مرشد العلماء شیخ التحفیظ حافظ نور محمدگورایہ ؒ

مرشد العلماء شیخ التحفیظ حافظ نور محمدگورایہ ؒ
 مرشد العلماء شیخ التحفیظ حافظ نور محمدگورایہ ؒ

  

عظیم دینی شخصیت جامعہ قاسم العلوم حافظ آباد کے بانی مرشد العلماء شیخ التحفیظ حافظ نور محمد ؒ کی ساری زندگی قرآنِ مجید کی تعلیمات کو عام کرنے میں گزری۔ آپ علم و عمل اور زہد و تقویٰ کے پیکر تھے۔ آپ کا تعلق ان علماء حق کے ساتھ تھا، جن کے آباؤ اجداد نے تحریک پاکستان میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ ولی کامل پیر سید عنایت اللہ شاہ صاحب بخاریؒ (گجرات) کی تقریر نے آپ کی زندگی کو بدل ڈالا۔ آپ 1931ء میں ڈھلکے کلاں نزد ٹاہلی گورایہ تحصیل پنڈی بھٹیاں ضلع حافظ آباد میں علاقہ کے با اثر اور بڑے زمیندار حاجی احمد یار کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ کی والدہ ماجدہ بڑی نیک خاتون تھیں۔ برادری کے بزرگ بابا غلام رسولؒ اور بڑے بھائی حاجی میاں خاںؒ کی ترغیب پر 1948ء میں حصولِ تعلیم کے لئے گھر سے نکلے۔کوٹ مومن سے ہوتے ہوئے ریڑ کا بالا ضلع منڈی بہاؤالدین میں مولانا محمد اسماعیلؒ ، حافظ غلام نبیؒ اور مولانا محمد رفیقؒ سے دینی تعلیم حاصل کی۔ پھر راجہ تارڑ اور کو لو تارڈ( ضلع حافظ آباد) میں درویش بزرگ حافظ محمد شریف مارتھؒ اور حافظ محمد حنیفؒ سے قرآن مجید حفظ کیا اس کے بعد مڑھانہ ضلع سیالکوٹ سے دینی رہنمائی لی۔ پھر حافظ آباد شہر میں مدرسہ اشرفیہ قرآنیہ میں شیخ الحدیث مولانا منظور احمد ؒ (جو کہ خیر المدارس ملتان کے استاد تھے) اور استاذ الحفاظ قاری صنعت اللہ صاحب مرحوم اور بابا جی بشیر احمدؒ (جو کہ مولانا اشرف علی تھانویؒ کے مرید تھے) سے تحصیل علم میں فراغت حاصل کی۔ پھر اسی مدرسہ اشرفیہ میں بطور استاد 1954ء میں پڑھانا شروع کیا۔ مسجد طیب نزد ریلوے پھاٹک میں کافی عرصہ پڑھاتے رہے۔

