چائے کی پیالی میں طوفان

چائے کی پیالی میں طوفان
چائے کی پیالی میں طوفان

  

نصف صدی سے زائد عرصہ گزرجانے کے باوجود پاکستانی سیاسی نظام اور سیاستدان بھی تک جمہوریت کے ابتدائی درجے پر ہیں۔اس ناپختگی کی وجوہ کیا ہیں یہ ایک الگ موضوع ہے۔کئی عشرے گزر گئے لیکن ابھی تک صرف ایک جمہوری حکومت ہی اپنی آئینی مدت پوری کرسکی ہے۔چلودیر آیددرست آید۔گزشتہ جمہوری حکومت کی آئینی مدت کی تکمیل خوش آئند ہے۔اس کے علاوہ ملک میں سالہاسال سے جاری چند گنی چنی نمایاں سیاسی جماعتیں ہی سیاست کے میدان میں رہیں جس کے نتیجے میں یہ پارٹیاں یعنی پی پی پی اور پی ایم ایل این’’کبھی تسی کبھی ہم‘‘ کے عمل پر کاربند ہیں۔یہ امر لائق تحسین ہے کہ چند سیاسی پارٹیاں پاکستانی سیاسی منظر نامے پر نمودار ہوئی ہیں جن کا شمار بڑی سیاسی پارٹیوں میں کیا جاسکتا ہے۔پی ٹی آئی ان میں سر فہرست ہے۔چونکہ اس پارٹی کی سیاسی عمر کم ہے اس لئے سیاسی ناپختگی اس کے مختلف عوامل سے جھلکتی ہے۔چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنا اس پارٹی کا وطیرہ بن چکا ہوا ہے۔

چند سال قبل اس پارٹی نے ڈی چوک میں آسمان سرپر اٹھا رکھا تھا کہ موجودہ حکومت انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے بر سراقتدار آئی ہے۔سب نے دیکھا کہ اس ڈرامے کا ڈراپ سین جوکہ کھودا پہاڑ نکلا چوہا کے مترادت ہے۔حال ہی میں ایک اور غوغا اس پارٹی کی جانب سے اٹھاہے۔پانامہ پیپرز پرپی ٹی آئی کے چیئرمین نے ایک مرتبہ پھر تحقیقات کا مطالبہ کر ڈالا۔مہذب معاشرے میں حقائق کو تحقیق کے بغیر ایک دوسرے پر الزامات محض پوائنٹ سکورنگ کے لئے نہیں استعمال کیا کرتے۔پانامہ پیپر کا بغور مطالعہ کیا جائے تو کہیں بھی بر سراقتدار نواز شریف اور شہباز شریف کا نام اس میں شامل نہیں۔حسین نواز اور مریم نواز کا ذکر ہے۔کاروباری علم اور تجربے رکھنے والے خواتین و حضرات اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہوں گے کہ آف شور کمپنیاں کاروباری حضرات قائم کرتے رہے ہیں۔یہ قانونی طور پر جائز عمل ہے۔

ان کمپنیوں کے قیام کے کئی قانونی جواز ہیں۔روس اور یوکر ائن جیسے ممالک میں بھی کاروباری حضرات اس قسم کی کمپنیاں بناتے ہیں جن کا مقصد اپنی کمپنیوں کو جرائم پیشہ افراد کے شر سے محفوظ رکھنا اور کرنسی کے لین دین میں موجود قباحتوں سے بچنا ہوتا ہے۔مندرجہ بالاحقائق کا ذکر خود پانامہ پیپر کی وضاحتی نوٹ میں بھی شامل ہے۔حسین شریف نے یہ کمپنیاں کس سرمائے سے بنائیں؟اس کا جواب سٹیل مل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم ہے۔دوسری قانونی حقیقت یہ ہے کہ 180دنوں سے زائد باہر رہنے والے افراد ملکی ٹیکس سے مبرا ہوتے ہیں۔اور اگر کوئی شخص بیرون ملک ایک عرصے سے قیام پذیر ہے تو اس کے کاروباری معاملات کا تعلق اس ملک سے باقی نہیں رہ جاتاہے جس کا وہ اس سے قبل رہائشی تھا۔حسین نواز سال ہا سال سے بیرون ملک مقیم ہیں اور وہاں ان کی کاروباری سرگرمیاں پاکستانی قانون کے تابع نہیں ہیں۔

پرویز مشرف جو کہ وقت کا طالع آز ما تھا سرتوڑ کو ششوں کے باوجود شریف فیملی کے خلاف بدعنوانی ثابت نہ کرسکا۔رہی بات مریم نواز کی تو ان کا عہد ہ کمپنی کی ایک ٹرسٹی کا ہے اور ٹرسٹی کی حیثیت کاروبار میں ایک ایجنٹ کی سی ہوتی ہے۔نہ کہ مالک کی۔اس لئے ملک میں سیاسی انتشار پیدا کرنے کی بے سود کاوشوں سے بہتر ہے کہ ہمارے سیاستدان ملک کی جانب توجہ دیں جو اس وقت تاریخ کے اہم اور نازک موڑ سے گزر رہا ہے۔اس وقت دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ میں برسر پیکار ہے۔ کلائمیٹ چینج ملک کے عوام اور وسائل کیلئے مسلسل منڈلاتا خطرہ ہے۔اس کے علاوہ ملک کی مشرقی سرحد پر تاک لگائے ہوئے دائمی دشمن داخلی وخار جی طور پر ملک کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ہمیں اپنی قوتیں مثبت اور تعمیری پہلوؤں پر صرف کرنی چاہیں نہ کہ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے میں۔کیونکہ بھوتوں کے پاؤں اس وقت باندھے جاتے ہیں جب گھروالوں کے پاؤں آپس میں بندھے ہوں۔

مزید :

کالم -