یمن میں جاری خانہ جنگی کے پاکستانی معیشت پر اثرات!

یمن میں جاری خانہ جنگی کے پاکستانی معیشت پر اثرات!

یمن میں جاری خانہ جنگی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے کراچی اسٹاک ایکس چینج کو اپنی لپیٹ میں لے لیاجس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کی جانب سے فروخت کے دباواورپرافٹ ٹیکنگ کے باعث مندی کی بڑی لہر رونما ہوئی جس سے کے ایس ای 100 انڈیکس کی 30000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد بھی گرگئی۔مارکیٹ پہلے ہی غیرملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے سرمائے کے انخلا اور لوکل فنڈز کی جانب سے بڑے پیمانے پر فروخت کے باعث دباؤ کا شکار تھی، موڈیز کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ مستحکم سے مثبت کیے جانے کے اثرات بھی مارکیٹ میں مندی کا تسلسل ختم نہ کرسکے۔ ماہرین کے مطابق مڈل ایسٹ بحران کی وجہ سے عالمی اسٹاک مارکیٹ اور تیل کی قیمتوں کے خدشات کراچی اسٹاک مارکیٹ پر بھی مرتب ہورہے ہیں جس سے کراچی اسٹاک مارکیٹ میں کئی روز سے جاری مندی کا تسلسل گزشتہ دنوں شدت اختیار کرگیا اور کے ایس ای 100 انڈیکس کی 7 نفسیاتی حدیں بیک وقت گرگئیں جس سے بیشتر کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں کم ہوگئیں اور سرمایہ کاروں کو 1کھرب 31ارب 31 کروڑ 8 لاکھ 25 ہزار 5 روپے کا نقصان ہوا۔جمعہ کوحکومتی مالیاتی اداروں ،مقامی بروکریج ہاؤسزاور دیگرانسٹی ٹیوشن کی جانب سے سیمنٹ،بینکنگ ،توانائی اور فرٹیلائزر سیکٹر میں خریداری کے باعث کاروبارکا آغاز مثبت زون میں ہوا۔قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے حساب سے باٹا پاک کے حصص سرفہرست رہے جس کے حصص کی قیمت 50 روپے کے اضافے سے 3150 روپے اورمری بریوری کے حصص کی قیمت46.01 روپے بڑھ کر 986.84 روپے ہوگئی، نمایاں کمی رفحان میظ کے حصص میں ریکارڈ کی گئی جس کے حصص کی قیمت498 روپے کی کمی سے 9701 جبکہ یونی لیورفوڈز کے حصص کی قیمت299روپے گھٹ کر 8501 روپے ہوگئی، گزشتہ دنوں میں بینک آف پنجاب کی سرگرمیاں 3 کروڑ 9 لاکھ 17 ہزار شیئرز کے ساتھ سرفہرست رہیں جبکہ پاک الیکٹرون کی سرگرمیاں 2 کروڑ 53 لاکھ 34 ہزار500 شیئرز کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہیں۔ جبکہ یمن کی صورت حال سے پاکستانی زرمبادلہ کی ترسیل میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے ۔ مشرق وسطی میں پاکستان کے کردار اور تنازعات زیادہ عرصے تک برقرار رہنے سے زرمبادلہ کی ترسیل پر اثر پڑ سکتا ہے ۔ معاشی ماہرین کے مطابق یمن کی حالیہ صورت حال سے بیرون ممالک سے پاکستان کو بھیجی جانے والی رقومات پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے تاہم پاکستانیوں کی وطن واپسی کی وجہ سے معمولی اضافہ ہوا ہے اگر پاکستان نے یمن کے تنازع میں مثبت کردار ادا نہ کیا اور صورت حال کافی عرصے تک خراب رہی تو بیرون ممالک سے آنے والی رقومات پر اثر پڑ سکتا ہے ۔ معاشی ماہرین کے مطابق بیرون ممالک سے پاکستانیوں نے جولائی سے فروری تک 11 ارب 75 کروڑ ڈالر پاکستان بھیجے جبکہ گزشتہ سال انہی مہینوں کے دوران 10 ارب 24 کروڑ 80 ہزار ڈالر پاکستان بجھوائے گئے تھے ۔ فروری 2015 کے دوران مجموعی طور پر پاکستانیوں نے ایک ارب 39 کروڑ سے زائد کی رقومات پاکستان بھیجی جس میں سعودی عرب سے 45 کروڑ 34 لاکھ ، متحدہ عرب امارات سے 31 کروڑ 65 لاکھ جبکہ مشرق وسطی کے دیگر ممالک سے 16 کروڑ 62 لاکھ 60 ہزار ڈالر پاکستان کو بجھوائے گئے ۔ حالیہ سال کے لئے حکومت نے 16 ارب 70 کروڑ سے بیرون ممالک سے ترسیلات زر کی وصولی کا حد مقرر کی اہے معاشی ماہرین کے مطابق سعودی عرب اور یمن کے درمیان کشیدگی دونوں ممالک کا داخلی مسئلہ ہے اور اس سے پاکستان کی معیشت پر تاحال کوئی اثرات مرتب نہیں ہوئے ہیں جبکہ پاکستان کی معاشی پالیسیاں بہتری کی طرف گامزن ہیں جنہیں عالمی تجارتی تنظیم نے سراہا ہے۔