سپریم کورٹ کے فیصلے موثر اقدامات کے متقاضی ہیں

سپریم کورٹ کے فیصلے موثر اقدامات کے متقاضی ہیں

سپریم کورٹ کے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نے قتل کے دو مقدمات کو نمٹاتے ہوئے چار ملزمان کو19سال بعد جیل سے رہا کرنے کا حکم دیا،جبکہ ایک ملزم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا گیا۔ پہلے مقدمے میں محمد اسماعیل وغیرہ کو اِس لئے بری کیا گیا کہ موقع کا کوئی چشم دید گواہ نہیں تھا اور وجہ عناد بھی ظاہر نہیں کی گئی۔ اس کے باوجود ٹرائل کورٹ نے ملزمان کو سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔ دوسرے مقدمے میں لوئر کورٹ اور ہائی کورٹ سے سزائے موت کا حکم پانے والے محمد ریاض کو سپریم کورٹ نے عمر قید کا حکم سنایا ہے۔ محمد ریاض کے بھائی محمد نواز کو بے قصور قرار دیتے ہوئے بری کر دیا گیا۔2001ء میں محمد ریاض نے سزائے موت کے خلاف اپیل کی، جس کا فیصلہ ہونے میں سولہ سال گزر گئے۔ اس مقدمے میں بھی موقع کا کوئی گواہ نہیں تھا اور وقوعہ کے پانچ روز بعد مقدمہ درج ہُوا تھا۔ اِسی طرح دو جاپانی لڑکیوں سے گینگ ریپ کے مقدمے میں سزا کا حکم پانے والوں کو بھی سپریم کورٹ نے بری کر دیا۔ دو ملزم دس سال تک اپیل کے فیصلے کا انتظار کرتے رہے۔ سپریم کورٹ نے انہیں بری کرتے ہوئے قرار دیا کہ میڈیکل رپورٹ میں ملزمان قصور وار نہیں پائے گئے۔

مذکورہ بالا مقدمات میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے ناقص پولیس تفتیش، گواہان کی عدم موجودگی اور میڈیکل رپورٹ کی غلط تشریح قرار دیتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کو تبدیل کیا ہے۔اگرچہ ملزمان کو19سال جیل میں گزارنا پڑے،لیکن انہیں آخر کار انصاف مل گیا۔ہمارے انتظامی ڈھانچے اور عدلیہ کی صورتِ حال کا اِس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ان خامیوں کا متعدد بار تذکرہ ہو چکا ہے۔ ضروری ہے کہ فوری طور پر موثر اقدامات کئے جائیں۔

مزید : اداریہ