کراچی امن اور جوڈیشل افسروں کے فرائض

کراچی امن اور جوڈیشل افسروں کے فرائض

سپریم کورٹ نے کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران کراچی کے نوگو ایریاز سے متعلق سندھ پولیس اور رینجرز کی رپورٹ کو ایک بار پھر مسترد کردیا ہے ۔ عدالت نے رپورٹ مرتب کرنے والے پولیس افسر کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور شہر میں سات دن کے اندرتمام نو گو ایریاز ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ رپورٹ ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر بنائی گئی ہے ۔اگر پولیس کہتی ہے کہ نو گو ایریاز نہیں ہیں تو اب جتنے قتل ہوں گے پولیس اپنے خلاف ایف آئی آر کٹوائے۔ انہوں نے کہا کہ فراہم کی جانے والی رپورٹ کاغذی کارروائی اور عدالت کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے،جس روز رینجرز اور پولیس سنجیدگی سے طے کر لے امن ہو جائے گا۔ ایس ایچ اوز گشت کرکے معلوم کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتے کہ لوگ کیسے بھتہ وصول کرتے ہیں۔ایس ایچ او اپنے علاقے میں کرائمز کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ چیف سیکرٹری امن و امان کے ذمہ دار ہیں وہ شہریوں کے لئے تحفظ یقینی بنائیں۔

عدلیہ کی طرف سے امن وامان قائم کرنے کے سلسلے میں یہ حتمی کوشش ہے جس سے شہر کو بدامنی سے پاک کرنے کا اٹل عزم ظاہر ہوتا ہے ، عدالت اپنے اختیارات آخری حد تک استعمال کرنے اور انتظامیہ سے اپنے فرائض ہر ممکن طریقے سے پورے کرانے کے سلسلے میں مضبوط ارادے اور سخت رویے کے ساتھ کام کررہی ہے۔ اس کے بعد ایک ہی صورت رہ جاتی ہے کہ تمام متعلقہ افسر دیانتداری سے کام کرتے ہوئے خود کو ہر طرح کے سیاسی اثرات سے آزاد کرائیں ، جرا¿ت سے کام لیں اور شہر سے نوگو ایریاز ختم کر کے پُرامن اور کمزور شہریوں کی دُعائیں لیں۔ قوم اور ملک کا بہت بڑا کام کرجائیں ، اگر اتنی جرا¿ت اور ہمت ان میں نہیں ہے، جس کا کہ ان کا پیشہ متقاضی ہے تو مستعفی ہو کر گھر جائیں اور یہ کام بہادر اور دیانتدار لوگوں کے لئے چھوڑدیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری نے کراچی میں انتخابات میں ریٹرننگ افسروں کی حیثیت سے ڈیوٹی دینے والے جوڈیشل افسروں سے بھی خطاب کیا ۔ جناب چیف جسٹس نے انہیں تلقین کی کہ وہ بحیثیت ریٹرننگ افسر کسی سیاسی جماعت کا دباﺅ ہر گز برداشت نہ کریں، دھمکیوں کو خاطر میں نہ لائیں۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ پر عوام کے اعتماد نے ہمیں الیکشن کمیشن کی مدد پر مجبور کیا ہے۔الیکشن میں جوڈیشل افسروں کا کردار اِس لئے قبول کیا ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں اور سیاسی رہنماﺅں کا دباﺅ برداشت نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جوڈیشل افسر بطور ریٹرننگ آفیسر کسی طرح کی دھمکیوں اور دباﺅ کو خاطر میں نہ لائیںاور صاف شفاف الیکشن کے لئے تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں اور انصاف پر ڈٹے رہیں،کیونکہ صاف شفاف انتخابات عدلیہ کے لئے بھی بڑا چیلنج ہے۔الیکشن کمیشن اِس بات کا پابند ہے کہ وہ ملک میں صاف شفاف الیکشن کے لئے ماحول بنائے اور سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ کے حق کے لئے اقدامات کرے۔لوگوں کی عدلیہ سے بہت توقعات ہیں میں امید کرتا ہوں کہ آپ اپنے ادارے کی ساکھ کو مزید بہتر بنائیں گے۔ انتخابات ایسے کرائے جائیں کہ کوئی انگلی نہ اُٹھاسکے۔

