مارننگ گلوری کے عملے کے 4ارکان رہا ہوکر کراچی پہنچ گئے

مارننگ گلوری کے عملے کے 4ارکان رہا ہوکر کراچی پہنچ گئے

 کراچی(اسٹاف رپورٹر)لیبیا کے باغیوں سے رہائی پانے والے جہازمارننگ گلوری کے عملے کے 4پاکستانی ارکان سیکنڈ آفیسر مہدی شمسی، نائیک زادہ، محمد ارشد اور آصف حسن ہفتہ کو بخیریت کراچی ایئرپورٹ پر پہنچے جہاں ان کا ارکان کے اہل خانہ سمیت عوام کی ایک بڑی تعداد نے والہانہ استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے عملے کے ارکان نے کہا کہ وہ وطن واپس پہنچنے پر بہت خوش ہیں اور صدر مملکت، لیبیا میں پاکستانی سفارتخانے اور میڈیا کے بہت شکر گزار ہیں جنہوں ان کی رہائی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔جب تک قید میں تھے زندگی کا بھروسہ نہیں تھا۔سیکنڈ آفیسر مہدی شمسی نے کہاکہ قزاقوں کے حملے کے دوران 4 بار موت کو انتہائی قریب سے دیکھا اس لئے اب وطن واپس پہنچنے پر ایسا لگ رہا ہے جیسے نئی زندگی ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوششوں اور قوم کی دعاﺅں سے وطن واپسی ہوئی ہے جس کے لئے ہم ان کے بے حد شکر گزار ہیں۔مہدی شمسی نے اپنی رہائی کو اہل خانہ کی دعاﺅں ،سول سوسائٹی میڈیا اور گورنر سندھ کی مرمون منت قرار دیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید آصف حسن نے کہا کہ وطن واپسی حکومت کی کوششوں سے ملی ہے۔واضح رہے کہ مارننگ گلوری 25 فروری کو تیونس کے لیے روانہ ہوا تاہم جہاز کے مالک کے حکم پر اس کا رخ لیبیا کی طرف کر دیا گیا۔ مارچ کے اوائل میں جہاز خلیج سدرہ پہنچا جہاں لیبیا کے باغیوں نے اس پر قبضہ کرلیا۔ جہاز پر 2لاکھ24 بیرل خام تیل لدا ہوا تھا۔ جہاز پر موجود پاکستانی شہریوں سمیت عملے کے 21 افراد سوار تھے جن کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہو گئے۔امریکی صدر براک اوباما کے حکم پر 16 مارچ کو امریکی فوجیوں نے کارروائی کرتے ہوئے جہاز کو آزاد کرا یا۔ 22مارچ کو مارننگ گلوری کے عملے کو لیبیائی حکام کے حوالے کردیا گیا۔ حکومت اور باغیوں کے درمیان کشیدگی کے باعث جہاز کے عملے کو کئی روز تک لیبیائی حکام نے اپنی تحویل میں رکھا اور یکم اپریل کو پانچ پاکستانیوں کو پاکستانی سفارت خانے کے حوالے کیا گیا۔

مزید : صفحہ آخر