تپشِ شوق: ایک مختصر لیکن جامع سفرنامہ!

تپشِ شوق: ایک مختصر لیکن جامع سفرنامہ!
 تپشِ شوق: ایک مختصر لیکن جامع سفرنامہ!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کسی شاعر نے اگر یادِ ماضی کو ’’عذاب‘‘ کا نام دیا ہے تو اس کو ہزار شاباش دینے کو چاہتا ہے کہ اس عذاب کا مفہوم وہ نہیں جو عذابِ دوزخ کی ترکیب سے دل و دماغ میں ابھرتا ہے بلکہ یہ وہ عذاب ہے جسے احمد ندیم قاسمی نے وقفہ ء ماتم کہا تھا اور جس میں سحر کے اجالے پھوٹتے ہیں:

رات جل اٹھتی ہے جب شدتِ ظلمت سے ندیم

لوگ اس وقفہء ماتم کو سحر کہتے ہیں

لیکن یادِ ماضی چونکہ، بڑھاپے کے بغیر نازل نہیں ہوتی، اس لئے بڑھاپا فی نفسہٖ (In itself) اللہ تعالیٰ کی ایک نعمتِ خاص ہے۔ یہ نہ ہو تو ادوارِ گزشتہ کے وہ آنگن کہاں نظر آتے جن میں قدم قدم پر پھول کھلتے اور شگوفے پھوٹتے ہیں، جہاں پُرلطف یادیں ایک دوسرے سے ہم آغوش ہوتی ہیں اور جہاں جوانی کی ناکامیوں اور کامیابیوں کا مینابازار لگا رہتا ہے۔ آپ کا سارا بچپن، سارا لڑکپن اور ساری جوانی ہاتھ باندھے آپ کے سامنے آن حاضر ہوتی ہے۔ جوانی کی ڈگمگاہٹوں کو استحکام دینے کے لئے عہدِ پیری میں آپ ہزاروں ایسی دلیلیں نکال لاتے ہیں جو دور ماضی میں باریاب نہیں گردانی جاتی تھیں۔ لغرشوں کی پردہ پوشی میں مزہ آنے لگتا ہے، کرتوتیں چیلنج کا نام پانے لگتی ہیں اور آپ اپنے ہر نشیب و فراز کے معرکوں کے فاتح بن جاتے ہیں۔

وہ بڑھاپا ہی کیا جس میں یادِ ماضی کی تپش، راہوارِ شوق کو مہمیز نہ کرے۔۔۔ اگلے روز میرے ایک نادیدہ کرم فرما محمد طفیل چودھری صاحب نے مجھے اپنا ایک نہایت مختصر سا سفرنامہ ارسال کیا جس کے صفحہ اول پر درج تھا:

’’گرامی قدر! کرنل غلام جیلانی خان صاحب کی تشنگی ء علم و ادب کی سیرابی کے لئے ’’ تپشِ شوق‘‘ پیش خدمت ہے‘‘۔

یہ ’’تپشِ شوق‘‘ کہنے کو تو صرف 32صفحات پر مشتمل ایک پیپر بیک کتابچہ ہے جس میں 16صفحات پر پھیلی وہ 33عدد رنگین تصاویر ہیں جو ان کے آبائی شہرامرتسر میں ان کے آبائی مکانوں اور زمینوں کی یاد تازہ کرتی ہیں۔ چودھری صاحب اگست 1947ء میں قیامِ پاکستان پر امرتسر سے ہجرت کرکے لاہور آ بسے تھے۔ لاہور آکر دوسرے مہاجرین کی طرح ان کے دل میں بھی اپنے بچپن کی یادیں بسی رہتی تھیں۔ جس مکان میں انہوں نے جنم لیا، جن گلیوں میں کھیلے کودے، جن مسجدوں میں نمازیں ادا کیں، جس سکول میں مشعلِ علم کی پہلی کرن سے فیضیاب ہوئے، اپنی جن زمینوں کے دشت و در اور شجر و حجر کے ذرے ذرے اور پتے پتے سے واقف تھے وہ مناظر صبح و شام ان کی متاعِ حیات بنے رہے۔۔۔ ان کو یاد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’انسان جس سرزمین میں پیدا ہوا ہو، پرورش پائی ہو، بچپن کی معصوم اور سادہ شوخیوں سے روشناس ہوا ہو، نوجوانی کے کیف و سرور، محبت و چاہت کی مسرور کن محسوسات اور کیفیات سے لطف اندوز ہوا ہو وہ شہر، وہ گاؤں، وہ گلیاں، وہ کوچے، وہ پیارا پیارا چھوٹا سا گھر اور اس کے بام و در وہ کیسے فراموش کر سکتا ہے؟ انسان زندگی بھر انہی حسین نظاروں اور دلکش تصورات میں شب و روز کھویا رہتا ہے۔ ہر وقت، ہر لمحہ اس کی دلی آرزو ہوتی ہے کہ اس کو پَر لگ جائیں اور وہ محوِ پرواز ہو کر اپنے جنم کدہ، اپنی پیدائش گاہ اور اپنی جنم بھومی میں پہنچ جائے‘‘۔

