امریکہ،دہشت گردی کے الزام میں گرفتار مسلمان خواتین عدالت میں پیش

امریکہ،دہشت گردی کے الزام میں گرفتار مسلمان خواتین عدالت میں پیش

واشنگٹن (اظہر زمان،بیورو چیف ) حال ہی میں امریکہ میں مزید ’’ اکیلے بھڑیے ‘‘ حکومت کی گرفت میں آ ئے ہیں ۔دہشت گردی کی اصطلاح میں ’’ اکیلے بھیڑیے‘‘ دہشت گرد تنظیموں کے باقاعدہ رکن یا کارندے نہیں ہو تے بلکہ وہ ان کے مقاصد سے اتفاق کر تے ہوئے ان کی تکمیل میں مدد کیلئے اپنے طور ہر کوششیں کر نے میں مصروف ہو تے ہیں امریکی محکمہ انصاف کے مطابق یہ ’’ اکیلے بھڑیے ‘‘ امریکی مسلمان ہیں اور ان کا عموماً بنیادی ملک مشرق وسطیٰ یا جنوری ایشیاء میں ہوتا ہے گزشتہ ڈیڑھ برس میں سے تقریباً 30افراد منظر عام پر آ ئے ہیں ۔چند ہفتے قبل پاکستان سے ایسے ہی اردنی نسل کے امریکی مسلمان فرخ کو گرفتار کر کے امریکی حکام کے حوالے کیا گیا تھا القاعدہ کی صفوں میں شامل ہو کر پاک افغان سرحد پر جنگ میں شریک یہ 29سالہ نوجوان ٹیکساس کا رہائشی تھا نیو یارک کی عدالت میں دہشت گردی کے الزام میں اس کے خلاف مقدمے کی کارروائی شروع ہو چکی ہے ۔اس کے بعد گزشتہ چند دن میں مزید اس نوعیت کی تین امریکی مسلمان خواتین پکڑی گئی ہیں جن پر دہشت گردی کی کارروائیوں میں شرکت کی تیاری کا الزام ہے فلڈ ڈلفیا کی ریاست سے کوئینا تھامسی نامی تیس سالہ مسلمان خاتون کو حراست میں لیاگیا ہے جس نے داعش کی مدد کے لئے شام جانے کی تیاری کر رکھی تھی امریکی محکمہ انصاف کے مطابق اس نے 29مارچ کو استنبول جانے کیلئے ٹکٹ خرید رکھا تھا جہاں سے اس کا سرحد عبور کر کے شام جانے کا ارادہ تھا اس کے پا س ایسی خط و کتابت ملی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس نے شہادت کے ارادے سے نام نہاد ’’ اسلامی ریاست ‘‘ کے جنگجوؤں کی حمایت کیلئے شام جانے کا پروگرام تیار رکھا تھا یہ خاتون اپنے آ پ کو ’’ نوجوان شیرنی ‘‘ کہتی ہے دوروز قبل نیویارک کے علاقے کو ئینز میں دو امریکی مسلمان عورتوں کی گرفتاری بھی عمل میں آ ئی ہے جن کی انٹیلی جنس حکام کافی عرصے سے نگرانی کررہے تھے انٹیلی جنس کے انڈر کور ایجنٹ نے ان خواتین سے تعلق بنا ئے جن کے نام نوئیل ویلنٹائن اور آ سیہ صدیقی ہیں اور ان کے دہشت گردی کے عزائم کے بارے میں معلومات حاصل کیں ان کے پاس سے کیمیائی مواد اور چھو ٹے بم بنا نے کی ترکیب ملی ہیں ان خلاف نیویارک کی عدالت میں مقدمے کا آ غاز کر دیا گیا ہے ۔ مسلم خواتین گرفتار

مزید : صفحہ آخر