اِس موقع پر چیف جسٹس نے ریٹرننگ افسروں سے یہ بھی کہا کہ وہ ووٹروںکے لئے تمام سہولتیں فراہم کریں تاکہ وہ بلا خوف اپنے حقیقی نمائندوں کو منتخب کرسکیں۔قانون سازی کرنا اورپالیسیاں بنانا نیک کام ہے اور اس نیک کام کے لئے نیک افراد ہی منتخب ہونے چاہئیں۔تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے۔ تمام ووٹروں کی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی تک رسائی ممکن بنائی جائے۔

ا نتخابات میں ریٹرننگ افسروں کی حیثیت سے فرائض سرانجام دینے والے جوڈیشل افسروں کے لئے جناب چیف جسٹس کی یہ ہدایات بہت بروقت اور موزوں ہیں۔ پولنگ کے روز ریٹرننگ افسر ہی تمام تر ضروری اختیارات کے ساتھ پُرامن ماحول میں ووٹنگ کے عمل کے ذمہ دار ہوں گے۔ پولیس، رینجرز اور حسب ضرورت فوج کی مدد بھی انہیں میسر ہو گی۔ اس میں کچھ شبہ نہیں کہ صاف شفاف انتخابات ہی مستحکم جمہوریت کی بنیاد ہوں گے۔ اس وقت قوم کی تمام تر امیدیں آئندہ انتخابات سے وابستہ ہیں۔ماضی کے تجربات اور میڈیا کے دئیے ہوئے شعور و آگہی کی بدولت یہ بھرپور امید کی جارہی ہے کہ لوگ اس بار پہلے سے کہیں زیادہ تعداد میںاپنے ووٹ کا حق استعمال کریں گے۔ دیانتدار اور اہل امیدواروں کو ہر کہیں زیادہ پذیرائی حاصل ہو گی اور جمہوریت کی ایک بہتر اور صاف ستھری شکل سامنے آ سکے گی، لیکن اس کے لئے ووٹر کو بے خطر اور پُرامن ماحول میں اپنے ووٹ کا حق استعمال کرنے کا موقع ملنا ضروری ہے۔ اگر ایسا نہ ہوسکا تو ملک میں جمہوریت کا عمل سبوتاژ ہو جائے گا ، عوام اس انتخابی عمل اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والی اسمبلیوں سے خوش نہیں ہوں گے۔ دراصل موجودہ انتخابات پوری قوم کے لئے ایک چیلنج اوراس کی تقدیر بننے یا بگڑنے کا موقع ہیں ، جن کا براہ راست چیلنج جوڈیشل افسروں نے قبول کرنا ہے۔ آج پوری قوم اعلی عدالتی اداروں کے آزادانہ اور منصفانہ رویے کی بناپر دل و جان سے ان پر فدا ہے، لیکن عدالتی نظام کے نچلی سطح پر صحیح کام نہ کرنے کی شکایات غریب اور بے بس عوام کو ہرجگہ ہیں۔ اگر جوڈیشل افسر اس چیلنج کا صحیح جواب د ے سکے، تو پھر عدلیہ کا وقار ہر سطح پر بحال ہو جائے گا۔ آئندہ حقیقی عوام دوست حکومتوں کی بناپر عدلیہ کو ضروری سہولتیں فراہم کرکے عوام کے عدالتی مسائل مستقلاً حل کرنے کا انتظام بھی ہو سکے گا۔

اس وقت ریٹرننگ افسروں کے سامنے فوری اور ضروری کرنے کا کام ووٹروں کو امیدواروں کے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی تک رسائی دینا ہے، تاکہ مہیا کی گئی غلط معلومات کے خلاف اعتراضات جمع کرائے جاسکیں اور غلط امیدوار الیکشن کمیشن کی چھلنی سے چھن کر انتخابی عمل سے باہر ہوسکیں۔