یہ مختصر سی عبارت ان کے جذبات کی کل بھی ترجمان تھی اور آج بھی ہے۔۔۔ مجھے پَر لگنے کے بارے میں یہ سطور پڑھ کر اپنی والدہ کی وہ کیفیت یاد آئی جب وہ ایک روز آٹا گوندھتے گوندھتے پرات کو چھوڑ کر ڈرائنگ روم میں چلی گئیں اور ریڈیو کے سامنے مبہوت ہو کر بیٹھ گئیں۔ وہاں لتا کا یہ گیت دوشِ ہوا پر بکھر رہا تھا:

پنکھ ہوتے تو اُڑ آتی میں

رسیا او بالما

تجھے دل کا داغ دکھلاتی میں

او۔۔۔۔۔۔او۔۔۔۔۔۔وووو۔۔۔۔۔۔ووو

پنکھ ہوتے تو اُڑ آتی میں۔۔۔

والدۂ مرحومہ کو صوت و صدا کی فنکارانہ باریکیوں کا کچھ زیادہ علم نہ تھا لیکن وہ فرماتی تھیں کہ جب بھی یہ گانا ریڈیو پر بجتا ہے تو نجانے میراد ل کیوں چاہتا ہے کہ میرے بھی پرہوں اور میں بھی اڑکر کہیں دور چلی جاؤں۔۔۔ فنونِ لطیفہ کی تحسین و تنقید کے پس منظر میں ان کی سادگی کا ایک اور واقعہ بھی یاد آ رہا ہے۔

1960ء کے عشرے میں انڈو پاک کے مشہور گلوکاروں اور گلوکاراؤں کے مشہور نغمے اکثر ریڈیو پر گونجا کرتے تھے اور فلموں کی مشہوری وغیرہ بھی ریڈیو پر ہوا کرتی تھی۔ لیکن انہوں نے زندگی بھر صرف ایک ہی فلم دیکھی اور واپس گھر آتے ہوئے تانگے میں بیٹھ کر والد مرحوم سے گویا ہوئیں: ’’ کیا یہی فلم ہوتی ہے جس کا اتنا شور مچ جاتا ہے؟۔۔۔ سنیما سے باہر نکلیں تو پھر وہی سڑکیں، وہی راستے، وہی بازار، وہی لوگ اور وہی گلیاں۔۔۔ منڈوے کا سب کچھ منڈوے کے اندر ہی رہ جاتا ہے ناں!‘‘۔۔۔ یہ کہہ کر انہوں نے برقعے کی ٹوپی چڑھا لی اور چپ ہو گئیں۔ میں ان کے پہلو میں بیٹھا ان کا یہ ’’باکمال اور لازوال‘‘ تبصرہ اور تجزیہ سن کر اس وقت تو مسکرانے لگا تھا لیکن پھر جوں جوں عقل و ہوش کے ناخن بڑھتے گئے ان کے تجزیئے کی صداقت آفرینی پر آفرین نچھاور کرتا رہا اور آج بھی یہی حال ہے۔

محمد طفیل چودھری کا آبائی گاؤں موضع باٹھ اور آبائی شہر امرتسر تھا۔ یہ امرتسر واہگہ سے زیادہ دور نہیں، 19،20میل کا فاصلہ ہے۔ طفیل صاحب کا امرتسر اگرچہ لاہور کا ہمسایہ تھا لیکن امرتسر کو دیکھنے کی تمنا ان کے دل میں ہمیشہ خلش بن کر موجود رہی۔وہ لکھتے ہیں کہ ان کے دل کی بے قراری کو اس وقت قرار آیا جب تقریباً 59،60 برس بعد مئی 2006ء میں ان کو انڈیا کا آٹھ روزہ ویزا مل گیا اور وہ اپنے بیٹے اسجد غنی طاہر ڈائریکٹر جنرل ، پروٹوکول،پنجاب کے ہمراہ نہ صرف اپنا گاؤں اور اپنا شہر دیکھنے میں کامیاب ہو گئے بلکہ امرتسر سے آگے نکل کر جالندھر، لدھیانہ، فتح گڑھ، سرہند، انبالہ، کرنال اور پانی پت سے گزر کر دلی ، آگرہ اور اجمیر شریف دیکھنے کا موقع بھی ملا۔

