تحریک انصاف کے ارکان دوبارہ ’’جعلی اسمبلیوں‘‘ کو رونق بخشیں گے

تحریک انصاف کے ارکان دوبارہ ’’جعلی اسمبلیوں‘‘ کو رونق بخشیں گے

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

  تحریک انصاف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کر لیا ہے جو آج (پیر) یمن کے بحران پر غور کے لئے منعقد ہو رہا ہے، عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ اب ان کی جماعت اسمبلیوں میں جائیگی تحریک انصاف نے اسلام آباد دھرنے کے دوران استعفے دینے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن کوئی رکن استعفے کی تصدیق کے لئے سپیکر کے پاس نہیں گیا، یوں استعفے منظور نہ ہو سکے، صرف ایک مردِ جری مخدوم جاوید ہاشمی نے اسمبلی کے فلور پر استعفے کا ببانگ دہل اعلان کیا، چنانچہ ان کا استعفا منظور کر لیا گیا، ضمنی انتخاب ہوا تو مخدوم نے دوبارہ بطور آزاد امیدوار اسی حلقے سے انتخاب لڑا لیکن ان کے مقابلے میں ملک عامر ڈوگر جیت گئے جن کی حمایت کے لئے عمران خان بنفس نفیس ملتان جلسہ کرنے گئے تھے اور ان کے جلسے میں حبس اور بھگدڑ مچنے سے بہت سے لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، یہی ایک استعفا تھا جو اسمبلی سے منظور ہوا تحریک انصاف کے باقی ارکان استعفے دیکر دھرنے میں بیٹھے رہے یا گھر بیٹھے رہے مگر تنخواہیں وصول کرنے میں انہیں کوئی عار نہیں تھی شاید وہ سمجھتے تھے ’’مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے۔‘‘

ذرا دھرنے کے دنوں میں کنٹینر پر لوٹ جائیں تو کیا کیا القاب ہیں جو اس پارلیمنٹ کو نہیں دیئے گئے، اسے جعلی اسمبلی اور جعلی پارلیمنٹ کہا گیا، اس کے سپیکر کو دھاندلی کی پیداوار کے خطاب سے نوازا گیا، اس کے ارکان میں سے بعض کے نام لے لے کر انہیں کوسنے دیئے گئے، یہ وہ دن تھے جب صبح و مسا بے چینی سے انتظار تھا کہ وزیر اعظم کا استعفا آیا کہ آیا، اب تو ایک ٹیپ بھی منظر عام پر آ گئی جس میں چیئرمین تحریک انصاف اس اامر پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں کہ اچھا ہوا اس طرح پریشر بڑھے گا اور یہ استعفا دے گا، ’’ان‘‘ کی جانب ایک ایسا لفظ بھی پھینکا گیا جو انگریزی زبان میں گالی تصور ہوتا ہے، بہرحال جب مقامی زبانوں میں دوسری گالیاں دی جا سکتی تھیں تو ایک انگریزی گالی بھی زبان سے نکل گئی۔

اب وہی اسمبلی ہے، وہی پارلیمنٹ ہے، وہی عمارت ہے، وہی سپیکر ہے، وہی ایوان ہے ۔کچھ بھی تو نہیں بدلا اسی ایوان میں دوبارہ تحریک انصاف کے مستعفی ارکان رونق افروز ہوں گے، تالیوں کی گونج میں ان کا استقبال ہو گا، وہ بھی یمن کے بحران پر گل افشانی کریں گے مفید مشورے دیں گے، حکومت کو خبردار کریں گے کہ وہ اس بحران میں غیر جانبدار رہے اور فوج بھیجنے سے گریز کرے، ذرا تصور فرمایئے کہ اگر جعلی اسمبلی کے جعلی سپیکر نے ان سب کے استعفے منظور کر لئے ہوتے تو آج حکومت کو تحریک انصاف کے مفید مشوروں سے محروم نہ رہنا پڑتا، لگتا یوں ہے کہ یہ سارا میلہ صرف جاوید ہاشمی کی رکنیت کا کمبل چرانے کے لئے لگایا گیا تھا وہ بھی جذباتی نکلے، باقی ارکان کی طرح چپ سادھے رہتے تو آج ان ہی کی طرح دھوم دھڑلے سے واپس آتے۔

