ہٹلر کو مارنے کی کوشش پر بنائی گئی فلم ’’13منٹس‘‘ جرمنی میں ریلیز

ہٹلر کو مارنے کی کوشش پر بنائی گئی فلم ’’13منٹس‘‘ جرمنی میں ریلیز
ہٹلر کو مارنے کی کوشش پر بنائی گئی فلم ’’13منٹس‘‘ جرمنی میں ریلیز

  

میونخ (ویب ڈیسک) اس ماہ جرمنی میں ریلیز ہونے والی ایک فلم میں تاریخ کے اس بڑے سوال کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ’اگر ایسا ہوتا تو کیا ہوتا۔یہ جنوبی جرمنی کے ایک چھوٹے سے شہر کے 36 سالہ بڑھئی جارج ایلزر کی کہانی ہے جو جنگ عظیم دوئم کے اوائل میں اڈولف ہٹلر کو مارنے کے بہت قریب پہنچ گئے تھے۔8 نومبر 1939 کو ہٹلر میونخ کے بیئر ہال میں سالانہ تقریر کرنے والے تھے۔ یہ تقریب نازیوں کی 1920 کی جدوجہد کو منانے کے لیے منعقد کی گئی تھی۔ہٹلر یہاں ہر سال اسی وقت پر تقریر کرتے تھے لیکن اس مرتبہ وہ یہاں سے جلدی نکل کر برلن میں اپنے ملٹری منصوبہ سازوں سے ملنے کے لیے چلے گئے تھے۔ان کے جانے کے 13 منٹ بعد بم چلا جس سے آٹھ افراد ہلاک ہوئے اور عمارت کو بھاری نقصان ہوا۔ جس جگہ ہٹلر کھڑے تھے اس کے اوپر سے چھت بھی گر گئی تھی۔یہ وہ 13 اہم منٹ تھے جن کی وجہ سے اس نئی فلم کو ’13 منٹس‘ ٹائٹل دیا گیا ہے۔ یہ فلم ڈائریکٹر اولیور ہرشبیگل نے بنائی ہے جنھوں نے اس سے قبل 2004 میں ڈاؤن فال اور 2013 میں ڈائنا بنائی تھی۔ہٹلر اس بم سے بچ گئے اور ان کی وجہ سے جرمنی کو مزید پانچ سال جنگ میں جھلسنا پڑا اور یورپ میں یہودیوں کا قتلِ عام ہوا۔تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ ہٹلر کی 1939 میں موت سے جنگ جلد ختم ہو جاتی اور ہولوکوسٹ سے ہونے والی اذیت سے شاید دنیا بچ جاتی۔

مزید : تفریح