معاہدے کی عدم پاسداری پر جوہری سرگرمیاں جاری رکھنے کیلئے آزادہونگے: ایران

معاہدے کی عدم پاسداری پر جوہری سرگرمیاں جاری رکھنے کیلئے آزادہونگے: ایران

تہران (این این آئی) ایران کے وزیر خارجہ جاوید ظریف نے کہا ہے کہ ایران مغربی طاقتوں کی جانب سے معاہدے کی پاسداری نہ ہونے کی صورت میں اپنی جوہری سرگرمیوں کو دوبارہ شروع کرنے کے قابل ہوگا،ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے معاہدہ طے پاگیا تو اس کے ساتھ ہی ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف سلامتی کونسل میں موجود قراردادیں اور اس پر یورپی یونین اور امریکہ کی جانب سے عائد پابندیاں غیر موثر اور ختم ہو جائیں گی۔ایک ٹی وی انٹر ویو میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو معاہدے میں شامل تمام فریقین اس پر عمل کرنے کی ذمہ داری سے الگ ہو سکتے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ حتمی معاہدے پر اتفاق رائے کے لیے مقرر کی گئی ڈیڈ لائن سے قبل تک عبوری معاہدے کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ یاد رہے اگر عبوری معاہدے کو حتمی معاہدے میں تبدیل کیا جا سکا تو ایسی صورت میں ایران جوہری بم بنانے کی صلاحیت کے لیے کوششوں کو آگے نہیں بڑھا سکے گا۔ تاہم خود پر عائد پابندیاں ختم ہونے کی صورت میں وہ اپنے بینک اکاؤنٹس اور تیل کی مارکیٹ تک رسائی بھی حاصل کر سکے گا۔ایرانی وزیرِ خارجہ نے اپنی گفتگو میں بتایا کہ اگر مغربی ممالک کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے معاہدہ طے پاگیا تو اس کے ساتھ ہی ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف سلامتی کونسل میں موجود قراردادیں اور اس پر یورپی یونین اور امریکہ کی جانب سے عائد پابندیاں غیر موثر اور ختم ہو جائیں گی۔یاد رہے کہ چھ عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق عبوری معاہدہ گذشتہ جمعرات کو سوئیٹزرلینڈ میں طے پا یا تھا ۔

مزید : عالمی منظر