ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے سے باہر نکالنے کے حکومت فوری اقدامات کرے‘سعید احمد بھٹی

ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے سے باہر نکالنے کے حکومت فوری اقدامات کرے‘سعید احمد ...

اسلام آباد(نیٹ نیوز) گزشتہ سال مقامی قرضہ 7.2 کھرب روپے تھا جو کہ اب بڑھ کر 8.7 کھرب روپے ہو گیا ہے اس طرح مجموعی طور پر قرض میں 1.5 کھرب روپے اضافہ ہوا ہے جو کہ تقریبا 20 فی صد بنتا ہے جوکہ ایک لمحہ فکریہ ہے ان خیالات کااظہار تاجروں برادری نے اسلا م آباد چیمبر آف کامرس اینڈمیں ایک اجلاس کے دوران کیا ۔اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے قائم مقام صدر سعید احمد بھٹی نے کہا کہ اندرونی قرضے میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے جس سے ملک کی میکرو اور مائیکرو پالیساں پر منفی اثرات مرتب ہونگے انہوںنے کہا کہ نئی آنے والی حکومت کو ملک کو مذید قرضوں کے بوجھ سے بچانے کے لئے جامع اور ٹھوس حکمت عملی اپنانا ہو گی تاکہ ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے سے باہر نکلا جا سکے۔انہوںنے کہا کہ اندورنی اور بیرونی قرضوں میں بتدریج اضافہ ہو تا جا رہا ہے جو کہ ملک اور نئی نسل کے مفاد میں نہیں ہے۔ سعید احمد بھٹی نے کہا کہ موجودہ مالی سال کا بجٹ کا خسارہ پورا کرنے کے لئے حکومت سٹیٹ بنک اور دوسرے بنکوں مسلسل قرضے لئے رہی ہے اور ان قرضوں سے ملک میں معاشی طور پر استحکام نہیں لایا جا سکتا لہذا حکومت کو چائیے کہ وہ غیر ضروری اخراجات کو کم کرے اور مضبوط معاشی پالیسی اپنائے جس سے مالی خسارہ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

قائم مقام صدر آئی سی سی آئی نے کہا کہ ماہرین اقتصادیات کو چائیے کہ وہ ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے سے باہر نکالنے کے لئے ٹھوس پالیساں مرتب کرے اور جو بھی شعبے اس وقت ٹیکس کے زمرے سے باہر ہیں فوری طور پر انہیں ٹیکس کے دائرہ کار میں لائے جس سے حکومتی رنیو میں اضافہ ہو گا اور قرضوں پر انحصار بھی کم ہو جائے گااس حوالے سے ایف بی آر کو چائیے کہ نادرا اور دوسرے ڈییا بیس رکھنے والے اداروں کے تعاون سے ٹیکس دہندگان کی نشاندہی کرے اور ٹیکس بیس کو وسعت دیکر کے ریونیو کو بڑھائے۔ سعید بھٹی نے کہا کہ مالی خسارہ اور سرکلرڈٹ میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہو چکا ہے جبکہ اندورنی اور بیرونی قرض میں تین گنا اضافہ ہو گیا ہے لہذا آئندہ سال کے بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کو کم کرنے کے لئے خصوصی اقدامات کئے جانے چائیے چونکہ اس وقت ہمارا ملک مذید قرضوں کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔قائم مقام صدر نے کہا کہ ہر سال بجٹ تقریر میں وزیر خزانہ کا بیان ہوتا ہے کہ بڑے بڑے پبلک سیکٹر انٹر پرائزز پر اٹھنے والے اخراجات کو کم کیا جائے گا لیکن ابھی تک اس حوالے سے نہ کوئی پالیسی بنائی گئی ہے اور نہ ہی عملی طور پر کوئی اقدام کیا گیا ہے جس کی وجہ سے قرضوں کی شرح میں اضافہ ہو تا جا رہا ہے لہذا جو بھی حکومتی ادارے نقصان میں جا رہے ہیں ان کی کارکردگی کو بہتر بناکر منافع بخش اداروں تبدیل کیا جائے اور ان پر اٹھنے والے غیر ضروری اخراجات کو کم کیا جائے تاہم حکومت کو چائیے کہ وہ تعلیمی اور صحت کے اداروں کو بہتر بنانے کے لئے اخراجات کرے جس سے عوام کو فائدہ ہو گا ۔ سعید احمد بھٹی نے تجویز دی کہ حکومت کو ریونیو بڑھانے کے لئے دوسرے وسائل کو بھی استعمال میں لائے اور آنے والے بجٹ میں ترقیاتی بجٹ کو کم کرنے کی بجائے اپنے اخراجات کو کم کرے ۔

مزید : کامرس