ریگولیٹری فریم ورک کی بہتری کے لیے حکومت موثر حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہے، حکومت پاکستان کے تجارتی مفادات کو تحفظ دینے اور تاجروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی دینے کے لیے پر عزم ہے ڈبلیو ٹی او کے ممبران ممالک نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ نامساعد حالات کے باوجود پاکستان کی معیشت بہتری کے راستے پر گامزن ہے اور حکومت کی طرف سے دہشت گردی اور تونائی کے بحران کے خاتمے کے بعد معیشت میں مزید بہتری اور ترقی کے امکانات روشن ہیں، ممبرممالک نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے تحت بیرونی فنڈ کے سہولتی پروگرام کے کامیاب نفاذ پر پاکستان کوسراہا ہے، اس پروگرام کے تحت پاکستان نے سہ ماہی جائزے کامیابی سے مکمل کر لیے ہیں اور چھٹے جائزے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے پاکستان کی تجارتی پالیسی کا نظرثانی اجلاس 24 مارچ کو جنیوا میں ہوا جس میں ڈبلیو ٹی او کے ممبران ممالک نے بھی شرکت کی، پاکستانی وفد نے سیکریٹری تجارت کی قیادت میں ڈبلیو ٹی او کے اجلاس میں شرکت کی ورلڈ بینک کی بزنس رپورٹ پر ڈبلیو ٹی او کے ممبران ممالک نے پاکستان کو مزید اصلاحات پر زور دیا ہے جن میں سرخ فیتے میں کمی اور کاروبار دوست پالیسیوں کا فروغ شامل ہے پاکستان کی کرنسی مستحکم ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں جبکہ جی ڈی پی کی شرح میں بھی بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔جبکہورلڈ بینک نے پاکستان کے لئے آئی بی آر ڈی امداد بحال کرنے پر رضا مندی کا اظہار کر دیا۔ آئی بی آر ڈی ان منصوبوں میں دی جاتی ہے جن میں مارکیٹ ریٹ پر قرضے دیئے جائیں۔آئی بی آر ڈی کی امداد گذشتہ ایک دہائی سے بند تھی۔زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور قرضے میں اضافے کی وجہ سے آئی بی آر ڈی کی امداد بند تھی۔اس بحالی سے ورلڈ بنک کی سالانہ امداد میں سالانہ پچاس کروڑ ڈالر اضافے کا امکان ہے،ورلڈ بینک کا نجی شعبے کے لئے قرضہ آئی ایف سی کے ذریعے اسی کروڑڈالر سالانہ تک پہنچ سکتاہے۔ورلڈ بینک کے اس وقت پاکستان میں چارارب چالیس کروڑڈالر کے چوالیس امدادی منصوبے چل رہے ہیں۔کے پی کے اور فاٹا کی بحالی کے لئے ایک سو پچہترملین ڈالر کا ایک فنڈ بنک کی نگرانی میں چل رہا ہے،مالی سال دو ہزار چودہ میں بنک پاکستان کودوارب چودہ کروڑ ڈالر کی امداد دے رہا ہے۔جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو 49 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سے زائد کی چھٹی قسط جاری کر دی ہے۔اسٹیٹ بینک کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کو مجموعی طور پر 49 کروڑ 90 لاکھ 49 ہزار روپے کی قسط جاری کی ہے۔ واضح رہے کہ آئی ایم ایف کے جائزہ مشن نے پاکستانی معیشت کے چھٹے جائزہ کے بعد پاکستان کو قسط جاری کرنے کی سفارش کی تھی جس کی گزشتہ مہینے آئی ایم ایف کے بورڈ نے باضابطہ منظوری دی جس کے بعد پاکستان کو آئی ایم ایف سے 49 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سے زائد کی قسط موصول ہو گئی ہے۔موجودہ توسیع فنڈنگ پروگرام کی چھٹی قسط ہے۔ اب تک اس پروگرام میں آئی ایم ایف پاکستان کو 3 ارب 70 کروڑ ڈالر سے زائد کی ادائیگیاں کرچکا ہے۔ جمعے کو آئی ایم ایف بورڈ نے پاکستان کے لئے قرض کی نئی قسط جاری کرنے کی منظوری دی تھی۔پاکستان کو قرض کی ہر قسط سے قبل معیشت اور اصلاحات کے بارے میں معلومات آئی ایم ایف جائزہ مشن کو دینا ہوتی ہے۔ جو کہ جائزے کے بعد نئی قسط جاری کرنے کا فیصلہ کرتا ہے پچھلے چند سالوں میں کوئی ایک غیرملکی سرمایہ کار پاکستانی مارکیٹ میں داخل نہیں ہوا ہے، اس کی وجہ کاروبار کے لیے ناسازگار ماحول، حکومتی پالیسیوں کا عدم نفاذ اور سیکیورٹی خدشات ہیں اگرچہ پاکستان میں کاروباری ترغیبات تسلی بخش ہیں، لیکن غیرملکی سرمایہ کار گریز کررہے ہیں، اور صرف موجودہ سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کی جانب سے آپریشنوں کو توسیع دی گئی ہے مرکزی بینک نے حال ہی میں رپورٹ دی ہے کہ 61 کروڑ پچاس لاکھ ڈالرز کی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری موجودہ مالی سال کے پہلے آٹھ مہینوں میں کی گئی۔ جو ملکی جی ڈی پی کے ایک فیصد کے برابر بھی نہیں تھی، اور پاکستان کی صلاحیت اور ماضی کی کارکردگی سے خاصی کم تھی حالیہ براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری خاصی کم رہی جبکہپاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے انڈسٹری کے چیئرمین سہیل پاشا کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں برآمدی سیکٹر کو ترجیحی بنیادوں پر پیداواری عوامل کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے تاکہ پیداواری عمل بلاتعطل جاری رہے اور برآمدات متاثر نہ ہوں مگر بدقسمتی سے یہاں سالانہ 14 ارب ڈالر کمانے والی اہم صنعت کو ضروریات کے مطابق بنیادی ایندھن ہی میسر نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ بجلی کی طویل بندش سے جہاں برآمدی مال کی تیاری متاثر ہوگی وہیں اس صنعت سے وابستہ لاکھوں مزدور بھی بے روزگاری کے باعث فاقہ کشی پر مجبور ہو جائیں گے۔ توانائی بحران کا سب سے زیادہ نقصان صنعتی سیکٹر کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے جبکہ بزنس کمیونٹی اور صنعتکار تمام تر مسائل کے باوجو تمام ٹیکسز باقاعدگی سے ادا کر رہے ہیں۔بجلی حکام بجلی چوری کی روک تھام اور لائن لاسسز کو کنٹرول کرنے کی بجائے بجلی بحران کی شدت کو مزید بڑھانے کا باعث بن رہے ہیں ۔ اگر صنعتوں کو بلاتعطل بجلی سپلائی یقینی نا بنائی گئی تو صنعتی بحران مزید سنگین ہو گااور بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہو گا۔ ملک میں صنعتی سیکٹر تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے جبکہ توانائی کے بحران نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ پاکستان میں شمسی اور ہوائی ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے بے شمار مواقع موجود ہیں مگر ماضی میں انکی طرف خاص توجہ نہ دی گئی۔بجلی کی پیداوار کیلئے متبادل ذرائع کو بروئے کار لا کر توانائی کی قلت پر قابو پایا جا سکتا ہے۔اس وقت دنیا کے 31 ممالک میں 436 ایٹمی بجلی گھروں کے ذریعے تقریباً 370326 میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے مگر ہمارے ملک میں بجلی کی کل پیداوار کا صرف 1.7 فیصد ایٹمی ذرائع سے پیدا کی جاتی ہے۔ہائیڈرو پاور جنریشن بجلی پیدا کرنے کا انتہائی سستا ذریعہ ہے اور ملک میں اس ذریعہ سے بجلی پیدا کرنے کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ ہائیڈرو پاور جنریشن کے ذریعے صرف خیبر پختونخواہ میں پچاس ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے مگر اس کے لئے حکومت کوچھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈیم تعمیر کرنا ہوں گے۔ حکومت سے بجلی پیدا کرنے کیلئے روایتی اور مہنگے تھرمل پاور جنریشن پر انحصار کم کر کے ہوائی، شمسی اور ہائیڈل جیسے دیگر متبادل ذرائع اختیار کرے تاکہ ملک میں وافر مقدار میں بجلی میسر ہو اور صنعتی عمل بلا تعطل جاری رہے۔ اسوقت ملک میں معاشی پالیسیوں بنیادی تبدیلیوں کی اشد ضرورت ہے حکومت دہشت گردی کے خلاف شروع کی جانے والی جنگ کی طرح ایسی اقتصادی حکمت عملی وضع کرے جس سے صنعتوں کا پہیہ چالو رہے مزدوروں کو روز گار ملتا رہے ا ور مہنگاہی کے بوجھ تلے دبے عوام کو ہمہ جہتی معاشی اسودگی ملے کرپشن اوربد امنی کیوجہ پاکستان معاشی طور پر بہت کمزور ہو چکا ہے ملکی معیشت کو مضبوط اورقوم کے مستقبل کو روشن نبانے کیلئے صنعتی اداروں کو انکی ضرورت کے مظابق بجلی اور گیس کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تو ملک انشاء اللہ بہت جلد پھر سے ترقی اور خوشحال کی راہ پر چل پڑے گا

مزید : ایڈیشن 2