عمران خان نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن بن چکا ہے اس لئے اب وہ اسمبلیوں میں جائیں گے، آپ ذرا غور فرمائیے کہ اگر ارکان کے استعفے اسی وقت منظور کر لئے گئے ہوتے جب انہوں نے دیئے تھے تو آج وہ کیسے واپس جاتے؟ بلکہ استعفوں کی منظوری کی صورت میں تو اب تک ضمنی الیکشن بھی ہو چکے ہوتے اور ممکن ہے بہت سے مستعفی ارکان جاوید ہاشمی کی طرح ہار بھی چکے ہوتے لیکن انہیں شکر گزار ہونا چاہئے ’’جعلی اسمبلی کے جعلی سپیکر‘‘ کا جس نے اپوزیشن ارکان کے دباؤ کے باوجود استعفے منظور نہ کئے حالانکہ قانونی ماہرین کی اکثریت کا موقف ہے کہ کسی بھی رکن کا استعفا اسی وقت منظور متصور ہوتا ہے جب وہ سپیکر کی میز پر پہنچ جاتا ہے۔سپیکر کے پاس استعفے کی نا منظوری کا کوئی آپشن نہیں ہوتا لیکن ’’جعلی سپیکر‘‘ کی داد دینی چاہئے کہ انہوں نے استعفے کی منظوری کو ’’ذاتی شنوائی‘‘ سے مشروط کر دیا نہ مستعفی ارکان ان کے پاس گئے اور نہ انہوں نے استعفے منظور کئے اور اب بقول مولانا فضل الرحمان تحریک انصاف کے ارکان کو ’’گائے کی دم پکڑ کر‘‘ گھر واپس پہنچنے کا بہانہ مل گیا ہے۔

اگرچہ عمران خان نے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کو اسمبلیوں میں واپس جانے کا جواز قرار دیا ہے لیکن دھرنے کے بعد سے اب تک پلوں کے نیچے سے جو پانی بہہ چکا ہے وہ بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے ۔پھر وہ سارے لوگ بھی منظر سے غائب ہو گئے جن کے دم قدم سے دھرنوں کی رونقیں تھیں اور شاہراہ دستور کی شامیں رنگین تھیں، ڈاکٹر طاہر القادری نے 72روز کے بعد اس دلیل پر دھرنا اٹھا لیاکہہ کر ابھی اللہ کی مرضی نہیں ہے کہ حکومت ختم ہو، یہ کہہ کہ وہ بیرون ملک بلکہ اپنے اصل وطن پدھار گئے جس کی شہریت انہوں نے ’’بائی چوائس‘‘ پسند کی، اور ملکہ سے وفاداری کا حلف اٹھایا اب وہ دھرنوں کی تکلیف دہ زندگی سے نجات پا کر کینیڈا میں آرام سے ہیں ،’’رنج لیڈر کو بہت ہیں مگر آرام کے ساتھ ‘‘ اس کے بعد عمران خان کا دھرنا بھی آہستہ آہستہ سکڑ تا رہا۔ یہاں تک کہ اس پر محض دھرنے کی تہمت رہ گئی اور یہ رات کو لگنے والے ایک کلچرل شو کا روپ دھار گیا، عمران خان کو دوبارہ جعلی اسمبلیوں میں جانا مبارک ہو، وہ 2015ء کو انتخابات کا سال قرار دے رہے ہیں، دعا کرنی چاہئے کہ یہ انتخابات پہلے کی طرح ’’جعلی‘‘ نہ ہوں، لیکن سوال یہ ہے کہ انہیں جعلی ہونے سے بچانے کے لئے اب تک کیا کیا جا رہا ہے۔

جعلی اسمبلیوں کو رونق

مزید : تجزیہ