حضرت خواجہ سنگ

حضرت خواجہ سنگ
حضرت خواجہ سنگ

  

بہار جانے کو ہے اور لْو آنے کو ہے ذہنی مصروفیات اور مادی وسائل کی دھکم پیل نے اتنا وقت ہی نہیں دیا کہ رنگِ بہار پر نظر دوڑا سکیں بہار ہو اور حضرت امیر خسرو دہلوی اور آپ کے مشفق مرشد حضرت نظام الدین اولیاء کا ذکر نہ ہو ہمارے لئے تو کم از کم ایسا ممکن نہیں چیت کی سنگراند سے لے کر اب تک میں ہر رات گئے حضرت خسرو کی پْرسرور بندش جو راگ بہار میں ہے سنتا رہا ہوں راگ بہار کافی ٹھاٹھ کی کھاڈو سمپورن راگ ہے اس کا صحیح وقت تو آدھی رات ہے مگر چیت میں یہ ہر وقت سنی اور گائی جا سکتی ہے وادی سر اس کا مدھم اور سموادی سرج ہے راگ بہار میں حضرت امیر خسرو کی بندش بہت مقبول ہوئی:

حضرت خواجہ سنگ کھیلئے دھمال

بائیس خواجہ مل بن بن آئے

تھامے حضرت رسول صاحب جمال

عرب یار! توری بسنت منائیو

سدا رکھیو لال گلال

حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں کہ "تصوف مذہب کی روح ہے" مگر آج نہایت پسندی نے ہم سے ہماری روح چھین لی ایک طرف الحاد اور فکری آوارگی کا وہ سیلاب اْمڈ آیا کہ نئی نسل ہر روحانی جذبے سے مفرور ہو گئی دوسری طرف مْلّائیت کے وہ غیر ضروری خشک ضابطے اور خود ساختہ قوانین ہیں کہ جن کی بدولت انسان ایک میکانکی آلہ بن گیا رہی سہی کسر جعلی پیروں اور خضر پوش نوسربازوں نے پوری کر دی جو حالات کے مارے حماقت گزیدہ عوام کو دونوں ہاتھوں سے لْوٹ کر مقدس روحانی شعار کو تجارت بنا چکے ہیں دین سے محبت و عشق نکال کر باقی جو کچھ بچتا ہے وہ جہالت اور نہایت پسندی کے سوا کچھ نہیں یہی وہ عشق تھا جس کے متعلق اقبال نے کہا تھا کہ

اگر ہے عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی

نہ ہو تو مردِ مسلماں بھی کافر و زندیق

تصوف نے تو ہمیں محبت کا وہ روشن راستہ دکھایا جس میں عشق کی خوشبو حکمت و دانش سے وقوع پذیر ہوتی ہے جہالت اور ہٹ دھرمی کبھی مثبت نتائج سامنے نہیں لاتی محبت کی روشنی دانش کے پل سے گزرتی ہے اور وہ پل مرشدِ حق کی ذات اعلی صفات ہوتی ہے اسی لئے تو صوفیا فرما گئے کہ عشق کا سب سے پہلا مقام فنافی الشیخ ہے حضرت سلطان العارفین یہی مقام بیان فرماتے ہیں :

الف اللہ چنبھے دی بوٹی من وچ مرشد لائی ھْو

نفی اثبات دا پانی ملیا ہر رگے ہر جائی ھْو

اندر بوٹی مشک مچایا جان پالن تے آئی ھْو

جیوے مرشد کامل باہو جنہے اے بوٹی لائی ھْو

محبت و عشق کے حوالے سے مجھے یہاں پر حضرت نظام الدین اولیاء کا ایک واقعہ یاد آ رہا ہے جو بالخصوص میں اپنے نوجوان طبقہ کیلئے بیان کر رہا ہوں وہ جو عقلی بوقلمونیوں میں غرق ہو چکے ہیں اور اس وقت کسی روشن رستے کے متلاشی ہیں یاد رکھئے عقل کی حد ہی دراصل محبت کی ابتدا ہے اقبال فرماتے ہیں کہ

