66روز تک کھلے سمندر میں رہنے والا زندہ کس طرح بچ نکلا؟

66روز تک کھلے سمندر میں رہنے والا زندہ کس طرح بچ نکلا؟
 66روز تک کھلے سمندر میں رہنے والا زندہ کس طرح بچ نکلا؟

  

نیویارک (نیوز ڈیسک) سمندر میں لاپتہ ہوجانے والے ملاحوں کو عام طور پر بھوک پیاس اور شدید موسم کی وجہ سے خوفناک حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن امریکا میں دو ماہ کے لئے کھلے سمندر میں لاپتہ رہنے والے ملاح کی قابل رشک جسمانی و ذہنی صحت نے سب کو حیران کردیا ہے۔37 سالہ لوئیس جورڈن ریاست نارتھ کیرولائنا کے ساحل سے 200 میل دور کھلے سمندر میں 66 دن کے لئے بے یارومددگار اپنی کشتی میں بھٹکتا رہا۔ وہ گھر سے مچھلی پکڑنے کے لئے نکلا تھا لیکن خراب موسمی حالات کی وجہ سے اس کی کشتی کھلے سمندر کی طرف نکل گئی اور دو ماہ سے زائد عرصہ تک کسی کو اس کی خبر نہ ہوئی۔ بالآخر اسے ایک جرمن کشتی نے موت کے منہ سے بچایا اور جب جمعرات کے روز امریکی ہیلی کاپٹر اسے لینے پہنچا تو وہ طویل عرصہ سمندر میں بھٹکنے کے باوجود مکمل طور پر صحتمند اور ہشاش بشاش نظر آرہا تھا۔ پیٹی آفیسر کائلے میکالم کا کہنا ہے کہ جب وہ اسے لینے پہنچے تو اسے جرمن کشتی پر آئے چند گھنٹے ہوئے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خدشہ تھا کہ دو ماہ سے زائد عرصے کے لئے کھلے آسمان تلے رہنے کی وجہ سے اس کی جلد جھلس چکی ہوگی اور وہ بھوک پیاس کی وجہ سے نڈھال ہوگا لیکن وہ خود اعتمادی سے ہماری طرف بڑھا، اس کے چہرے پر ہلکی سے مسکراہٹ تھی اور اس کا جسم غیر معمولی حد تک تندرست تھا۔لوئیس جورڈن کا کہنا ہے کہ وہ لاپتہ ہونے کے بعد صرف مچھلی کھا کر زندہ رہا اور پینے کے لئے اس کے پاس صرف بارش کا پانی تھا۔ وہ کہتا ہے کہ اس نے زیادہ تر وقت اپنی کشتی میں سخت موسم سے بچتے ہوئے گزارا اور ہر وقت دعا کرتا رہتا تھا کہ بارش ہوجائے تاکہ اسے پینے کے لئے پانی میسر آئے۔ اس کی مدد کرنے والے ریسکیو اہلکاروں کا کہنا ہے کہ وہ ایک بھلے مانس جن جیسا ہیں اور اس سے مل کر بہت اچھا محسوس ہوتا ہے۔

مزید : صفحہ آخر