مصطفےٰ کانجو کی فائرنگ سے زخمی ہونیوالے کے اہلخانہ ملزم کے خوف سے گھر چھوڑ کر فیصل آباد چلے گئے

مصطفےٰ کانجو کی فائرنگ سے زخمی ہونیوالے کے اہلخانہ ملزم کے خوف سے گھر چھوڑ ...

 لاہور(کرائم سیل) کیولری گراؤنڈ میں سابق وزیر مملکت کے بیٹے مصطفیٰ کانجو کی فا ئر نگ سے زخمی ہو نے والے نو یں جماعت کے طالب علم 16سالہ حسنین کے گھر والے ملزم کے خوف سے ڈر کر اپنی رہائش گاہ کو تالہ لگا کر فیصل آ باد چلے گئے ہیں ۔ ذرائع کے مطا بق ملزم پارٹی نے کیس کمزور کرنے اور گرفتار ملزم کو جلد ازجلد باہر لانے کے لیے زخمی حسنین کے والد کو بھاری رقم دے کر آبائی گاؤں بھجوا دیا ہے اور مبینہ طور پردباؤ ڈال کر اس بات پرراضی کیا گیا ہے کہ زخمی حسنین یہ بیان دے کہ اسے نہیں معلوم کہ فائرنگ کس نے کی تھی۔ تفصیلات کے مطابق چند روز قبل جنوبی چھاؤنی کے علاقے کیولری گراؤنڈ میں ملزم مصطفیٰ کانجو کی فائرنگ سے قتل ہونے والے زین کے ہمراہ زخمی ہونے والے حسنین کو سروسز ہسپتال میں طبی امداد دی جا رہی تھی۔ زخمی حسنین نے پولیس کو بیان دیا تھا کہ ملزم مصطفی کانجو کی فائرنگ سے زین قتل اور وہ زخمی ہو اتھا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے کیس کو کمزور کرنے اور گرفتار ملزم مصطفی کانجو کو جلد باہر لانے کے لیے مبینہ طور پر زخمی ہونے والے حسنین کے علاج معالجے کا خرچہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ حسنین کے والد ڈرائیور ظہور کو بھاری رقم دی گئی ہے اور دباؤ ڈال کر ظہور کو اس بات پر راضی کیا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو کہے کہ وہ پولیس کودیا ہوا اپنا بیان تبدیل کرتے ہوئے یہ کہے کہ اسے نہیں پتہ کہ فائرنگ کس نے کی۔ ملزم پارٹی نے مبینہ طور پر دباؤ ڈال کر ظہور سمیت تمام اہلخانہ کو ان کے آبائی گاؤں بھجوا دیا اور گھر پر تالے لگے ہوئے ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ظہور نے اپنے زخمی بیٹے حسنین کو یہ بیان دینے کے لیے راضی کر لیا ہے کہ اسے نہیں معلوم کہ فائرنگ کس نے کی تھی اور ملزم کون ہے ۔اس سلسلہ میں ظہور کے محلہ داروں نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمی حسنین کا والد ظہور تقریبا 25سال سے کیولری گراؤنڈ میں ڈارئیوری کر رہا تھا اور اپنے اہل خانہ کے ہمراہ یہاں رہتا تھا، اب وہ ملزم پارٹی کی طرف سے مبینہ طور پر رقم کی پیشکش اور دباؤ کے بعد گھر سے چلا گیا ہے ۔

مزید : علاقائی