لاہور جمخانہ کلب میں خورشید محمود قصوری کا خطاب

لاہور جمخانہ کلب میں خورشید محمود قصوری کا خطاب
 لاہور جمخانہ کلب میں خورشید محمود قصوری کا خطاب

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور جمخانہ کلب کو اس لحاظ سے انفرادیت حاصل ہے کہ یہاں ممبر ارکان کی دلچسپی کے لئے مختلف تقریبات منعقد کی جاتی ہیں، وہاں ممبران کو اپنے قومی اور ملکی معاملات سے باخبر رکھنے اور بین الاقوامی مسائل سے آگاہی کی خاطر ہر ہفتے مُلک کی اہم شخصیات کو خصوصی لیکچر کے لئے بھی دعوت دی جاتی ہے۔ یوں مُلک کی بہت سی نامور شخصیات کو سال میں چالیس پچاس بار یہاں مدعو کیا جاتا ہے۔ اس مرتبہ سابق وزیر خارجہ میاں خورشید محمود قصوری آئے اور انہوں نے لگ بھگ دو گھنٹے پر محیط اپنے خطاب اور پھر سوال و جواب کے دوران پاکستان کے بین الاقوامی رشتوں پر کھل کر بحث کی۔ اُن دِنوں کی یادیں بھی تازہ کرائیں،جب پاکستان ایک نوزائیدہ مُلک تھا اور جس پر تبصرہ کرتے ہوئے بھارت جیسے پڑوسی ملک نے شروع کے چھ ماہ کے دوران میں ہی یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ ایک خود مختار اور الگ مُلک کی حیثیت سے پاکستان دُنیا کے نقشے پر خدانخواستہ قائم نہیں رہ سکے گا۔ کس کس طرح اُس وقت کی سپر پاور روس نے ہمیں ساتھ ملانے، بلکہ ہاتھ ملانے کی کوششیں کیں، پھر عملی طور پر کس کس طرح امریکہ ہمیں اپنے نرغے میں لے گیا۔ آج ایک بار پھر ہماری کیفیت1947ء اور 1950ء والی ہی ہے ، ہم آج بھی بُری طرح سے امریکی نرغے میں ہیں۔ روس سے بس اتنے ہی تعلقات ہیں، جتنی ہماری خواہش ہے۔ تاہم سی پیک کی بدولت خطے میں آج پاکستان کی جو پوزیشن ہے، وہ اللہ پاک کی دین ہے۔ آج نہ تو یورپ نہ ہی امریکہ اور نہ ہی مشرق وسطیٰ کے ممالک ہماری جغرافیائی اہمیت اور حیثیت سے آنکھیں چرا سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے بین الاقوامی تعلقات تشکیل دیتے وقت ہمیں نظر انداز کر سکتے ہیں۔۔۔ اپنے پڑوسیوں کے سلسلے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی میں امریکیوں کی بدولت ہم نے اپنے پڑوسی مُلک افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات میں زیادہ بہتری پیدا نہیں کی، حالانکہ افغانستان کے ساتھ ہمارے جغرافیائی تعلقات ہزاروں برس سے چلے آ رہے ہیں، تاہم اب ہمیں اپنی سرد مہری والی پرانی پالیسی کو بدلنا ہو گا اور افغان بھائیوں کو ویسی ہی اہمیت دینا ہو گی جو ایک بھائی دوسرے کو دیتا ہے۔

خورشید محمود قصوری کا کہنا تھا کہ جہاں تک امریکہ بہادر کا تعلق ہے، وہ چونکہ دور بیٹھا تماشائی ہے، اِس لئے اس اہمیت کو ہمیں خود سمجھنا ہو گا کہ ہمیں افغانستان اور ایران دونوں ممالک کو اپنی دوستی کا زیادہ جھکاؤ دکھانا بھی ہو گا اور دینا بھی ہو گا، کیونکہ جب سے ہم افغانستان وار میں امریکہ کے ساتھی بنے، اس وقت سے ہمارے ایران اور افغانستان کے ساتھ مراسم میں کافی رخنے آئے ہیں۔ ظاہر ہے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے بعد جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف دونوں فوجی حکومتیں عوامی نمائندگی کی تو ہر گز حامل نہیں تھیں، لہٰذا ان حکومتوں نے عوام کے دِلوں کی دھڑکنوں کا اندازہ لگائے بغیر اپنی پالیسیاں بنائیں۔ ان تمام پالیسیوں کا انحصار چین، امریکہ، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے ساتھ تعلقات پر تھا ، جس کا مقصد ٹیکنیکل امداد اور فوج کو مختلف معاملات میں بین الاقوامی معیار کی تربیت دلوانا تھا جو ظاہرہے خدا کے فضل سے دلوائی بھی گئی۔ آج ہماری اپنی فوج چین سے اپنے انجینئروں کو تربیت دلوا کر پاکستان میں نہ صرف سامانِ حرب تیار کر رہی ہے، بلکہ بھاری توپ خانہ، ٹینکوں سمیت جنگی بحری جہاز اور جنگی ہوائی جہاز بھی اندرون مُلک ہی تیار کئے جا رہے ہیں۔ سی پیک کے بارے میں کئے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میاں خورشید محمود قصوری نے بتایا کہ جس طور طریقے سے سی پیک پر خرچ ہونے والا پیسہ ، بلکہ چین سے حاصل کردہ قرضہ پاکستان کی تقدیر بدلنے پر خرچ ہورہا ہے اس سے سب بہت پُرامید ہیں کہ پاکستانی چینی کمپنیوں کے ساتھ اشتراک عمل کے ساتھ ایسی نئی صنعتیں یہاں لگا سکیں گے جن کا مال پوری دُنیا میں نسبتاً نہایت موزوں مارکیٹ نرخوں پر فروخت کیا جا سکے گا اور ہم نہ صرف یہ کہ اپنا قرضہ آسانی کے ساتھ اُتار سکیں گے، بلکہ ہمارے پڑوسی ممالک ایران، بھارت اور افغانستان نے بھی اپنی اقتصادی حالت بدلنے کے خواب ہمارے ساتھ وابستہ کرنا شروع کردیئے ہیں اور بالآخر وہ جنگ و جدل کا جذبہ بھول کر ہمارے ساتھ آملیں گے۔ ہم بھی ایک خود مختار مُلک کی حیثیت سے اُنہیں خوش آمدید کہیں گے اور اُن کے شانہ بشانہ عوام کی ترقی کے لئے مُلک کو آگے لے جانے میں کامیاب ہوں گے۔