دلی سے آگرہ کا فاصلہ 150میل (220 کلومیٹر ہے) وہ دلی میں ایک شب ٹھہرے تواگلی صبح سب سے پہلے تاج محل دیکھنے کی آرزو پوری کی۔ تاج محل آج بھی دنیا کے ہفت عجائبات میں شمار ہوتا ہے۔ وہ اگر صرف تاریخ کے طالب علم ہوتے تو دلی کے علاوہ آگرے کی تاریخی اہمیت بھی بیان کرتے۔ لیکن اس تاریخ کو انہوں نے پس پشت ڈال کر اپنی قلبی تمناؤں کا مداوا کرنے کی سبیل کی۔ معلوم ہوتا ہے ان کے دل میں ایک عاشقِ صادق کا دل دھڑک رہا ہیّ اور یہ دھڑکن ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی۔ تاج محل کے بانی اور اس کی بیگم ملکہ ممتاز محل کی باہمی محبت نے اگر یہ عجوبہ ء روزگار یاد گار تعمیر کروائی تو اس پر آج تک بلا مبالغہ سینکڑوں تاریخی کتب لکھی جا چکی ہیں۔ ملکہ ممتاز محل، شاہجہان کے چودہ بچوں کی ماں تھی۔ لیکن اس کثیر الاولادی کے باوجود شاہجہان کے دل میں اپنی اہلیہ کی جو محبت موجزن تھی اس کا احساس صرف اسی شوہر کو ہو سکتا ہے جو ٹوٹ کر اپنی نصف بہترسے پیارکرتا ہو۔وہ جب قضائے الٰہی سے اللہ کو پیاری ہو گئی تو اس کی یاد، تیرِ قضا کا شکار نہ ہو سکی۔طفیل صاحب کی زوجہ ء محترمہ اس سفر سے پہلے وفات پا چکی تھیں اور اس حوالے سے میں بھی طفیل صاحب کے دردِ دل کو محسوس کر سکتا ہوں کہ کہتے ہیں ولی را ولی می شناسد۔ میری ’’ممتاز محل‘‘ کو بھی گزرے سات برس ہو رہے ہیں!

ذرا ملاحظہ کیجئے آگرہ کے سفر اور تاج محل کی دید کے دوران چودھری صاحب کے جذبات کا عالم کیا تھا، لکھتے ہیں:’’ پنجاب بھون میں شب بسری کے بعد ہم تاج محل دیکھنے کے لئے 8مئی 2006ء کو آگرہ روانہ ہوئے۔۔۔آگرہ شہر کے ایک ہوٹل میں کھانا کھایا اور پھر تاج محل کی جانب چل پڑے۔ممتاز محل، ملکہ نور جہاں کے بھائی آصف جاہ کی بیٹی تھی۔ نسوانی حسن و جمال کا شاہکار تھی اور شاہجہان پر دل و جان سے نثار تھی۔۔۔ شاہجہان کو بھی اپنی دل و جان سے پیاری ملکہ ممتاز محل سے محبت نہیں، عشق تھا۔ دونوں کا معاملہ گل و بلبل اور چاند چکور کا سا تھا‘‘۔

یہ تاریخی حقائق بیان کرنے کے بعد طفیل صاحب فلسفۂ حسن و عشق پر جو جذبات آمیز تبصرہ کرتے ہیں وہ بھی دیکھئے:’’محبت ایک ایسا نغمہ ہے جو دل کے تاروں کو چھو کر روح کی ان گہرائیوں تک جاپہنچتا ہے، جو ہمیشہ تشنہ کام رہتی ہیں۔ یہ تشنہ کامی ایک خوشگوار تپش ہے جو سینوں میں فروزاں رہتی ہے۔ پیار ایک نہ ختم ہونے والا خزانہ ہے۔ ایک پیاس ہے جو کبھی نہیں بجھتی، ایک آگ ہے جو سینے میں جلتی رہتی ہے، جس کی تپش خون میں ڈوب کر رگ رگ میں سما جاتی ہے۔ ایک خوشبو ہے جس کی مہک روح کو معطر کر دیتی ہے۔ ممتاز محل بولتی تھی تو اس کے الفاظ خوشبو بن جاتے تھے۔ شاہجہان اور ممتاز محل کی باہمی محبت و الفت کے ستارے تاج محل کی شکل میں اب تک جھلملا رہے ہیں۔ تاج محل دیکھنے والوں کے قلب و ذہن ان ستاروں کی درخشانی سے نور افشاں ہو جاتے ہیں۔ باہمی چاہت کے یہ غنچے جب فرطِ مسرت سے پھول بنتے ہیں تو دِل و دماغ مہک اٹھتے ہیں‘‘۔

