سر حدوں کو محفوظ بنانے کیلئے مظبوط داخلہ اور خارجہ پالیسی ضروری ہے سیاسی عسکری ماہرین

سر حدوں کو محفوظ بنانے کیلئے مظبوط داخلہ اور خارجہ پالیسی ضروری ہے سیاسی ...

                       لاہور(محمد نواز سنگرا) سرحدوں کو محفوظ بنانے کےلئے مضبوط داخلہ اور خارجہ پالیسیوں کا قیام اورامریکی ڈکٹیشن سے نکل کر خطے میں اعتماد بحال کرنا چاہیے ۔ تمام ہمسایہ ممالک کو معمولی کاروائیوں پر تعلقات خراب کرنے کی بجائے تحقیق کر کے غلط فہمیاں دور کرنی چاہیں۔ ان خیالات کا اظہار ملک کے سیاسی اور عسکری ماہرین نے روز نامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔ جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہاکہ کمزور داخلہ اور خارجہ پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کی سرحدیں غیر محفوظ ہوتی جارہی ہیں۔ایرانی اور مغربی سرحد بھی غیر محفوظ ہو رہی ہے جبکہ بھارت بھی کشمیر اور پاکستان میںمیں کاروائیاں کر رہا ہے ۔پاکستان کو آزاد اور خود مختار ملک کی حیثیت سے پالیسیاں خود بنانے اور امریکی ڈکٹیشن سے نکلنا ہو گا۔وفاقی پارلیمانی سیکرٹری رانا افضل خان نے کہاکہ سرحدوں پر چھوٹی چھوٹی کاروائیاں ہوتی رہتی ہیں جس کے رد عمل میں پاک فوج بھی غیر ملکیوں کو جواب دیتی ہے۔جب بھی کوئی ملک سرحدوں کی حفاظت کرے تو مسئلے کی مکمل تحقیق کرنی چاہیے چھوٹی چھوٹی باتوں پر تعلقات خراب نہیں کرنے چاہیں اور ہمسایہ ممالک کو بھی تشدد آمیز کاروائیوں سے باز رہنا چاہیے۔جنرل(ر)راحت لطیف نے کہاکہ پاکستان دشمن قوتیں ہر لحاظ سے پاکستان کو نقصان پہنچانے پر تلی ہوئی ہیںحکومت کو دوستوں اور دشمنوں میں فرق کرتے ہوئے مضبوط پالیسیاں تشکیل دے کر ملکی سرحدوں کو محفوظ بنانا چاہیے۔آئی جی(ر)الطاف قمر نے کہا کہ بھارت نے افغان بارڈر پر 25سفارتخانے کھول رکھے ہیں جن کا مقصد پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے۔ بھارت جان بوجھ کر پاکستان کےخلاف کاروائیاں کرتا ہے جبکہ ایران اور افغانستان دانستہ طور پر پاکستان کے مخالف نہیں ہیں ۔ ہر ملک میں تخریب کار عناصر موجود ہیں جو ملکوں کے درمیان تعلقات خراب کرنا چاہتے ہیں جبکہ حکومتوں کو ان عناصر سے نمٹتے ہوئے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مستحکم بنانے چاہیں۔

مزید : صفحہ آخر