ڈاکٹر سید عبدالحمید گیلانی نوناریؒ

ڈاکٹر سید عبدالحمید گیلانی نوناریؒ

ڈاکٹر سید عبدالحمید نوناری کا بچپن اور جوانی اگرچہ مذہبی اور روحانی نہیں تھا۔ وہ ایک عام شخص کی طرح جانے جاتے تھے۔ برصغیر کی تقسیم کے وقت ان کی عمر 13سال تھی۔ برصغیر کی تقسیم کے واقعات سناتے تو ان کی آنکھوں میں آنسو آجاتے۔ زندگی انہوں نے مشکل حالات اور مالی پریشانیوں میں گزاری ۔ خاندان سید اور حکمت ان کی میراث تھی۔ان کے والد سید رمضان شاہ کا خاندان حکمت میں برصغیر میں نام و مقام رکھتا تھا۔ بچپن میں یتیم ہوگئے اور زندگی کے 55سال یتیمی میں گزارے۔ ملازمت کے دوران روحانی کیفیت سے دو چار ہوئے،ان کے خالہ زاد بھائی خالد بٹالوی بتاتے ہیں کہ ڈاکٹر سید عبدالحمید گیلانی محنتی اور ذہین تھے۔ بچپن میں بہت شرارتی تھے اور ہم تمام کزنوں میں ان کی شخصیت نمایاں تھی۔ اولاد کے ساتھ ان کے تعلقات دوستانہ تھے۔ زندگی میں کبھی روپے پیسے کی لالچ نہیں کی، قناعت پسند اور اللہ کی رضا پر راضی رہنے والے تھے۔ رشتہ داروں میں بھی ان کی الگ پہچان تھی۔ جب سے ہم نے ہوش سنبھالا ، والد صاحب کو عبادات اور تہجد میں مشغول پایا۔ اولاد کے ساتھ کبھی سخت لہجے میں بات نہیں کرتے تھے۔ ملازمت کے دوران وہ کئی جگہوں مری، ٹیکسلا، سیالکوٹ، سنکترہ اور ستراہ میں رہے، لیکن جس شہر میں بھی گئے، لوگوں کے دلوں میں گھر کرگئے۔ اپنی یادوں اور اسلامی تعلیمات کے سبب لوگ ان کو ہمیشہ یاد کرتے رہے۔ڈاکٹر سید عبدالحمید گیلانی کا شجرۂ نسب شیخ سید عبدالقادر جیلانی سے ملتا ہے۔ زندگی میں بے شمار نشیب و فراز سے دوچار ہوئے، ملازمت کے دوران اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر کئی ہندوخاندانوں نے ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔

ان کے چچاحاجی محمد یوسف گردونواح کے دیہات میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اوراکثر خاندانوں کے فیصلے خود کرتے تھے۔ سید عبدالحمید گیلانی کی زندگی میں تصوف کا پہلو بھی نمایاں تھا۔ درویش اور اللہ کے رسولؐ کے سچے عاشق تھے۔ کسی کو دکھ دینا یا کسی سے ان کو تکلیف پہنچناناممکن تھا۔ سادہ زندگی گزاری ۔ ساری ساری رات گردونواح سے لوگ اکٹھے ہوتے اور ان کی عاشقانہ گفتگو سنتے۔ عالمانہ گفتگو نہیں کرتے تھے،ان کی تمام زندگی اسلامی اصولوں کے مطابق گزری۔ تصوف کی محافل میں ان سے لوگ فیض یاب ہوتے تھے۔ نبی کریم ؐ کا نام نامی جب زبان پر آتا تو آنکھوں میں آنسو جاری ہو جاتے۔ تصوف و عشق ان کی زندگی کا مرکز و محور تھا ، جس کے گردان کی سماجی، معاشی، مذہبی اور گھریلو زندگی کا پہیہ گھومتا تھا۔ وہ انسانی زندگی کے لئے تزکیۂ نفس پر بہت زور دیتے تھے۔ ان کے نزیک تقویٰ وتزکیۂ نفس کے بغیر قربت خداوندی اورعشق رسولؐ ممکن نہیں۔ حضرت علی ہجویریؒ کے مزار پر جاتے تو تصوف کے خیالات میں گم ہو جاتے آنکھوں میں آنسوؤں کا سلسلہ جاری رہتا۔ عملی زندگی میں وہ جن بزرگ ہستیوں سے فیض یاب ہوتے رہے، ان میں ان کے چچا حضرت یوسف شاہ کا نام سرفہرست ہے۔ وہ وقت کے زاہدو عابد اور عالم دین انسان تھے۔ وہ بحیثیت خطیب اہل علاقہ میں اسلام کی تبلیغ کرتے تھے۔حضرت سید عبدالحمید گیلانی بھٹکے ہوئے لوگوں کو سیدھی راہ دکھاتے تھے۔ سینکڑوں بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو دم کر کے دیتے تو ان کی بیماریاں اور مشکلات دور ہو جاتی تھیں۔ آپ کی گفتگو میں خطیبانہ انداز نہیں تھا، بلکہ درویشانہ رنگ غالب تھا۔ شخصیت اور زبان میں اتنا اثر تھا کہ جو شخص ایک بار آپ کی محفل میں بیٹھ جاتا، بار بار بیٹھنے کی آرزو کرتا۔

عاشق رسولؐ ہونے کے سبب حضرت اویس قرنی کو اپنا آئیڈیل تصور کرتے تھے۔اکثر ان کی زندگی کے واقعات سناتے تھے۔ تو سید عبدالحمید گیلانی کی زندگی بھی ایک سربستہ راز تھی ، کیونکہ ان کی وفات کے بعد اہل علاقہ کو معلوم ہوا کہ وہ درویش کامل اور عاشق رسول تھے۔لوگ جب آپ کو مقامی قبرستان میں دفن کرکے آئے تو تمام اشخاص کے جانے کے بعد ایک شخص حاجی محمد یوسف وہاں موجود رہا۔ انہوں نے بتایا کہ دفن کرنے کے بعد ان کی قبرسے نور کی شعاعیں کافی عرصے تک جاری رہیں۔ وہ پرہیز گار اور تقویٰ پر مکمل یقین رکھتے تھے۔ اکثرمعرفت کی باتیں کرتے تھے۔ جو عام شخص اور علماء حضرات کی سمجھ میں نہیں آتی تھیں۔ وہ اپنی کتاب ’’نبی اکرمؐ اور تصوف‘‘ میں لکھتے ہیں کہ کلمہ طیبہ کے 24حروف ہیں اور بے نکتہ ہیں۔ دن رات میں 24گھنٹے ہیں۔ کلمہ کی تشریح ہے، نفی نفس البساط ان دونوں کی تصدیق صفات کا ہونا ظہور مصطفی کلمہ پڑھنے سے جنت میں داخل ہوجائے گا، لیکن شریعت اورحقیقت پر عمل کرنے سے بات نہیں بنتی ہے۔ افضل ذکر کلمہ طیبہ ہے ، جس سے دل کے حجاب کھل جاتے ہیں اور دل گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے۔ڈاکٹر سید عبدالحمید گیلانی کا خاندان لاہور میں مقیم رہا۔انہوں نے یکم اپریل 2003ء کی وفات پائی، ان کا مزار عبداللہ شاہ غازی بمقام نونار ضلع نارووال کے قریب ہے۔ انہوں نے چاربیٹیاں اور چار بیٹے چھوڑے ہیں، ان کا سالانہ عرس یکم اپریل کو منایا جاتا ہے۔

مزید : کالم