اب اس خوفناک تصادم کو کون روک سکتا ہے؟

اب اس خوفناک تصادم کو کون روک سکتا ہے؟
اب اس خوفناک تصادم کو کون روک سکتا ہے؟

  

عثمانی خلافت کے زوال میں بیسویں صدی کے ایک انگریز فوجی کرنل لارینس نے عرب دنیا میں اپنی کامیاب جاسوسی سے جو زہر پھیلایا تھا، وہ کام کر گیا، عالم اسلام کے اتحاد اور طاقت کی علامت اور سہارا خلافتِ اسلام تاریخ میں گم ہو گئی، مگر عرب ترک عداوت امت مسلمہ کے جسم کے لئے رستا ہوا ناسور بن گیا جو آج تک مندمل نہیں ہو سکا، یہ ناسور خلافت کے زوال سے کسی طرح کم نہ تھا، بیکار اور بے اثر عرب قوم پرستی نے عربوں کو تو کچھ بھی نہ دیا، بلکہ الٹا نقصان بھی پہنچایا، شریف مکہ عرب دنیا کا شہنشاہ نہ بن سکا، بلکہ اس کی ہاشمی اولاد کو عراق اور شام کی حکمرانی کے جو جھانسے انگریزی سامراج نے دیئے تھے ، وہ بھی رسوائی کا سامان بن گئے، لیکن عرب، ترک دشمنی اور بدگمانی نے نہ صرف عربوں اور ترکوں کو نقصان پہنچایا، بلکہ پوری اسلامی دنیا کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا، اسلامی دنیا بھی مختلف قومیتوں میں بٹ کر رہ گئی، عرب دنیا کو بھی مغرب کے صلیبی سامراجیوں نے چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کر دیا، یہ طوائف الملوکی آج تک آپس میں دست و گریبان ہے اور عرب لیگ کے قیام کے باوجود بھی عرب دنیا کے اتحاد کا خواب پورا نہیں ہو سکا، حتیٰ کہ سیاسی مسائل کے حل کے لئے عرب لیگ تو متفقہ اجلاس منعقد کرنے سے بھی عاجز نظر آتی ہے۔

1967ء کی عرب، اسرائیل جنگ میں مصر کو جو شکست ہوئی تھی، اس پر اسرائیل کے دہشت گرد وزیراعظم ڈیو بن گوریان نے لندن میں ایک یہودی اکٹھ میں ڈینگ مارتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے عربوں پر اس جنگ میں جو وار کیا ہے، اس کے بعد وہ سنبھل کر متحدہ شکل میں اسرائیل کے لئے خطرہ نہیں بن سکیں گے! اسی اجلاس میں بن گوریان نے پاکستان کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ یہ نام نہاد نظریاتی ملک اسرائیل کے لئے خطرہ رہے گا، مگر اس کا راستہ بھی جلد بند ہونے والا ہے! چنانچہ صرف تین سال بعد 1970ء میں پاکستان ٹوٹ گیا!

بیسویں صدی عیسوی کے شروع میں کرنل لارینس کے بوئے ہوئے زہر نے نہ صرف یہ کہ عربوں اور ترکوں کو ایک دوسرے سے بدگمان اور مستقل دشمن بنایا، بلکہ مسلمانوں کے اتحاد اور رعب کے مرکز و محور عثمانی خلافت کے زوال کا سامان بھی کر گیا! عرب قوم پرست آج بھی ترکوں کو ایک سامراجی قوت سمجھتے ہیں، جس نے عربوں کو کئی صدیوں تک اپنا غلام بنائے رکھا اور ان پر ظلم کرتے رہے! بالکل وہی بات جو آج ہمارے برادر مسلمان ملک بنگلہ دیش کے مکتی باہنی زدہ بنگالی قوم پرست اپنے دل میں لئے پھرتے ہیں! چلئے یہ تو بیسویں صدی عیسوی کے ایک انگریزفوجی جاسوس کرنل لارینس کے ’’کارنامے‘‘ ہیں، جو آج بھی اسلامی دنیا کو کچوکے لگاتے رہتے ہیں اور ہمیں اپنے کئے کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے،مگر اب ذرا بات ہو جائے اکیسویں صدی عیسوی کے انگریز جاسوس کی جو گزشتہ دس سالوں میں اپنا کام کر چکا ہے، اگرچہ اس کا تقرر کرنے والی اصل اتھارٹی اکیسویں صدی عیسوی کے صہیونیت زدہ سب سے بڑے صلیبی جارج بش نے یہ کہہ کر اپنے مقرر کردہ جاسوس کو واپس بلا لیا ہے کہ ٹونی بلیئر نے مشرق وسطی ناٹو (نیٹو) افواج کی خدمات انجام دینے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوا، اس لئے اسے واپس بلا لیا جائے؟

