اسلام اور قائداعظمؒ کا احسان (2)

اسلام اور قائداعظمؒ کا احسان (2)
 اسلام اور قائداعظمؒ کا احسان (2)

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اگر مسلمانانِ برصغیر 1946ء کے انتخابات میں اپنے ووٹوں کے ذریعے اپنی واحد نمائندہ جماعت آل انڈیا مسلم لیگ کو ثابت نہ کر چکے ہوتے تو کیا اگست 1947ء میں پاکستان کا قیام عمل میں آ سکتا تھا؟ اسلام نے ایک مشکل وقت میں ہماری مدد کی اور ہمیں بتایا کہ ملت اسلامیہ کے لئے ہلاکت و بربادی سے محفوظ رہنے کا واحد راستہ قیام پاکستان ہے۔ قیام پاکستان کسی انگریز وائسرائے کی ضرورت نہیں تھی۔مسلمانوں کا آزاد وطن ہماری ضرورت تھی۔ اس سچائی اور حقیقت پرتحریک پاکستان کے زمانے ہی میں نہیں بلکہ آج بھی ہمارا اس بات پر ایمان ہے کہ قیام پاکستان کا فیصلہ ہی درست تھا۔ پھر قیام پاکستان صرف قائداعظمؒ یا آل انڈیا مسلم لیگ کا فیصلہ نہیں تھا، اسی دور کے برصغیر کے مسلمانوں کی اجتماعی آواز اور مشترکہ جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان قائم ہوا تھا۔ اس وقت مسلمانوں کی قلیل تعداد جو قیام پاکستان کے خلاف تھی۔وہ سب بھی ہجرت کرکے پاکستان آ گئے تھے۔ وہ لوگ جو فطرتاً معقول تھے اور اپنے اندر خُبثِ باطن نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے کھلے دل سے قیام پاکستان کو تسلیم کیا اور اپنی رائے کی غلطی کا بھی ڈنکے کی چوٹ پر اعتراف کیا۔ ایسے تمام افراد ہمارے لئے قابل تعظیم ہیں۔ مگر کوئی شخص جب یہ کہتا ہے کہ اسے اگر قیام پاکستان کے موقع پر ووٹ دینے کا اختیار ہوتا تو وہ ووٹ پاکستان کے خلاف دیتا۔ایسے شخص میں اگر ضمیر نے غیرت اور حمیت نام کی کوئی چیز موجود ہے تو پھر اسے پاکستان چھوڑ دینا چاہیے۔ یہ نقطہ ء نظر یا رائے کی آزادی نہیں کہ قیام پاکستان کی مقدس جدوجہد کو کوئی ناشکرا اور ناسپاس گزار شخص نام نہاد جدوجہد قرار دے ڈالے۔

ڈاکٹر مبارک علی کہتے ہیں کہ وہ ایک اسکالر ہیں اس لئے قابل اعتراض زبان استعمال نہیں کرتے۔ اس سے زیادہ قابل اعتراض ، غیر مہذب بلکہ شرمناک زبان استعمال کرنے کا بدصورت ترین انداز اور کیا اپنایا جا سکتا ہے کہ آپ جس ملک کے شہری ہیں ، جس کی فضاؤں سے لطف اندوز ہوتے ہیں، جس نے آپ کو دانشوری کے دعوے کے قابل بنایا، اس ملک کی آزادی کے لئے کی گئی جدوجہد کو آپ نام نہاد قرار دے رہے ہیں۔ یوم پاکستان منانے سے آپ کو خوشی نہیں ہوتی۔ ’’قرارداد لاہور‘‘ کے بارے میں آپ کی نام نہاد تحقیق یہ کہتی ہے کہ برطانوی حکومت کی توثیق کے بعد اسے آل انڈیا مسلم لیگ نے اختیار کیا تھا۔ قائداعظمؒ اور تحریک پاکستان کی پوری مسلمان قیادت کو اس سے بڑھ کر غیر مہذب انداز میں گالی اور کیا دی جا سکتی ہے کہ قرارداد لاہور کا اصل مسودہ ایک انگریز وائسرائے نے تیار کروایا تھا۔ وہ انگریز حکمران جنہوں نے آخری وقت تک کیبنٹ مشن کی شکل میں بھی ہندوستان کی تقسیم کو روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی۔ کیا آل انڈیا مسلم لیگ کی 23مارچ 1940ء کی قرارداد ان کے کھاتے میں ڈالی جا سکتی ہے؟ یہ احسان فراموشی اور ناشکرے پن کی انتہا ہے کہ اگر ایک شخص نے زندگی بھر کی محنت، مشقت اور اپنی حلال روزی سے ایک مکان بنایا ہو اور اسی میں مقیم اس کا بیٹا یہ ارشاد فرمائے کہ یہ مکان دراصل میرے باپ نے نہیں بنایا بلکہ میرے باپ کے ایک بدترین دشمن نے ہمارے فائدے کے لئے تعمیر کیا تھا تو آپ کے دل پر کیا گزرے گی؟پاکستان تو سات کروڑ سے زیادہ مسلمانوں کے لئے ایک سائبان اور ایک پناہ گاہ تھی جو بانی ء پاکستان قائدا عظم محمد علی جناح ؒ کا ہمارے لئے اور ہماری آنے والی نسلوں کے لئے بھی ایک عظیم احسان ہے۔ اگر کوئی نامسعود نامبارک اور منحوس شخص قائداعظم ؒ کے اس احسان کو نہیں مانتا اور قیام پاکستان کے متعلق اس کی یہ رائے ہے کہ یہ مسلمانوں کے بدترین دشمن انگریز کی ہم پرمہربانی تھی۔ تو مَیں ایسی نامعقول ’’تحقیق‘‘ کو حد درجے کا ناپسندیدہ اور ناگوار بلکہ قابل نفرت فعل سمجھتا ہوں۔ پاکستان کا حوصلہ دیکھو، پاکستان کا ظرف دیکھو اور ہم پاکستانیوں کی قوت برداشت دیکھو کہ ہم بڑے تحمل اور بردباری سے ایسے منحوس افراد کا وجود بھی پاکستان میں قبول کئے ہوئے ہیں جو قیام پاکستان کے عظیم کارنامے کے حوالے سے قائداعظمؒ کے کردار کی پاکیزگی اور دیانتداری کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کرتے ہوئے بھی شرم و حیا محسوس نہیں کرتے۔ اگر ایسی مخلوق کسی اور ملک میں پائی جاتی اور وہ اس ملک کے قیام ہی کو کسی سازشی تھیوری کا نتیجہ قرار دیتی تو ان غداروں کو زندہ جلا کر ان کی راکھ کو بھی ہوا میں اُڑا دیا جاتا۔(ختم شد)

مزید : کالم