اقوام متحدہ کشمیر میں بھارتی فوج کے اضافے اور پابندیاں عائد کئے جانے پر مداخلت کر ے؛میر واعط

اقوام متحدہ کشمیر میں بھارتی فوج کے اضافے اور پابندیاں عائد کئے جانے پر ...

                                                             سرینگر (این این آئی) میرواعظ عمرفاروق نے کہا ہے کہ جموں کشمیر میں فوج کی تعداد میں کمی کی بجائے اضافہ کیا گیا ہے، خطے کی 71500 ایکڑ زمین فوج کے قبضے میں ہے، گلمرگ ، ٹنگمرگ ، سونہ مرگ، پہلگام میں فوجی چھاﺅنیاں اور بنکرز موجود ہیں۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری جموںوکشمیر میں بھارت کی جانب سے فوج کی تعداد میں اضافہ کر کے وہاں پابندیاں عائد کرنے پرمداخلت کریں۔ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا ہے کہ جموںوکشمیر دنیا کا سب سے زیادہ فوجی جماﺅ والا علاقہ بن گیا ہے اور بھارت یہاں اپنے ناجائز قبضے کو دوام بخشنے کیلئے ہرگزرتے دن کے ساتھ فوج کم کرنے کی بجائے کسی نہ کسی بہانے اس میں مزید اضافہ کرتا جارہا ہے۔ حریت (ع) چیئرمین نے توسہ میدان کو لیز پر دینے کی مدت میں توسیع کرنے کے منصوبوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت یہاں اپنے فوجی جماﺅ کو جواز بخشنے کےلئے بہانے تلاش کررہا ہے اور یہاں کے اسمبلی میں بیٹھے لوگ بھارت کے ان منصوبوں کی عملدرآمدمیں معاون ثابت ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں صرف توسہ میدان ہی ایک مخصوص علاقہ نہیں ہے جہاں6500 کنال اراضی پہلے ہی فوج کی تحویل میں ہے بلکہ اس کے علاوہ مزید تین ہزار ایکڑزمین اپنے تحویل میں لینا چاہتی ہے جبکہ فوج کی تحویل میں توسہ میدان کی مدت لیز اپریل کے مہینے میں ختم ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر میں اس وقت سرسری اعداد و شمار کے مطابق71500ایکڑ زمین بھارتی فوج کی تحویل میں ہے اور اسکے علاوہ مختلف علاقوں کی زرعی اور باغاتی زمینوں حتیٰ کہ کشمیر کے تمام صحت افزا مقامات بشمول گلمرگ، ٹنگمرگ، سونہ مرگ، پہلگام وغیرہ پر فوجی چھاﺅنیاں اور بنکرس وغیرہ تعمیر کئے گئے ہیں اور صرف گلمرگ میں ہی 180 ایکڑ اراضی پر فوج کا غیر قانونی قبضہ ہے اور اس طرح یہاں کے صحت افزا مقامات کو بھی ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت فوج استعمال میں لاکر ان کی اہمیت اور افادیت کو ختم کررہی ہے ۔حریت(ع) کے چیئرمین نے توسہ میدان اور اس سے ملحقہ زمینوں کو مزید فوج کو لیز پر دیئے جانے کے منصوبوں کیخلاف مقامی آبادی کے مطالبے کی پر زور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ لیز کی توسیع ناقابل قبول ہے اور اس قسم کے اقدامات کی عوامی اشتراک سے بھر پور مزاحمت کی جائیگی۔

مزید : عالمی منظر