آپ کا روحانی تعلق شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خانؒ صاحب سے تھا۔ سیداحمد حسین سجاد بخاریؒ فاضل لکھنؤ اور حکیم نور احمد یزدانی کے مشورہ سے جامعہ قاسم العلوم کی بنیاد رکھی۔ جامعہ قاسم العلوم کا افتتاح استاذ الحدیث دارالعلوم دیوبند قاضی شمس الدینؒ سے کروایا۔ جامعہ بڑی تیزی سے ترقی اور دینی منازل طے کرتے ہوئے آج ملک اور بیرون ممالک میں معروف ہے۔ جامعہ قاسم العلوم کے فیض یافتہ آج ملک اور بیرون ممالک میں خدمت قرآن میں مصروف عمل ہیں۔حافظ صاحب مرحوم نے اپنے چھوٹے بھائیوں چوہدری شیر محمد گورایہ، چوہدری دوست محمد گورایہ اور اپنی ہمشیرہ کو خدمات کے لئے رہنمائی کی۔ آپ نے اپنی اولاد کی تربیت ایسے خالص مذہبی انداز میں کی کہ اپنے بڑے بیٹے حافظ محمد قاسم گورایہ کو دورہ حدیث شریف قاضی عصمت اللہ صاحب مرحوم، چودھری بشیر احمد گورایہ سے جامعہ محمد یہ قلعہ دیدار سنگھ سے کروایاحافظ محمد قاسم نے 2002ء میں متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے الیکشن میں حصہ لیا اور کشمیری مہاجرین کی کفالت میں پیش پیش رہے چھوٹے بیٹے مفتی محمد طیب کو دورہ حدیث شریف شیخ الحدیث قاری ریاض احمد صاحب دامت برکا تہم فیصل آباد سے کروایا، پھر تخصص کے لئے جامعہ اسلامیہ کلفٹن کراچی بھیجا۔ دونوں بیٹوں نے وفاق المدارس العربیہ ملتان سے نمایاں پوزیشنیں حاصل کیں۔ تیسرے بیٹے محمد طاہر مٹھو کو جامعہ کی خدمت کے لئے مقرر کیا۔تینوں بیٹیوں کو بھی خود حافظ قرآن بنایا۔ آپؒ کے 4پوتے محمد حسان، محمد نعمان، محمد ابوزر، ابوقتادہ اور 4نواسے محمد عمر، محمد معوذ، منیب الرحمن، محمد حنظہ بھی حافظ قرآن بنے جو سب خدمت قرآن میں مصروف ہیں۔

آپؒ نے قرآن مجید کی خدمت 58سال تک کی۔ عہدہ، منصب اور ریاکاری سے ہمیشہ دور رہے۔جوبھی آپ سے ملتا، وہ آپ کا گرویدہ ہوجاتا۔ وعدے کے پکے اور اصولوں پر کار بند رہنے والے تھے۔ حقیقی معنوں میں فنافی القران تھے۔ آپؒ ہمیشہ خالص ایمان اور خاتمہ بالخیر کی دعا کرتے تھے۔ سفر حج میں بیت اللہ اور مسجد نبویؐ میں اپنی قوم کی اصلاح کی دعائیں کرتے رہے۔ بیماری میں صبر کی تلقین اور وفات سے قبل نماز کا تذکرہ کرتے رہے۔ آخر کار اپریل 2014ء بمطابق 30جمادی الثانی 1435ھ علم و عمل کا یہ سورج اپنے لاکھوں شاگردوں اور عقیدت مندوں کو اپنی جدائی کے غم میں روتا چھوڑ کر غروب ہوگیا۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔ آپؒ کی نماز جنازہ فوارہ چوک حافظ آباد میں آپ کے بیٹے مفتی محمد طیب نے پڑھائی۔ جس میں علماء تاجران، صنعت کار، وکلاء اراکین اسمبلی اور انتظامیہ وعدلیہ کے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ جنازہ میں لوگوں کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ فوارہ چوک ، ونیکی چوک، فیصل بازار اور گوجرانوالہ روڈ ریلوے پھاٹک تک صفیں بنائی گئیں۔ شہر کے پرانے قبرستان سائیں حسین شاہ میں دفن کیا گیا۔ حافظ نور محمدؒ کی روشن زندگی ایک مثال تھی۔

آپؒ کا قائم کردہ جامعہ العلوم ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ جس کے سبھی معترف ہیں۔ 2015ء میں جامعہ کی دورہ حدیث شریف کی طالبات نے ضلع میں ٹاپ کرتے ہوئے پنجاب گورنمنٹ کی طرف سے 4لیپ ٹاپ اور 2سولر لیمپ حاصل کئے۔فروری 2017ء میں قاسم العلوم کے طلباء نے مقامی انتظامیہ اور حکومت پنجاب کی طرف سے ضلع بھر میں اول اور دوم پوزیشنیں حاصل کیں۔ اللہ تعالیٰ جامعہ قاسم العلوم( جو کہ تمام مکاتب فکر کا مرکز ہے)کو اپنی شاخوں سمیت شادوآباد رکھے۔ آمین

مزید : کالم