حرمین شریفین کے دفاع کے لیے متحد ہیں ، پاکستان کو جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیئے : فاروق ستار

حرمین شریفین کے دفاع کے لیے متحد ہیں ، پاکستان کو جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیئے ...
حرمین شریفین کے دفاع کے لیے متحد ہیں ، پاکستان کو جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیئے : فاروق ستار

  

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماءڈاکٹر فاروق ستار نے قومی اسمبلی میں ا ظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ حرمین شریفین کے دفاع کے لیے ہم متحد ہیں لیکن پاکستان کو یمن جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور یہ تنازعہ دنیا کو تیسری جنگ عظیم کی جانب دھکیل رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس جنگ کا متحمل نہ تو خود مشرق وسطیٰ ہو سکتا ہے اور نہ ہی پاکستان اس کی حمایت کرنے کی پوزیشن میں ہے۔فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ہماری افغانستان اور بھارت کی سرحدیں غیر مستحکم ہیں اور ہمیں یہ سوچنا چاہیئے کہ اگر پاکستان اس جنگ میں شامل ہوا تو اس کے کیا کیا نتائج بھگتنے ہوں گے۔

یمن صورتحال پر پارلیمنٹ میں ڈرامہ ، پاکستان کو جنگ میں ثالثی کرناچاہیئے ، الزامات لگانے والوں نے اپنی اوقات دکھائی : عمران خان

قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان یمن کے معاملے پر سعودی عرب اور یمن کے درمیان امتیاز نہیں کر سکتا۔ہمیں سعودی عرب کی خود مختاری اتنی ہی عزیز ہے جتنی یمن کی ہے۔ہم پہلے ہی سرد جنگ کے نتائج بھگت رہے ہیں اور ہماری قومی پالیسی میں جنگ کی نفی ہونی چاہیئے۔انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ اگر کوئی پڑوسی ملک جنگ کی طرف نکل جائے تو اس کے پیچھے نہیں جانا چاہیئے۔بلکہ ہمیں غیر جانبدار رہنا ہو گا ۔فاروق ستار کی جانب سے کہا گیا ہے کہ حکومت کو کوئی بھی فیصلہ لینے سے قبل ماضی سے سبق سیکھنا ہو گا اور گزشتہ 5 جنگوں کے نتائج سامنے رکھنا ہوں گے۔ایم کیو ایم کے رہنماءکا کہنا تھا کہ حکومت کوئی بھی وقتی فیصلہ نہ کرے اور فیصلہ لینے سے قبل پارلیمنٹ میں اٹھائے گئے سوالات کا جواب دینا ہو گا۔

مزید : اسلام آباد /اہم خبریں