معاملہ گلگت بلتستا ن کا

معاملہ گلگت بلتستا ن کا
 معاملہ گلگت بلتستا ن کا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

آ ج کل آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے گلی کوچوں میں گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے حوالے سے بحث زوروں پر ہے۔۔۔ اور تو اور ہم صحافی دوست بھی اس ہاٹ ایشو کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ 23 مارچ کو لاہور میں کشمیر نیوزپیپرز ایڈیٹرز کونسل اور کے آئی آئی آر کے زیراہتمام ہونے والی ورکشاپ میں بھی ہمارے کچھ صحافی دوست، ممتاز قلمکار مجیب الرحمان شامی صاحب سے بھی بحث کرنے لگے، لیکن بھلا ہو مہمان گرامی کی اعلیٰ ظرفی کا کہ انہوں نے ہماری الٹی سیدھی باتوں کو خاطر میں لائے بغیر ہر ایک کی بات نہ صرف پوری توجہ سے سنی، بلکہ اس پر اپنی رائے بھی دی۔ میزبان اور مہمان خوشی خوشی اپنے اپنے گھروں کو سدھار گئے۔ لاہور سے واپس آتے ہی کچھ صحافی دوستوں کے ساتھ مظفرآباد جانے کا اتفاق ہوا۔ گاڑی میں بھی گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے حوالے سے بحث عروج پر رہی۔ میں نے کہا کہ خشک بحث کو گیلا کرنے کے لئے چائے پی لیتے ہیں۔ راستے میں ایک چھپر ہوٹل پر گاڑی روکی اور ٹیبل کے گرد کرسیاں گھسیٹ کر بیٹھ گئے، لیکن کوئی آرڈر لینے نہیں آیا۔ میں نے کاؤنٹر پر بیٹھے شخص کو کہا، جناب ہماری طرف بھی کوئی بندہ بھیجئے۔ اس نے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے آوازیں لگانا شروع کر دیں اوہ بھولے تو کدھر مر گیا ہے، کاش تجھے بحث کی بیماری نہ ہوتی، تو جس جگہ بیٹھتا ہے، بحث شروع کر دیتا ہے، کبھی اخبار میں گھس جاتا ہے۔دوسرے برآمدے سے کندھے پر کپڑا رکھے ’’صاب آیا صاحب آیا‘‘ کی آوازوں کے ساتھ 60 سالہ شخص سیدھا ہماری طرف لپکا اور بڑے فلسفیانہ انداز میں مخاطب ہوا، صاب ناراض کیوں ہوتے ہو، آپ کو ابھی چائے پیش کرتا ہوں۔ چائے پی کر نہ صرف تھکاوٹ اتر جائے گی، بلکہ آپ ہشاش بشاش بھی ہوجائیں گے۔ ہمارے ایک ساتھی نے کہا زیادہ باتیں نہ کرو جلدی جلدی چائے لاؤ، ہمیں شام ہونے سے پہلے مظفرآباد پہنچنا ہے۔ ہم بھولے کو آرڈر دینے کے بعد دوبارہ گفتگو میں مشغول ہو گئے۔

ایک دوست بولا گلگت بلتستان کو صوبہ بنایا گیا تو تحریک آزادی کشمیر پر برا اثر پڑے گا۔ کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادیں بے معنی ہو کر رہ جائیں گی۔ اسی دوران بھولا چپکے کے ساتھ ٹیبل پر چائے کی پیالیاں رکھ کر ہمارے قریب بیٹھ کر دلچسپی سے ہماری گفتگو سننے لگا۔ دوسرے دوست نے کہا کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنایا گیا تو فاروق حیدر کا نام تاریخ میں سیاہ حروف میں لکھا جائے گا۔ پیپلزپارٹی بھی گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے پر راضی نہیں ہو گی ،جبکہ سردار عتیق تو بالکل نہیں مانیں گے۔ تیسرے دوست نے گرہ لگائی کہ آپ سارے معاملے میں حریت کانفرنس، سردار خالد ابراہیم اور بیرسٹر سلطان کو نظرانداز کر رہے ہیں۔ انہوں نے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی حمایت نہ کی تو آزادکشمیر میں مظاہرے پھوٹ پڑیں گے۔ اس دوران ہم چائے کی آخری چسکیاں لے کر اٹھ کھڑے ہوئے تو ایک دم بھولے کی آواز آئی، صاب جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں، میں نے اس کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا بھولے کہو کیا کہنا چاہتے ہو، تو بھولا دونوں پاؤں زمین پر پسار کر گویا ہوا، صاب مجھے تاریخ کا تو اتنا علم نہیں، لیکن تھوڑا بہت اخبار پڑھ لیتا ہوں۔ آپ کس پیپلزپارٹی کی بات کرتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے شملہ معاہدے کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو عالمی تنازعات کی صف میں سے نکال کر دوطرفہ مسئلہ بنا دیا اور قائد عوام کہلوائے۔ پیپلزپارٹی آج تک کشمیر کے نام پر ووٹ بٹور رہی ہے۔ سردار ابراہیم نے 28 اپریل 1949ء کو معاہدہ کراچی کے ذریعے گلگت بلتستان کا انتظام و انصرام پاکستان کے سپرد کر دیا اور قائد ملت کہلائے اور مزے کی بات ہے کہ معاہدہ کراچی 44 سال تک عوام سے پوشیدہ رکھا گیا۔بھلا ہو اس وقت کے چیف جسٹس ہائیکورٹ عبدالمجید ملک کا جنہوں نے حکومت سے پوچھا کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کے زیرانتظام و انصرام کب اور کیسے دیا گیا تو اس وقت مجبوراً معاہدہ کراچی کی دستاویزات عدالت میں پیش کرنا پڑ گئیں، ورنہ عوام کو آج تک پتہ نہ چلتا کہ کوئی معاہدہ کراچی بھی ہوا تھا یا نہیں۔ بینظیر بھٹو کے شوہر نامدار جناب آصف علی زرداری نے گلگت بلتستان کو عبوری صوبے کا درجہ دیا، اسمبلی بنائی،5 سال پیپلزپارٹی کا وزیراعلیٰ رہا، اس وقت اقوام متحدہ کی قراردادوں کا بال بیکا نہیں ہوا تو اب کون سی قیامت آجائے گی؟ رہی بات بیرسٹر سلطان، سردار عتیق احمد خان اور حریت کانفرنس والوں کی تو جناب شائد آپ بھول رہے ہیں کہ ان کے لئے دوستوں کی ایک فون کال ہی کافی ہے۔ آج جب وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان گلگت بلتستان کے عوام کو آئینی، قانونی اور انتظامی حقوق دلوانے کی حمایت کر رہے ہیں اور گلگت والوں کو 70 سال بعد ان کے حقوق دلوانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو راجہ فاروق حیدر کا نام تاریخ میں سنہری حروف میں کیوں نہیں لکھا جائے گا؟ صاب ہم نے اپنی زندگی کے بہت اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں، آپ اس عمر میں کیوں اپنے آپ کو خشک بحثوں میں ہلکان کرتے ہیں۔ہم سب بھولے کی فلسفیانہ گفتگو سن کر ہونقوں کی طرح ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ بھولے نے ہماری پتلی حالت دیکھ کر کہا صاب ایک چائے اور لاؤں۔ ہم نے دونوں ہاتھ جوڑ کر بھولے سے جان چھڑائی اور بھاگنے ہی میں عافیت جانی۔ مظفرآباد پہنچنے تک گاڑی میں سناٹا چھایا رہا، شائد ہم سب بحث سے توبہ کر چکے تھے۔

مزید : کالم