لوگ باربار 'احمقوں' کو ووٹ کیوں دیتے ہیں ؟ماہرین نے معمہ حل کر دیا

لوگ باربار 'احمقوں' کو ووٹ کیوں دیتے ہیں ؟ماہرین نے معمہ حل کر دیا
 لوگ باربار 'احمقوں' کو ووٹ کیوں دیتے ہیں ؟ماہرین نے معمہ حل کر دیا

  

لندن (نیوز ڈیسک) عوام نااہل سیاستدانوں کی نالائقی اور ناکامی کا رونا ہمیشہ روتے نظر آتے ہیں لیکن اس کے باوجود پھر انہیں ہی منتخب کرتے ہیں اور یہ رویہ سمجھ سے بالا تر نظر آتا ہے، لیکن ماہرین نفسیات نے بالآخر نالائق سیاستدانوں کے باربار منتخب ہونے کی وجہ معلوم کرلی ہے۔سب سے زیاد ہ پھانسیاں کس ملک میں دی جاتی ہیں ؟اعدادوشمار سامنے آ گئے، برطانوی اخبار ’’دی گارڈین‘‘ میں شائع ہونے والے مضمون میں ڈین برنیٹ لکھتے ہیں کہ سیاستدانوں کی کامیابی کا راز دراصل ان کی نالائقی میں ہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عوام خود اعتمادی سے بھرپور اور بڑی بڑی باتیں کرنے والوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور ان پر بھروسہ کرتے ہیں۔ سیاستدان حد سے زیادہ خود اعتمادی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اس خود اعتمادی کی وجہ دراصل ان کی کم ذہانت ہے۔ ڈین برنیٹ لکھتے ہیں کہ نفسیات دانوں کے مطابق اگر کوئی شخص عقل و فہم سے عاری ہے تو اس سے زیادہ پراعتماد شخصیت کسی کی نہیں ہوسکتی کیونکہ اس میں اتنی ذہانت بھی نہیں ہوتی کہ وہ اپنی خامیوں کا اندازہ کرسکے۔ جس شخص میں اپنی کمزوریوں اور خامیوں کو سمجھنے کی صلاحیت نہ ہو وہ پراعتماد رویے کا ہی مظاہرہ کرتا نظر آئے گا۔ اس تھیوری کے مطابق سیاستدانوں کی کم ذہانت ہی انہیں حد سے زیادہ پراعتماد اور بڑی بڑی باتیں کرنے والا بناتی ہیں اور ان کی اسی خوبی پر بھروسہ کرتے ہوئے عوام باربار ان کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ پولیٹیکل سائیکالوجی کے ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر کوئی ذہین و فطین شخص سیاست میں آجائے تو وہ بری طرح ناکام ہوجائے گا کیونکہ عوام میں فطری طور پر یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ وہ مشکل حقائق پر بات کرنے والے کو توجہ نہیں دیتے بلکہ بڑے بڑے مسئلوں کے بارے میں عامیانہ باتیں کرنے والوں سے مرغوب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ذہین اور تعلیم یافتہ افراد عام طور پر صدر یا وزیراعظم کے عہدے پر فائز نظر نہیں آتے جبکہ تقریباً ان پڑھ اور ذہانت سے محروم افراد قوموں کی تقدیر کے فیصلے کرتے نظر آتے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر