نشتر ٹاؤن ،تجاوزات اور بھینسوں کی بھر مار ،انتظامیہ خاموش

نشتر ٹاؤن ،تجاوزات اور بھینسوں کی بھر مار ،انتظامیہ خاموش

 لاہور(جاوید اقبال)صوبائی دارالحکومت کے اہم ترین ٹاؤن نشتر ٹاؤن کو انتظامیہ نے جانوروں کے" باڑوں" اور تجاوزات کی منڈی میں تبدیل کر دیا ہے۔رہائشی آبادیوں میں بھینسیں اور دیگر پالتو جانور رکھنے پر پابندی عائد ہے مگر نشتر ٹاؤن میں یہ پابندی ہوا میں اڑا دی گئی ہے۔افسران کی ملی بھگت سے گوالے اپنی ہزاروں بھینسیں نشتر ٹاؤن میں واپس لے آئے ہیں اور گوالوں کی حویلیاں ایک مرتبہ پھر آباد کر دی گئی ہیں مقامی سماجی ،تاجر اور سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ٹاؤن کی 17کی 17یونین کونسلوں کو بھینسوں کے باڑوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے ۔جس کے بدلے میں ٹی او آر گوالوں سے 30 سے 50ہزار ماہوار نذرانہ وصول کر رہا ہے ۔بھینسیں دن بھر گلیوں ،بازاروں اور چوکوں پارکوں میں دن دھاڑے گشت کرتی نظر آتی ہیں دوسری طرف" تجاوزات" نے پورے ٹاؤن کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس سے بازاروں میں پیدل گزرگاہ بھی بند ہو چکی ہے جبکہ بھینسوں کا مرکز ٹاؤن کی یونین کونسل 138 ، 139،اور 140 ہیں جنہیں بھینسوں کے باعث گندگی عام ہونے سے علاقے میں مچھروں اور مکھیوں کی بہتات ہے جبکہ بھینسوں کے ڈیروں کے باعث ڈینگی مچھروں کا لاروا برآمد ہو چکا ہے ۔ان کے باعث نشتر ٹاؤن کی 60فیصد آبادی" یرقان" کی بھی لپیٹ میں آ چکی ہے یہ انکشاف گزشتہ روز نشتر ٹاؤن کے مختلف علاقوں میں کئے گئے سروے کے دوران سامنے آئے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ نشتر ٹاؤن کو مسلم لیگ (ن) کے اہم رہنما کے عزیز ٹاؤن آفیسر ریگولیشن رانا اشرف عاصم نے اپنی جاگیر بنا کر مسائلستان میں تبدیل کر دیا ہے ۔ضلعی انتظامیہ نے شہر میں رہائشی آبادیوں میں مویشی رکھنے ،ان کا چارہ لانے پر پابندی عائد کر کے دفعہ 144نافذ کر رکھی ہے مگر نشتر ٹاؤن کے ٹی او آر نے یہ پابندی گوالوں سے ماہانہ طے کر کے "ہوا" میں اڑا دی ہے ۔ٹاؤن کی کل 17یونین کونسلوں میں کوئی ایک بھی یوسی ایسی نہیں ہے جہاں غیر قانونی طور پر بھینسیں اور مویشی موجود نہ ہوں ۔بتایا گیا ہے کہ گوالوں سے ماہانہ اکٹھا کرنے کے لیے ٹی او آر نے اپنے کارندے چھوڑ رکھے ہیں جن میں وقار،فیصل اور ملک اہم ہیں ۔رپورٹ کے مطابق نشتر ٹاؤن کی یونین کونسل 138میں بھاگڑیاں چوک ،نقشبندی چوک سمیت سرجنوں علاقوں میں گوالوں نے حویلیوں میں بھینسیں اکٹھی کی ہوئی ہیں اس طرح یو سی 139میں عظمت چوک ،گرین ٹاؤن بازار سمیت 33مقامات پر غیر قانونی طور پر بھینسوں کے ڈیرے ہیں۔یوسی 140میں میلاد چوک ،بھٹہ روڈ ،نواز موڑ ،بسم اللہ کالونی سمیت 51مقامات پر بھینسیں موجود ہیں اس طرح یونین کونسل 143میں بھی مویشی موجود ہیں ۔بتایا گیا ہے کہ یو سی 139میں جاتا گجر ،یاسین گجر ،خانہ گجر سے ٹی او آر 36ہزار ماہوار "نذرانہ" برائے مویشی پالی وصول کرتے ہیں اس حوالے سے گجر جاتا بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ٹی او آر رانا اشرف کو 36ہزار ماہوار بھینسیں رکھنے کی منتھلی ادا کرتا ہے۔شہریوں نے بتایا کہ بھینسوں کی وجہ سے پورا ٹاؤن گندگی میں تبدیل ہو چکا ہے دوسری طرف ٹاؤن میں ہر طرف تجاوزات ہی تجاوزات ہیں ۔عظمت چوک ،مچھلی منڈی ،پہاڑی چوک ،گرین ٹاؤن ،ٹاؤن شپ میں ہر طرف ناجائز تجاوزات قائم ہیں ۔عظمت چوک والی سڑک کو وزیر اعلی نے ایک کروڑ 90لاکھ کی لاگت سے کشادہ کیا مگر بدقسمتی سے ٹی او آر نے تجاوزات قائم کرا کر سڑک کی کشادگی ختم کرا دی ہے جس سے ٹی او آر کا عملہ لاکھوں روپے ماہانہ وصول کرتا ہے۔اس حوالے سے شہریوں نے ٹاؤن مسائلستان بنانے والے ٹی او آر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ انہیں تبدیل نہ کیا گیا تو سڑکوں پر نکل آئیں گے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1