پاک بھارت کشیدگی پر امریکی تشویش

پاک بھارت کشیدگی پر امریکی تشویش

اقوامِ متحدہ میں امریکی مستقل مندوب نِکّی ہیلی نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھ سکتی ہے اور تصادم کسی بھی وقت شروع ہو سکتا ہے اِس لئے ہمیں فعال ہونا ہو گا، کچھ ہونے کا انتظار نہیں کریں گے، ثالثی کے لئے صدر ٹرمپ مذاکرات کا حصہ بن سکتے ہیں، ٹرمپ انتظامیہ کو پاک بھارت کشیدہ تعلقات پر تشویش ہے دونوں ایٹمی ممالک میں کشیدگی کم کرانے کے لئے امریکہ کردار ادا کر سکتا ہے، اِس کوشش میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان بھی شامل ہوں گے۔انہوں نے کہا مسئلہ کشمیر دونوں ممالک کے درمیان تنازع کی بنیادی وجہ ہے، جسے حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ نِکّی ہیلی نے جو اپریل کے مہینے کے لئے سلامتی کونسل کی صدر منتخب ہوئی ہیں اِن خیالات کا اظہار نیو یارک میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ پاکستان نے امریکی پیشکش کو خوش آئند قرار دیا اور کہا ہے کہ اِس سلسلے میں امریکہ کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائے گا۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ حالات میں بہتری کی کسی بھی کوشش کا خیرمقدم کریں گے۔ دوسری جانب بھارت نے حسبِ معمول ثالثی کی امریکی پیشکش مسترد کر دی ہے۔

امریکی سفیر نے اپنی گفتگو میں کشمیر کے تنازعے کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی خرابی کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے اِس کا مطلب ہے کہ وہ اگر تنازع کی درست تشخیص کر رہی ہیں تو کیا اِس کے لئے ضروری اقدامات کے ساتھ آگے بھی بڑھیں گی، امریکہ کی ایک سابق وزیر خارجہ میڈلین البرائٹ نے اپنی وزارتِ خارجہ کے زمانے میں مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب کچھ پیش رفت کی تھی اُن کے والد نے بھی ایک رپورٹ اس تنازعے پر تیار کر رکھی تھی، امریکہ کی بعض یونیورسٹیوں میں بھی اِس معاملے پر کافی ریسرچ ورک ہو چکا ہے، اِس لئے امریکی ڈپلومیٹک حلقوں کو اِس معاملے کی سنگینی کا پورا ادراک ہے، ان کی تشویش اِس لحاظ سے بھی بجا ہے کہ تنازعے کے دونوں فریق ایٹمی قوتیں بھی ہیں، اِس لئے یہ فیصلہ بھی بہت اچھا ہے کہ امریکہ ’’کچھ ہونے‘‘ کا انتظار کئے بغیر مذاکرات کا حصہ بننے کے لئے تیار ہے، پاکستان کا ہمیشہ سے یہ موقف ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے چاہتا ہے۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے اِس ضمن میں پاکستان کے موقف کا اعادہ کیا ہے تاہم بھارت کا ہٹ دھرمی کا رویہ نہیں بدلا اور امریکی ثالثی کی پیشکش سامنے آتے ہی بھارت نے بلا سوچے سمجھے اسے مسترد کر دیا ہے۔

اِن حالات میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر بھارت اس طرح سر سری انداز میں مصالحت اور تصفیے کی تمام عالمی کوششیں مسترد کرتا رہا اور مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لئے شرائط پر شرائط لگاتا رہا تو پھر یہ مسئلہ کیسے حل ہو گا؟دُنیا میں تنازعات کو اگر لاینحل بنا کر چھوڑ دیا جائے تو وہ وقت کے ساتھ ساتھ مزید الجھ جاتے ہیں یہی کچھ کشمیر کے ساتھ ہوا ہے، معاملات کو سلجھانے کے لئے ناخنِ تدبیر سے گرہیں کھولی جاتی ہیں، پہلے سے الجھی ہوئی گرہوں کو مزید گنجلک نہیں بنایا جاتا،لیکن بھارت کا رویہ کچھ ایسا ہی ہے، امریکہ اب ماہِ رواں کے لئے سلامتی کونسل کا صدر بھی منتخب ہو گیا ہے اور تنازعہ کشمیر کونسل کے ایجنڈے پر قدیم ترین مسئلے کے طور پر موجود ہے،اِس لئے امریکہ کو اب اِس جانب تیزی سے پیش رفت کرنے کی ضرورت ہے۔