میں نے یہ عبارت پڑھی اور پھر چودھری طفیل صاحب کی وہ تصویر دیکھی جو اسی کتابچے میں دی ہوئی ہے اور جس میں وہ اپنے بیٹے اسجد غنی طاہر کے ساتھ اسی بنچ پر بیٹھے ہوئے ہیں جس پر بیٹھ کر نجانے کتنے بادشاہوں، حکمرانوں، صدورِ مملکت اور وزرائے اعظم نے اپنی بیویوں کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔ میرا خیال ہے طفیل صاحب کے دِل کی گہرائیوں میں بھی کہیں ایک کسک ضرور اُٹھی ہو گی اور انہیں اپنی زوج�ۂ مرحومہ کی یاد ضرور آئی ہو گی جن کی زندہ نشانی انہیں ان کے فرزندِ ارجمند کی صورت میں ان کے پہلو میں بیٹھی دکھائی دے رہی تھی۔ اس کے بعد بھی تاج محل کا ذکر اور حسن و عشق کے رموز و اسرار ان کا پیچھا نہیں چھوڑتے اور اگلے پورے دو تین صفحے اِسی فلسفۂ محبت اور اِسی جذبۂ عشق میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

اس کے بعد9مئی کو اجمیر شریف کے سفر کا ذکر ہے جو دلی سے 280 میل (440کلو میٹر) کے فاصلے پر ہے اور جہاں خواجہ معین الدین چشتی کا مزار ہے۔10مئی2006ء کو انہوں نے اپنے بیٹے کے ہمراہ ہ دلی دیکھی جس کے بارے میں میر نے کہا تھا:

دلی کے نہ تھے کوچے، اوراقِ مصور تھے

جو شکل نظر آئی، تصویر نظر آئی

اقبال نے اپنی ایک نظم بلادِ اسلامیہ(بانگ درا، حصہ سوم) میں، جن پانچ اسلامی شہروں کی عظمت کی داستان بیان کی ہے ان میں دلی، بغداد، قرطبہ قسطنطنیہ اور مدینہ منورہ شامل ہیں۔ یثرب پر انہوں نے سات اشعار کہے ہیں اور اس کے بعد دلی پر چار اشعار ہیں جن میں شاہجہان آباد کی عظمت کے دریا کو گویا کوزے میں بند کر دیا ہے۔۔۔ نظم کا پہلا شعر ہے:

سر زمیں دلی کی مسجودِ دلِ غم دیدہ ہے

ذرے ذرے میں لہو اسلاف کا خوابیدہ ہے

طفیل صاحب نے بھی اس سرزمین کی سیر کی اور مقبرہ ہمایوں، قطب مینار، حضرت نظام الدین اولیاء کا مزار، امیر خسرو کا مزار، غالب کی لحد،انڈیا گیٹ، لال قلعہ، جامعہ مسجد، راشٹر پتی بھون، پردھان منتری سیکرٹریٹ اور پارلیمینٹ ہاؤس وغیرہ دیکھے۔ ان سب کا ذکر اس کتابچے میں موجود ہے۔ کمال یہ ہے کہ طول طویل لفاظی اور تفصیل سے گریز کیا گیا ہے لیکن ان سب عمارات کی اہمیت اور امتیاز کو بیان کرتے ہوئے کوئی ایسا گوشہ ان کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوا جو قابلِ ذکر تھا۔

راقم السطور تاریخ اور جغرافیہ کا بھی ایک ادنیٰ طالب علم ہے۔ فوج میں ان مضامین کا مطالعہ از راہ مجبوری کرنا پڑتا ہے اور انڈیا کی تاریخ اور اس کا جغرافیہ تو ہرپاکستانی فوجی کی اولین مجبوری شمار ہوتی ہے اس لئے اگر یہ کہوں تو شاید مبالغہ نہ ہو کہ مَیں نے آج تک جتنی بھی تواریخِ ہند کا مطالعہ کیا ہے ان کا خلاصہ ’’تپشِ شوق‘‘ کے ان 32 صفحات بمعہ 33 رنگین تصاویر سے زیادہ مختصر لیکن زیادہ جامع(اور جذباتی تحریروں سے لبریز) کہیں اور پڑھنے اور دیکھنے کو نہیں ملا!۔۔۔کاش طفیل صاحب اپنی یادوں کا کوئی اور مزید اور مفصل کتابچہ بھی لکھتے!

مزید : کالم