حوثی باغیوں کا گورنر ہا ؤس اور سرکاری ٹی وی پر قبضہ ،نشریات بند ،جنگ بندی کی مشروط پیشکش

حوثی باغیوں کا گورنر ہا ؤس اور سرکاری ٹی وی پر قبضہ ،نشریات بند ،جنگ بندی کی ...

 صنعاء،عدن (مانیٹرنگ ڈیسک) یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب اور اتحادی ممالک کے فضائی حملے جاری ہیں۔ صنعاء ، عدن اور دیگر شہروں میں سیکورٹی فورسز اور باغیوں کے درمیان گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔ اْدھر حوثی باغیوں نے عدن میں گورنر ہاؤس پر قبضہ کر لیا ہے۔ شہر میں بجلی کی فراہمی منقطع ۔ سڑکیں تباہ اور کھانے پینے کی اشیاء کی شدید قلت ہو چکی ہے۔ ہسپتالوں میں لاشوں کے ڈھیر لگ گئے۔ سعودی طیاروں کی جانب سے صدر عبدالمنصور ہادی کے حامی فوجیوں کے لئے ہتھیار اور مواصلاتی ساز وسامان گرائے گئے۔ صوبے حضر موت میں مقامی قبائل نے القاعدہ جنگجووں کیخلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق دو ہفتے سے جاری لڑائی میں پانچ سو سے زائد افراد ہلاک اور سترہ سو زخمی ہو چکے ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق یمن کی مدد کے لئے ایک لاکھ پچاس ہزار فوجی اور ایک سو جنگی جہاز مختص کئے گئے ہیں۔ دوسری جانب روس اور ریڈ کراس نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری طور پر سیز فائر کا مطالبہ کیا ہے تاہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدر دینا قعوار نے کہا ہے کہ روس کی جانب سے یمن میں سیز فائر کی قرارداد پر غور کے لئے مزید وقت درکار ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں ریڈ کراس کی کارروائیوں کے سربراہ رابرٹ ماردینی نے کہا ہے کہ طبی عملے کو یمن میں امدادی کارروائیوں کی اجازت نہ دی گئی تو مزید لوگ مر سکتے ہیں کیونکہ زخمیوں کے پاس چند گھنٹے ہیں ،دوسری طرفیمن میں جاری کشیدگی کے دوران حوثی باغیوں کی جانب سے سرکاری ٹی وی کی نشریات بند کر دی ہیں۔تفصیلات کے مطابق یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے سرکاری ٹی وی پر قبضہ کر لیا گیا ہے اور انہوں نے ٹی وی کی نشریات بھی بند کروا دی ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ حوثی باغیوں کی جانب سے سرکاری ٹی وی کی عمارت کو نقصان بھی پہنچایا گیا ہے۔یمن میں سرگرم حوثی باغیوں نے المعلا کے علاقے میں شہری آبادی پر ٹینکوں کے گولے برسادیئے جس کا مقصد پیش قدمی کرتے ہوئے عدن کی بندرگاہ پر قبضہ اور سعودی افواج کا عالمی طورپر بدنام کرناتھا۔العریبیہ نیوزکے مطابق جنوبی شہر عدن سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے بتایا ہے باغیوں کی گولہ باری کے نتیجے میں بچوں سمیت متعدد افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔اس سے پہلے الضالع کے علاقے میں سول ذرائع نے بتایا کہ حوثیوں نے شہر سے اغوا ء کے بعد یرغمال بنائے سات شہریوں کو ہلاک کر دیا تاہم عوامی مزاحمت کمیٹیوں نے شہر کی متعدد کالونیوں کا کنڑول حاصل کر لیا ہے جبکہ حوثی ملیشیا کے ارکان اب بھی شہر کے بعض علاقوں میں موجود ہیں۔ ان گروپوں کو اپنی کارروائیوں کے لئے ایب اور دیگر علاقوں سے مدد مل رہی ہے جبکہ تربیت یافتہ سنائپرز بھی حوثی ملیشیا میں موجود ہیں۔یمن کے حو ثی قبائل نے مذاکرات کی حامی بھر تے ہوئے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب فضائی حملے بند کردے تو وہ جنگ روکنے کیلئے تیار ہیں۔تفصیلات کے مطابق حوثی قبائل کے ایک سینیئر ممبر صالح الصمد نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب یمن پر ہوائی حملے بند کر دیتا ہے تو ہم بھی مذاکرات کرنے کیلئے تیا ر ہیں۔صالح الصمد جو کہ یمنی صدر عبدالرب منصور ہادی کے مشیر تھے انہوں نے بین الاقوامی ادارے رائٹرز کو ایک ای میل میں لکھا ہے کہ یمن کے لوگوں نے ہادی کو مسترد کر دیا ہے کیو نکہ وہ اپنے لوگوں کو اکیلا چھوڑ کر سعودی عرب بھاگ گئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب حو ثیوں کو پسپا کرکے ہادی کو دوبارہ اقتدار میں لانا چاہتا ہے مگر وہ ایک ہی صورت میں مذاکرات پر تیار ہونگے جب یمن کے لوگوں کو عزت دی جائے اور ان پر کیے جانے والے حملوں کو بند کیا جائے۔

مزید : صفحہ اول