاتی ہے ۔ ایک معمولی سی حرکت اور عمل کی تہہ میں اتنی توانائی پوشیدہ ہوتی ہے کہ جب وہ باہر آتی ہے تو ایٹمی ذرے کی طرح ایک نئی دنیا وجود میں لے آتی ہے ۔ ایٹمی ذرے کی طرح تباہی پھیلانے والی توانائی نہیں، بلکہ خوشحالی لانے والی توانائی، جس سے ہماری نوجوان نسل مالا مال ہے ۔ اس لئے ابھی کچھ بھی نہیں بگڑا، کیونکہ امید ابھی باقی ہے ۔ ٭

مزید : کالم