حالیہ مہینوں میں امریکہ نے بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو نئی جہت دی ہے۔ امریکی کمپنیاں بھارت میں دفاعی صنعت میں وسیع سرمایہ کاری بھی کر رہی ہیں۔ امریکہ بھارت کو جدید ہتھیار اور جدید ترین طیارے بھی فروخت کر رہا ہے، اِن حالات میں امریکی انتظامیہ کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ بھارتی قیادت پر واضح کر دے کہ دُنیا میں بڑا کردار ادا کرنے کے لئے عالمی طور پر مُسلّمہ اصولوں کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے، تنازعات سے گریز کرنا پڑتا ہے، پرانے تنازعات کو حل کر کے پُرامن طور پر آگے بڑھنے کے لئے جو باتیں ناگزیر ہوتی ہیں اُن میں امن و استحکام پہلی شرط ہے، بھارت سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے لئے بھی کوشاں رہا ہے،لیکن اُسے یہ معلوم نہیں، جس مُلک پر اس ادارے کی قراردادوں کی خلاف ورزی کا الزام ہو اور جو ستر عشروں سے اِن کا منہ چڑا رہا ہو وہ ایک ایسے ادارے کی مستقل رکنیت کا اہل کیسے ہو سکتا ہے، جس کا فرضِ اولین ہی دُنیا کو تنازعات سے پاک کرنا اور عالمی امن کو یقینی بنانا ہے، اِس لئے بھارت کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے حصول کی کوششوں سے پہلے اِس جانب بھی توجہ دے۔

بھارت نے گزشتہ دِنوں(امریکی صدر بارک اوباما کی صدارت کے آخری ایام میں) امریکہ کی مدد سے یہ کوشش بھی کی کہ اُسے نیو کلیئر سپلائرز گروپ(این ایس جی) کا رُکن بنایا جائے، اِس معاملے میں امریکہ نے کُھل کر بھارت کا ساتھ دیا،لیکن بھارت کو رکنیت دِلانے میں کامیاب نہیں ہو سکا، وجہ اس کی یہ تھی کہ پاکستان بھی میرٹ کی بنیاد پر اس ادارے کی رکنیت کا امیدوار ہے ،بلکہ ان شرائط کو بدرج�ۂ اولیٰ پورا کرتا ہے جو رکنیت کے لئے ضروری ہیں،لیکن پاکستان کو نظر انداز کر کے جب بھارت کو ایک منصوبے کے تحت آگے بڑھایا گیا تو چین اس طرزِ عمل کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہو گیا۔ چین کا منصفانہ موقف تھا اور اب بھی ہے کہ دونوں مُلک ایٹمی طاقتیں ہیں، دونوں نے ایٹمی عدم پھیلاؤ(این پی ٹی) کے معاہدے پر دستخط نہیں کئے، اِس لئے اگر پاکستان کو اِس بنیاد پر رکنیت نہیں دی جا رہی تو بھارت کے ساتھ ترجیحی اور امتیازی سلوک کیوں کیا جا رہا ہے؟ چین کا موقف آج بھی یہی ہے اِس لئے اگر بھارت کو این ایس جی کی رکنیت مطلوب ہے تو پاکستان کی مخالفت ترک کرے اور دُنیا بھی بھارت کو ترجیح دینے کی روش پر نظرثانی کرے۔

امریکہ کا یہ رویہ بہت مثبت ہے کہ وہ دو نیو کلیائی ریاستوں کے درمیان کشیدگی کا باعث بننے والا تنازع حل کرانے کی خواہش رکھتا ہے اور اس سلسلے میں آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان تو ثالثی بھی قبول کر رہا ہے اور تنازع کے حل کے لئے مذاکرات کا بھی خواہاں ہے۔ یہ بھارت ہے جو نہ ثالثی کو مانتا ہے نہ مذاکرات کی میز پر آنے کے لئے آمادہ ہے اور حیلوں بہانوں سے کشیدگی کو ہوا دینے پر تُلا ہوا ہے۔ افغانستان کے راستے پاکستان میں مداخلت بھی کرتا ہے، جس کا ایک ثبوت بھارتی نیوی کے حاضر سروس جاسوس کی گرفتاری ہے جس نے تسلیم کیا ہے کہ وہ سی پیک کے منصوبے کے خلاف سازشوں کے جال پھیلانے کے لئے پاکستان آتا رہا، بھارت کا یہ رویہ افسوسناک ہے، اب امریکہ اگر ثالثی کے کردار کے ساتھ سامنے آ رہا ہے تو اس تمام پس منظر کے پیشِ نظر بھارت کو مذاکرات کی میز پر لائے، ثالثی اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس کے بغیر مذاکرات شروع بھی ہو گئے تو دو چار نشستوں کے بعد پھر پہلے جیسے حشر سے دو چار ہو جائیں گے۔

مزید : اداریہ