دہشت گردی کا قلع قمع

دہشت گردی کا قلع قمع

مکرمی! دہشت گردوں کا کوئی مذہب ہے نہ مسلک، بلکہ ان کے قریب سے تو انسانیت بھی نہیں گزری۔ معصوم بچوں کے قتل کو بھی اپنے عقیدے کا حصہ قرار دینے والے ان عناصر سے انسانیت کی کیا توقع رکھی جا سکتی ہے۔آج پوری قوم ان کے خاتمے کے لئے متفق اور متحد ہے اور ان کے خاتمے کے لئے ضرب عضب آپریشن کامیابی سے جاری ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں سے دنیا میں کوئی اچھا پیغام نہیں جاتا، ایسے واقعات سے پاکستانیوں کے غیر محفوظ ہونے کا تاثر ابھرتا ہے۔ لاہور میں چرچوں پر خودکش حملے دراصل پاکستان پر حملے ہیں اور ایسی بھیانک وارداتوں پر قابو پانے کی خاطر قوم کو یک جہت اور متحد رہنا ہوگا۔ حکومت جو بھی جواز پیش کرے، اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرے یا نہ کرے، مگر ہر پاکستانی کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے اور یہ ذمہ داری بوجوہ پوری نہیں ہو رہی۔ دہشت گرد قومی املاک، دفاعی تنصیبات، ملک کو عدم استحکام سے دوچار اور قوم کے اندر نفاق و انتشار پیدا کرنے کے لئے کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں۔ سچ پوچھئے تو یوحنا آباد کے گرجا گھروں پر دہشت گردی بھی قوم کے اندر نفاق پیدا کرنے اور دنیا میں پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش ہو سکتی ہے اور ان سازشوں سے پوری پاکستانی قوم کو متحد ہو کر نمٹنا ہوگا، جس کی خاطر ہر فرد کو صرف اور صرف پاکستانی بن کر اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ دہشت گردوں کے جلد اور مکمل قلع قمع کی خاطر تمام تر مصلحتوں کو پسِ پشت ڈال کر صرف اور صرف قومی مفادات کو پیش نظر رکھنا ہوگا۔(ابوسعدیہ سید جاوید علی شاہ امامی ،امام صاحب سیالکوٹ 0332-8675098)

مزید : اداریہ