تحریک انصاف کی اسملبیوں میں واپسی ،آج مشترکہ اجلاس میں شرکت کا اعلان

تحریک انصاف کی اسملبیوں میں واپسی ،آج مشترکہ اجلاس میں شرکت کا اعلان

اسلام آباد(اے این این،آن لائن ،ما نیٹرنگ ڈیسک)تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جوڈیشل کمیشن کے قیام پر معاہدے کے بعد قومی و صوبائی اسمبلیوں کا گزشتہ آٹھ ماہ سے جاری بائیکاٹ ختم کرنے اور(آج)پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ ثابت کرینگے کہ 70 لاکھ کے قریب جعلی ووٹ ڈالے گئے تھے، میرا ایمان ہے کہ 2015 الیکشن کا سال ہوگا ،این اے 246کے ضمنی انتخابات میں حصہ لینا ہمارا جمہوری حق ہے، میں اب خود کراچی جا رہا ہوں اور شہر کے ہر علاقے کا دورہ کروں گا،الطاف حسین نے جو کرنا ہے کر لیں ، مشترکہ اجلاس میں یمن تنازع کے حوالے سے اپنی جماعت کا موقف پیش کریں گے۔ اتوارکوبنی گالہ میں تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں شاہ محمود قریشی، جہانگیرترین، حامد خان، عارف علوی، شفقت محمود، سرورخان اور دیگرپارٹی عہدیداروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں حکومت کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کے آرڈیننس کے اجرا کے بعد اسمبلیوں میں جانے، یمن میں پاکستان کے کردار سے متعلق پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت اور کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 246 پر ضمنی انتخاب کے سلسلے میں غور کیا گیا۔ اجلاس میں اسمبلی میں واپسی اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیا گیا اورتحریک انصاف کے تمام قومی اسمبلی اراکین کو اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ ہم گزشتہ سال سڑکوں پر اس لئے نکلے تھے کیونکہ 2013 کے انتخابات میں ہمارا مینڈیٹ چرایا گیا تھا اوراب ہم ثابت کرینگے کہ 70 لاکھ کے قریب جعلی ووٹ ڈالے گئے تھے اب جبکہ جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ ہو گیا ہے، اس لئے اسمبلیوں میں واپس جانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ میرا ایمان ہے کہ 2015 الیکشن کا سال ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یمن کا معاملہ پاکستان سمیت پوری اسلامی دنیا پر گہرے اثرات مرتب کررہا ہے، اس لئے تحریک انصاف کی کور کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کی جماعت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کرے گی اور وہ خود پارٹی کا موقف پیش کریں گے۔ ہم اب تک دوسروں کی جنگ میں شریک ہوکر نقصان اٹھا رہے ہیں، سعودی عرب سے تمام مسلمانوں کا خاص لگا ؤہے، بحیثیت مسلمان ہم اپنی جان دے کر اس سرزمین کا دفاع کریں گے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اس معاملے کے پیچھے مسلمانوں کو لڑانے کی سازش ہے کیونکہ دونوں جانب مسلمان ہیں، اس لئے ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم اس آگ میں شامل ہونے کے بجائے اسے بجھانے کی کوشش کریں۔ ہم اسمبلیوں میں جائیں گے اور بھرپور طریقے سے اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ این اے 246 کے ضمنی انتخابات میں حصہ لینا ہمارا جمہوری حق ہے۔ کراچی میں جو کچھ ہوا ایم کیو ایم سے اس کی امید نہیں تھی۔ کریم آباد میں لگائے گئے پی ٹی آئی اے کے کیمپ پر ایم کیو ایم کے کارکنوں نے پلاننگ کے ساتھ دھاوا بولا تھا ہم اس حرکت کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ ایم کیو ایم نے جمہوری پارٹی بننے کا سنہری موقع گنوا دیا ہے۔ عمران خان نے اس موقع پر کراچی میں حلقہ این اے 246 کے ضمنی انتخابات کی مہم کے دوران پیش آنے والے واقعات کی وجہ سے متحدہ قومی موومنٹ پر بھی شدید تنقید کی۔ انہوں نے کراچی کے علاقے عزیز آباد میں پی ٹی آئی کے انتخابی کیمپ پر حملے کو ایم کیو ایم کی دہشت گردی قرار دیا اور کہا کہ اگر ان کے کسی کارکن کو کچھ ہوا تو وہ برطانیہ میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے خلاف مقدمہ درج کروائیں گے۔ انہوں نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں اب خود کراچی جا رہا ہوں اور شہر کے ہر علاقے کا دورہ کروں گا۔ الطاف حسین نے جو کرنا ہے کر لیں۔ لوگ ظلم اور خوف کی سیاست سے تنگ آ گئے ہیں۔

تحریک انصاف

مزید : صفحہ اول