صوبے بھرمیں داخلہ مہم کا آغاز

صوبے بھرمیں داخلہ مہم کا آغاز

رپورٹ:زلیخا اویس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وزیراعلی شہبازشریف کی قیادت میں پنجاب حکومت نے تعلیم اور صحت کے میدان میں نمایاں کارکردگی دکھائی ہے اور بعض انقلابی نوعیت کی اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں جو دیگر صوبوں کے لئے قابل تقلید ہے۔ پنجاب کے ہرتعلیمی پروگرام میں دیگر صوبوں کے طلبا وطالبات کوشامل کیا گیاہے بلوچستان کے طلبا وطالبات کا کوٹہ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں بڑھایا گیاہے اور یہ اقدام قومی یکجہتی اوربھائی چارے کو فروغ دے رہاہے۔

علم دوستی کی اسی روائت کو برقرار رکھتے ہوئے سکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے زیر اہتمام وزیر اعلیٰ پنجاب کی داخلہ مہم 2017کے سلسلے میں ایوان اقبال لاہورمیں تقریب منعقد ہوئی۔جس میں میاں شہباز شریف مہمان خصوصی، منسٹر ایجوکیشن رانا مشہود احمد خان، منسٹر فنانس عائشہ غوث پاشا ، سیکرٹری سکولز ایجوکیشن عبدالجبار شاہین کے علاوہ دیگر اعلیٰ عہدیداران موجود تھے۔

وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے دوننھے بچوں کے ٹیبلٹ میں ناموں کا اندراج کرکے داخلہ مہم 2017ء کا باقاعدہ افتتاح کیا۔وزیراعلیٰ نے بچوں کو کتابیں اوربیگز بھی دےئے۔پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا ادارہ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کے تعلیم دوست وژن کے تحت پنجاب بھر میں بچوں کے سکولوں میں داخلہ کی مہم میں حصہ لے رہاہے۔انہی کاوشوں کے نتیجے میں فاؤنڈیشن کے مفت تعلیم کے منصوبوں سے منسلک پارٹنر سکولوں میں بچوں کی تعداد 8,22,997سے بڑھ کر22 لاکھ ہوچکی ہے۔ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن محکمہ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ساتھ مل کر داخلہ مہم میں شریک ہے اور یہ ایک ایسا تعلیمی ماڈل ہے جس نے عظیم کامیابیا ں حاصل کی ہیں ۔ ان کامیابیوں کی بناء پر حکومت پنجاب نے مسلسل ناقص کارکردگی والے 5000سرکاری سکول فاؤنڈیشن کے حوالے کر دیے ہیں۔ حکومت کے اس اقدام کے باعث ان سکولوں میں بچوں کی تعداد1,75000ہزار سے بڑھ کر 312560تک جا پہنچی ہے۔اسی طرح پیف کی جانب سے ان سرکاری سکولوں کی انتظامیہ کو مزید ہدایت کی جارہی ہے کہ وہ بچوں کے داخلے کی جدوجہد میں مزید اضافہ کریں تاکہ ان کے علاقے میں موجود ہر بچہ سکول میں داخل ہوکر مفت تعلیم کی سہولیات سے فیض یاب ہوسکے۔اس کے ساتھ ساتھ بچوں کو سکولوں میں داخلہ مہم کی غرض سے نئے تعلیمی ووچرز جاری کیے جارہے ہیں جس سے بچوں کی سکولوں میں تعداد بڑھے گی۔

وزیراعلیٰ شہبازشریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر سال داخلہ مہم کے حوالے سے تحریک چلائی جاتی ہے اورآج بھی ہم اسی مقصد سے یہاں اکٹھے ہوئے ہیں اوریہ تقریب ویڈیولنک کے ذریعے صوبے کے 36اضلاع سے منسلک ہے اوران اضلاع میں اراکین اسمبلی ،نومنتخب ضلعی قیادت ،تعلیم کے شعبہ سے وابستہ افراد ،انتظامیہ اورطلباء و طالبات اس عزم کے ساتھ موجود ہیں کہ ہم نے جذبے اورمحنت کے ساتھ کام کرتے ہوئے داخلہ مہم کو کامیاب بنانے کافرض پورا کرنا ہے اوراس بات کو یقینی بنانا ہے کہ پنجاب کا کوئی بچہ اوربچی سکول سے باہر نہ رہے یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔زندہ قومیں ایسے چیلنجز سے بطریق احسن عہدبرآہوتی ہیں۔ہم نے بھی اس چیلنج کو قبول کیا ہے۔مشکلات بھی موجود ہیں ،ماضی کی غفلت اورکوتاہیاں بھی سامنے ہیں تاہم ہمیں اس چیلنج کو پورا کرنا ہے،5سے 9سال تک کے قوم کے عظیم معماروں کو سکولوں میں لانے کیلئے آخری حد تک جائیں گے۔وسائل نہ پہلے کبھی ہمارے پاؤں کی زنجیر تھے اورنہ ہی آئندہ بننے دیں گے۔قوم کے بیٹے اوربیٹوں کو زیور تعلیم کیلئے وسائل کی فراہمی میں کوئی کمی نہیں آنے دیں گے۔