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں

ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں

یہ نظر دراصل محبت و عشق ہی ہے حضرت نظام الدین اولیاء اکثر ایک جملہ فرمایا کرتے کہ"ہم سے تو دھوبی کا بیٹا ہی خوش نصیب نکلا ہم سے تو اتنا بھی نہ ہو سکا" پھر غش کھا جاتے، ایک دن آپ کے مریدوں نے پوچھ ہی لیا کہ حضرت یہ دھوبی کے بیٹے والا کیا ماجرا ہے؟

آپ نے فرمایا ایک دھوبی کے پاس محل سے کپڑ ے دھلنے آیا کرتے تھے اور وہ میاں بیوی کپڑ ے دھو کر پریس کرکے واپس محل پہنچا دیا کرتے ان کا ایک بیٹا بھی تھا جو جوان ہوا تو کپڑ ے دھونے میں والدین کا ہاتھ بٹانے لگا کپڑوں میں شہزادی کے کپڑ ے بھی تھے جن کو دھوتے دھوتے وہ شہزادی کے نادیدہ عشق میں مبتلا ہو گیا محبت کے اس جذبے کے جاگ جانے کے بعد اس کے اطوار بدل گئے وہ شہزادی کے کپڑ ے الگ کرتا انہیں خوب اچھی طرح دھوتا پھر انہیں استری کرنے کے بعد ایک خاص نرالے انداز میں تہہ کرکے رکھ دیتا، سلسلہ چلتا رہا آخرکار اسکی والدہ نے اس تبدیلی کو نوٹ کیا اور دھوبی کے کان میں کھسر پھسر کی کہ یہ تو لگتا ہے سارے خاندان کو مروائے گا یہ تو شہزادی کے عشق میں مبتلا ہو گیا ہے والد نے بیٹے کے کپڑ ے دھونے پر پابندی لگا دی ادھر جب تک لڑکا محبت کے زیر اثر محبوب کی کوئی خدمت بجا لاتا تھا محبت کا بخار نکلتا رہتا تھا مگر جب وہ اس خدمت سے ہٹا دیا گیا تو لڑکا بیمار پڑ گیا اور چند ہی دن بعد فوت ہو گیا۔

ادھر کپڑوں کی دھلائی اور تہہ بندی کا انداز بدلا تو شہزادی نے دھوبن کو بلا بھیجا اور اس سے پوچھا کہ میرے کپڑے کون دھوتا ہے؟ دھوبن نے جواب دیا کہ شہزادی عالیہ میں دھوتی ہوں شہزادی نے کہا پہلے کون دھوتا تھا؟ دھوبن نے کہا کہ میں ہی دھوتی تھی شہزادی نے اس سے کہا کہ یہ کپڑا تہہ کرو اب دھوبن سے ویسے تہہ نہیں ہوا جیسے اس کا لڑکا کیا کرتا شہزادی نے اسے ڈانٹا کہ تم جھوٹ بول رہی ہو سچ سچ بتاؤ ورنہ سزا ملے گی دھوبن کے سامنے کوئی رستہ بھی نہیں تھا دوسرا کچھ دل بھی غم سے نڈھال تھا وہ زار و قطار رونے لگ گئی اور سارا ماجرا شہزادی کو سنا دیا شہزادی یہ سب کچھ سن کر سکتے میں آ گئی ۔

پھر اس نے سواری تیار کرنے کا حکم دیا اور شاہی بگھی میں سوار ہو کر پھولوں سے بھرا ٹوکرا لیا اور مقتولِ محبت کی قبر پر سارے پھول چڑھا دیئے زندگی بھر اس کا یہ معمول رہا کہ وہ اس دھوبی کے بچے کی برسی پر اس کی قبر پر پھول چڑھانے جاتی یہ بات سنانے کے بعد آپ فرماتے "اگر ایک انسان سے بن دیکھے محبت ہو سکتی ہے تو بھلا خدا سے بن دیکھے محبت کیوں نہیں ہوسکتی؟"حضرت نظام الدین اولیاء پھر فرماتے" وہ دھوبی کا بچہ اس وجہ سے کامیاب رہا کہ اس کی محبت کو قبول کر لیا گیا".

مزید : کالم