پولنگ کے روز امن و امان قائم رکھنے کے علاوہ پولنگ سٹیشنوں پر بیلٹ باکسز اور بیلٹ پیپرز کا بروقت پہنچنا۔ صحیح مواد کا صحیح جگہ پہنچنا، عملے کی حاضری اور غیر جابنداری کو یقینی بنانا اور تمام قواعد پر سختی سے عمل کرانا ریٹرننگ افسروں کی ذمہ داری ہوگی۔ تمام انتخابی حلقوں پر الیکشن کمیشن کے ارکان اور اِسی سطح کے دوسرے بڑے افسروں کے تیزرفتاری کے ساتھ دورے تمام کام کی نگرانی کے لئے ضروری ہوں گے، جس طرح کراچی میں پولیس ، رینجرز اور دوسرا انتظامی عملہ سیاسی جماعتوں کے منظم مسلح گروہوںکی موجودگی میں اپنے فرائض سرانجام دینے میں خود کو بے بس محسوس کررہا ہے اس طرح کی صورت حال جوڈیشل افسروں کو پولنگ کے روز ملک کے مختلف دوسرے حصوں میں بھی پیش آ سکتی ہے۔ ماضی میں یہ چلن رہا ہے کہ اگر بعض گروہوں کی طرف سے بیلٹ باکس اُٹھانے، ہلڑ بازی کرنے ، فائرنگ کی آڑ میں مرضی کے انتخابی نتائج حاصل کرنے کی کوششوں کی انتظامیہ کی طرف سے کوئی مزاحمت نہیں کی گئی، جو ہو گیا سو ہو گیا پر عمل کیا گیا، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں غیر حقیقی لوگوں کو عوام کے منتخب نمائندوں کے دعوی کے ساتھ اسمبلیوں میں پہنچنے کا موقع مل گیا ۔ اس کے بعد ان کا یہی رویہ پانچ سال تک حلقے کے عوام اور پوری قوم نے برداشت کیا۔

دہشت گردی اور بدامنی کی انتہاﺅں کو برداشت کرنے والی یہ قوم اب انتخابات میں کسی طرح کے تشدد کو برداشت نہ کرنے کے عزائم کے ساتھ آگے آرہی ہے۔ اب کمزوروں کو پولنگ کے روز دبانا آسان نہیں ہوگا۔ انتخاب میں سرخرو ہونے والوں کے لئے گزشتہ پانچ سال تک لوٹ کھسوٹ کے جس قدر وسیع مواقع میسر رہے ہیں ، ان کو دیکھتے ہوئے بھی فریقین سے اب کوئی بھی اپنے ساتھ دھاندلی برداشت کرنے کو تیار نہیں ہو گا۔ معاملات زیادہ پیچیدہ اور زیادہ نازک ہوں گے۔ ان کا ایک ہی علاج ہے کہ ریٹرننگ افسر اور ان کا ماتحت عملہ ہر جگہ مکمل غیر جانبداری سے کام لے ۔ اس کی یہ غیر جانبداری فریقین سے ہر کسی کو نظر بھی آئے ۔ فریقین ایک دوسرے سے اُلجھتے اور ایک دوسرے کی شکایات کرنے کا ماحول پیدا کئے رکھتے ہیں ، لیکن جب انہیں انتظامی عملے کی طرف سے جانبداری کی شکایت پیدا ہوجائے تو اس سے اشتعال اور غم و غصے کی انتہائی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے،جس پر قابو پانا انتظامیہ کے قابو سے باہر ہوجاتاہے۔ اگر پولنگ کے دن تمام عملے کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں سخت ہدایات جاری ہوجائیں ۔ ہر پولنگ بوتھ پر کسی شک و شبہ سے صاف شفاف ووٹنگ ہوتی رہے تو پھر مسائل پیدا ہونے کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی۔

امید ہے کہ پاکستان بھر کے جوڈیشل افسر اور انتخابات میں ڈیوٹی دینے والا تمام عملہ جناب چیف جسٹس کے احکامات کی تعمیل کرے گا، پولنگ ڈے بلاشبہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس سے عدلیہ سرخرو ہو کر نکلی تو پھر ہماری موجودہ عدلیہ کا نہ صرف ملکی تاریخ، بلکہ تاریخ عالم میں بھی ایک اہم نام ہو گا۔ قوم اس کے لئے اس ادارے کی ممنون ہوگی ، اور قوی امید ہے کہ اس کے نتیجے میں ہمیں قوم کے حقیقی نمائندے اور ایک حقیقی جمہوریت بھی نصیب ہوجائے گی۔ ٭

مزید : اداریہ