جہاں تک بھارت کے ساتھ کسی ممکنہ جنگ کا سوال ہے، اس بارے میں انہوں نے بہت سے ریٹائرڈ فوجی جرنیلوں کی کتب کا ذکر کیا اور بتایا کہ ایک نہایت ہی منظم فوج کی حیثیت سے جو سوچ بھارتی فوج میں موجود ہے، اس میں جنگ کی بجائے ایک دوسرے کی عزت کی باتیں دکھائی دی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک بڑی فوج کی حیثیت سے ہمیں اس وقت اگر وہ نیپال،بھوٹان یا بنگلہ دیش کی طرح پڑوسی مُلک کی سمجھنا چاہیں تو ان کی بہت بڑی غلطی ہو گی۔ دفاعی اعتبار سے ان کے پڑوسی ممالک بنگلہ دیش، نیپال یا بھوٹان کا تو سارے کا سارا انحصار ہی بھارت پر ہے۔ بنگلہ دیش میں تو آج بھی فوج محض نمائشی حد تک اور سیلاب کے دِنوں میں عام پبلک کی امداد کے لئے ہی رکھی گئی ہے، ورنہ اُن کا تو دفاعی معاہدہ پہلے دن سے ہی بھارت کے ساتھ ہے۔امریکہ نے بنگلہ دیش بنانے اور متحدہ پاکستان کو توڑنے کے سلسلے میں1971ء میں ہمارے ساتھ

جو ہاتھ کیا، آج اُن کے اپنے امریکی مصنفین بھی امریکہ کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں اور اِس بات کا حوالہ دے رہے ہیں کہ1971ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران ایک طرف امریکہ میں یہ پالیسی بیان جاری کرایا جاتا تھا کہ امریکی جنگی جہازوں کا بحری بیڑہ پاکستان پہنچ رہا ہے، جبکہ یہ ساری کی ساری جھوٹی خبر یں تھیں،جو ریڈیو پاکستان ڈھاکہ اور پورے پاکستان میں وقفے وقفے سے جاری کرتا رہتا ہے، حالانکہ سرے سے ایسی کسی خبر میں سچائی کا شائبہ تک نہیں تھا۔ کون لوگ اِس وقت وزارتِ خارجہ چلا رہے تھے اور کیوں کر بعد میں بھی امریکہ نے ان امور پر معافی نہیں مانگی۔ یہ سوالات البتہ آج تک بھی اپنا جواب مانگ رہے ہیں۔اس وقت مَیں بھی ایسی کسی نئی بحث میں شامل نہیں ہونا چاہتا کہ آخر جب ذوالفقار علی بھٹو نے20دسمبر 1971ء کو پاکستان میں حکومت سنبھالی اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے پاؤں پر پاؤں رکھ کر یہاں اقتدار حاصل کیا تو آخر وہ کون سی وجوہات تھیں، جن کی بناء پر پہلے صدر اور بعد میں وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھانے کے بعد پارلیمینٹ میں پاکستان، امریکہ تعلقات پر کیوں سیر حاصل بحث نہیں کی، کیوں پاکستان کے بچے بچے کی ناراضگی امریکہ تک نہیں پہنچائی اور کیوں امریکیوں کو یہ باور نہیں کرایا کہ ہماری آنے والی کئی نسلیں امریکہ کو کبھی پاکستان کا دوست نہیں سمجھیں گی اور نہ ہی ان پر اعتبار کریں گی، فوج کا ادارہ تو کبھی نہیں؟

مزید : کالم