نوجوانوں کو آگے لایا جائے :بلاول بھٹو کوپارٹی رہنماؤں کی تجویز

06 اپریل 2014 (07:19)

لاہور( شہزاد ملک) پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو فعال کیا جائے اور پارٹی میں چالیس سال تک کی عمر کے ورکروں کو آگے لا کر انہیں عہدے دئیے جائیں اور یوتھ کی ایک بھرپور ٹیم پارٹی کے سرپرست اعلی بلاول بھٹو زرداری کو دی جائے ‘ یوتھ کو متحرک کرنے اور پیپلز پارٹی میں فعال کردار ادا کرنے کے لئے مختلف یونیورسٹیز سے تعلق رکھنے والی یوتھ کی بلاول بھٹو سے بلاول ہاؤس میں ملاقاتیں کروائی جائیں ۔ ذرائع کے مطابق یہ تجاویز پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کو دی گئیں ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں چودھری اعتزاز احسن نے کہا کہ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ یوتھ کو زیادہ سے زیادہ متحرک کیا جائے اور یوتھ کو ہی پارٹی کی پی پی پی کو فعال بنانے کے لئے نمایندگی دی جائے اس وقت (پی پی پی پی) چار پی پاکستان پیپلز پارٹی پارلمنٹیرین فعال کام کررہی ہے لیکن پی پی پی کو بھی بھرپور فعال کرنے کی ضرورت ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ یوتھ کی ایک ایسی ٹیم تیار کی جائے جس میں چالیس سال کی عمر سے زیادہ کے نوجوان نہ ہوں وہ ٹیم بنا کر بلاول بھٹو کے سپرد کی جائے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس موقع پر سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ یوتھ کو پیپلز پارٹی کی طرف مائل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ پارٹی کے سنئیر راہنما پہلے اپنے بچوں کو آگے لائیں اور انہیں پارٹی کی یوتھ میں کام کرنے کا موقع دیں تاکہ دوسرے لوگوں کے لئے بھی ہم ایک مثال بن سکیں جس پر شرکاء نے کہا کہ ہم سب آپکی بات سے متفق ہیں اگر ہم اپنے بچوں کو آگے لائیں گے تو تب ہی یوتھ بھی آئے گی اور ہمارے پاس بلاول کی شکل میں یوتھ کا ایک بہترین لیڈر موجود ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان نے کہا کہ پنجاب کو فعال بنانے کے لئے قائدین کو باری باری اور وقفے وقفے سے پنجاب کے دورے کرنے چاہئے اور اس دوران بلاول ہاؤس کو اوپن ہاؤس کا درجہ دیکر عوام الناس کے ساتھ ملاقاتیں کی جائیں جس سے پارٹی کو بے پناہ فائدہ ہو گا اور یونیورسٹیز کے طلباو طالبات کے وفود بنا کر انکی بلاول ہاؤس لاہور میں بلاول بھٹو سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کرنا چاہئے تاکہ یوتھ کو بھی بلاول بھٹو کے وثیرن سے متعلق آگاہی مل سکے ۔ذرائع کے مطابق سی ای سی کے شرکاء کو بتایا گیاکہ لاہور کی بہترین اور بڑی یونیورسٹیز کے دعوت نامے بلاول بھٹو کو موصول ہوئے ہیں جس میں انہوں نے خود اس خواہش کا اظہا ر کیا ہے کہ بلاول بھٹو ہماری یونیورسٹیز کا دورہ کرکے خطاب کریں لیکن سیکورٹی وجوہات کی بناء پر بلاول بھٹو کو وہاں نہیں جانے دیا جا رہا ہے تاہم جہاں تک ان سٹوڈنٹس کی بلاول ہاؤس میں ملاقاتوں کا تعلق ہے تو اس پر کام کیا جائے گا ۔

مزیدخبریں