آپ جانتے ہیں کہ کہنے کو تو ٹونی بلیئر برطانیہ کا ایک سابق وزیراعظم ہے، مگر حقیقت میں ٹونی بلیئر ایک ایسے مذہبی جنونی کا نام ہے، جس نے اپنا آخری الیکشن اپنے آقا جارج ڈبلیو بش کی طرح یورپ کا سب سے بڑا صلیبی ہونے کے اشارات سے جیتا تھا، یہ وہی صلیبی ہے، جس نے یہ قسم کھائی تھی کہ براعظم یورپ میں کوئی مسلمان بن کر حکومت نہیں کرنے پائے گا، اس لئے بلکان میں البانیہ، بوسنیا اور کوسووا اسلامی ملک بن کر آزادی کے ساتھ باقی نہیں رہے گا۔1992ء میں اس یورپی سخت جان صلیبی کے ایماء پر سپین کے شہر میڈرڈ میں مغربی سامراجیوں کی ایک کانفرنس منعقد ہوئی تھی، جس کا خفیہ ایجنڈا اسلام کا راستہ روکنا اور پندرہویں صدی ہجری کو مسلمانوں کی آرزو کے برعکس اسلام کی صدی نہیں بننے دینا تھا، اس کے بجائے اکیسویں صدی عیسوی کو عیسائیت کے غلبہ کی صدی بنانا ہے، اسی صلیبی جذبے کے تحت مشرقی تیمور کے نام سے انڈونیشیا کا ایک ٹکڑا کاٹ کر ایک صلیبی پادری کے لئے ایشیا میں ایک آزاد ملک بنانے میں ٹونی بلیئر نے دیر نہیں لگنے دی تھی!

مگر ٹونی بلیئر کا اصل ٹاسک مشرق وسطیٰ میں ’’نئے لارینس آف عریبیا‘‘ کا کردار تھا، یہ ٹاسک اسلامی دنیا میں ہر قیمت پر اور ہر حال میں بدامنی اور جنگ جاری رکھنا ہے، جیسا کہ ایک صہیونیت زدہ امریکی صحافی کی وصیت ہے، لیکن نئے مغربی جاسوس کا خیال یہ تھا کہ یہ بدامنی اور جنگ مذہبی فرقہ پرستی کی بنیاد پر زیادہ موثر اور دائمی ہو سکتی ہے اور اس کی بہترین صورت شیعہ سنی تصادم ہے، مغرب کے صلیبی سامراجی یہ نسخہ پہلے بھی آزما چکے ہیں اور اس کے نتائج بڑے ہی تسلی بخش رہے تھے، ترک فوجیں جب مشرقی یورپ پر قابض ہو رہی تھیں اور ویانا کا محاصرہ کر چکی تھیں تو ایران کے صفوی حکمرانوں کو صلیبیوں نے شہ دے کر ترکوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے پر آمادہ کر لیا تھا، نتیجہ سب نے دیکھ لیا ہے! ٹونی بلیئر یہی آگ بھڑکانے کے لئے چنگاریاں پھینکتا رہا ہے جو اب شعلوں میں تبدیل ہو رہی ہیں اور ان شعلوں پر اگر ایرانی تیل پڑ گیا تو یہ تمام اسلامی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گی، ان سے خود ایران بھی نہیں بچ سکے گا، ایسے میں ساری اسلامی دنیا ایران سمیت راکھ کا ڈھیر بن جائے گی، جس سے فائدہ صرف عالمی صہیونیت اور مغرب کے صلیبی سامراجیوں کا ہوگا، اس راکھ پر اسرائیل کے صہیونی مسلم دنیا کی تمام راکھ پر بشمول ایران، شیعہ سنی پر قابض ہو جائیں گے!

حجاز کے پہلو میں یمن کے حوثیوں نے جو بغاوت شروع کر رکھی ہے، اس کا اصل محرک ٹونی بلیئر کی ریشہ دوانیاں ہیں، داعش بھی مغربی سامراجیوں کا بغل بچہ اور اسی انگریز جاسوس کا پروردہ ہے جو بیک وقت ایران اور سعودی عرب کا دشمن بنا ہوا ہے، لیکن اصل میں اس کا ہدف بھی اسلامی دنیا میں فساد اور بدامنی ہے۔ القاعدہ کے اجرتی قاتل بھی یہی کام کرتے پھرتے ہیں، ایسے میں ایران اور سعودی عرب کا تصادم بھی یہی کام کررہا ہو گا، لیکن اسے مسلمان کبھی گوارا نہ کریں گے، حرمین شریفین کا تحفظ اور دفاع ہر مسلمان کا ایمان ہے، اگر بیت اللہ اور حرم نبوی کو کوئی خطرہ ہوا تو پاکستان کے مسلمان کراچی سے حجاز تک اپنے خون کی نہر جاری کر دیں گے، جو سب بدخواہوں کو غرق کر دے گی!

لیکن اس تصادم کو روکابھی جا سکتا ہے، اقبال نے مشرق و مغرب کی سلامتی کے لئے تہران کو مشرق کا جنیوا اور اقوام متحدہ کا مرکز قرار دیا تھا، اب شاید اس کا وقت بھی آ گیا ہے! ایران کے راست فکر دانشور اپنی حکومت کو اس کے لئے آمادہ کر سکتے ہیں، اگر ترکی اور پاکستان بھی اس کارِ خیر میں ایران کا ساتھ دیں تو عالمی صہیونیت اور مغرب کے صلیبی سامراج کے نمائندے ٹونی بلیئر کے اس شیطانی چکر کو ناکام و نامراد بنایا جا سکتا ہے۔

مزید :

کالم -