داخلہ مہم کو کامیاب بنانے کے حوالے سے اساتذہ کا کرداربنیادی اہمیت کا حامل ہے۔میری اساتذہ سے اپیل ہے کہ وہ آگے بڑھیں اوراس ہدف کے حصول میں اپنا موثر کردارادا کریں۔قوم کے بچوں کو معیاری تعلیم دینے کیلئے اساتذہ کو اپنی تربیت میں بھی نکھار پیدا کرنا ہے۔میں نے ہمیشہ ٹیچرز ٹریننگ کو اولین اہمیت دی ہے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اساتذہ کوجتنی اچھی تربیت ملے گی وہ اتنی ہی اچھی تعلیم قوم کے درخشندہ ستاروں کو دیں گے۔اساتذہ کی تربیت کے حوا لے سے ایک قابل افسر کو لایا ہوں جس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ مایوس نہیں کریں گے اور اساتذہ کی تربیت کے حوالے سے انقلاب برپا کردیں گے۔وہ اس بات کی اہلیت رکھتے ہیں تاہم اگر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے تو انہیں قوم کے سامنے ہیرو کی طرح لاکر خراج تحسین پیش کریں گے انہوں نے کہا کہ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ذریعے 22لاکھ بچوں کو تعلیم دلانے کا شاندار نظام بنایا گیا ہے اورادارے کی واؤچرسکیم کے تحت غریب گھرانوں کے بچے اوربچیاں تعلیم حاصل کررہے ہیں ،اسی طرح پنجاب حکومت نے دوردراز اورپسماندہ علاقوں کے ساڑھے چار ہزار سکولوں کو آؤٹ سورس کیا ہے جن کی بدولت ان سکولوں میں طلباء و طالبات کی تعداد دو گنا ہوگئی ہے۔اساتذہ کو اس پر ملال اوراعتراض کرنے کی بجائے سوچنا ہوگا جب ان سکولوں کو آؤٹ سورس کیاگیا تو یہاں بچوں کی تعداد دگنی کیوں ہوئی؟انہیں نظام کی خرابیوں کا جائزہ لینا چاہیے۔میری اساتذہ سے درخواست ہے کہ انہیں سکولوں کے آؤٹ سورس کرنے کے اس ماڈل کی افادیت پر خوش ہونا چاہیے اورانہیں اپنے صادق جذبوں کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے کہ وہ بھی اس ماڈل کو اپنا کر اپنے سکولوں کو بہتر بنائیں گے۔یہ قوم کی عظیم خدمت ہوگی جس سے آپ کے خاندانوں کا وقار بلند ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے صوبے میں میرٹ اورشفافیت کی پالیسی پر عملدر آمد کو یقینی بنایاہے اورگزشتہ 8سالوں کے دوران 2لاکھ سے زائد اساتذہ میرٹ کی بنیاد پر بھرتی کیے گئے ہیں اورکوئی بھرتی کئے گئے ان اساتذہ میں کسی ایک پر بھی سفارش یارشوت کا الزام نہیں لگاسکتا انہوں نے کہا کہ میرٹ کی کوئی قیمت نہیں اسے سونے کے زیورات میں تولہ نہیں جاسکتا،اسی لئے پنجاب حکومت نے ہر سطح پر میرٹ کو فروغ دیا ہے تاہم یہ انسانی معاشرہ ہے اورکہیں نہ کہیں غلطی سرزد ہوسکتی ہے۔بھکر میں یتیم بچی کے حق پر ڈاکہ مارنے کی کوشش کی گئی اورمیرٹ کے باوجود اسے نظرانداز کیاگیا ،میں نے اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے اس وقت کے متعلقہ ڈی سی اور عملے کیخلاف ایکشن لیا اور انہیں معطل کیا جنہوں نے یتیم بچی کی حق تلفی کی کوشش کی۔انہوں نے کہا کہ اس سال بھی 80ہزار اساتذہ میرٹ کی بنیاد پر بھرتی کیے جارہے ہیں جن میں 50فیصد سے زائد خواتین اساتذہ شامل ہیں۔ وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے تربیت کے لئے اساتذہ جہاں سے چاہیں انہیں تربیت دلائیں گے اوراس مقصد کیلئے پیٹ کاٹ کروسائل فراہم کرنے کیلئے بھی تیار ہیں تاکہ آپ قوم کے بچے اوربچیوں کو معیاری تعلیم سے آراستہ کریں انہوں نے کہا کہ ہم نے امتحانی نظام سے بوٹی مافیا کا خاتمہ کردیا تھا لیکن 1999ء میں جمہوریت پر شب خون مارا گیا، سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگانے والے ڈکٹیٹر نے ہمیشہ اس کے الٹ کام کیا۔بوٹی مافیا پھر سے امتحانی نظام میں آگیا اورہمیں اسے دوبارہ نکیل ڈالنا پڑی۔انہوں نے کہا کہ سکولوں میں 50ہزار ٹیبلٹس کی فراہمی کا پروگرام بھی جاری ہے اورسینٹر آف ایکسیلنس بھی بنائے گئے ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ ان پر بھی اعتراض کیا جاتا ہے۔مجھ سمیت اشرافیہ اپنے بچوں کو تو دنیا کے اعلی تعلیم اداروں میں تعلیم دلوانا چاہتے ہیں لیکن غریب کے بچوں کیلئے بنائیں گئے سینٹر آف ایکسیلنس پر اعتراض کیا جاتا ہے۔یہ اقبال ؒ اور قائدؒ کی سوچ نہ تھی۔ہمیں ملک کی تعمیروترقی کیلئے بانیان پاکستان کے تصورات کو اپنا نا ہوگا۔

محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ ترقی اورخوشحالی کی منزل کے حصول کا واحد راستہ تعلیم ہے۔ تعلیم سے قوموں میں ویژن،قوت اورشعور آتا ہے ،تعلیم یافتہ قومیں طاقتور ہوتی ہیں اور کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔تعلیم کی اسی اہمیت کے پیش نظر پنجاب حکومت نے فروغ تعلیم کیلئے بے مثال اقدامات اٹھائے ہیں۔سکول سے باہر بچوں کو تعلیم کی غرض سے سکولوں میں لانے کیلئے بھی موثر حکمت عملی اپنائی گئی ہے اورہر سال داخلہ مہم کو ایک تحریک کے طورپر آگے بڑھایا جاتا ہے۔انشاء اللہ آئندہ انتخابات سے قبل پنجاب کے ہر بچے کو تعلیم کے لئے سکول میں لانے کا ہدف پورا کریں گے اورکوئی بچہ اب تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔بچوں کے سکولوں میں سو فیصد داخلے کو یقینی بنانے کیلئے محنت،عزم اورجذبے کے ساتھ کام کرتے ہوئے اس چیلنج کو پورا کرنا ہے۔ پنجاب حکومت کے وسائل قوت اورکاوش موجود ہے اللہ کو منظور ہوا تو اس ہدف کو ضرور حاصل کریں گے۔

معیاری تعلیم ہر بچے کا حق ہے اورہم یہ حق اسے دیں گے،میں قوم کی بیٹیوں اوربیٹوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لئے اپنی جان لڑادوں گا۔اشرافیہ اپنے بچوں کے لئے تو بہترین تعلیم اورعلاج پسند کریں لیکن جب یتیم،بے سہارااورغریب کو تعلیم اورصحت کی سہولتوں کی فراہمی کی بات کی جائے تو اسے تکلیف ہوتی ہے۔ہمیں اس ذہنیت ،کلچر اورنظام کو بدلنا ہے۔محروم معیشت طبقات کو بھی تعلیم اورعلاج کی وہی سہولتیں دینا ہیں جو امیر کو حاصل ہیں۔میری دردمندانہ اپیل ہے کہ خدارا آئیے،مل کر امیر اورغریب کے درمیان خلیج کو ختم کریں اورامیر اورغریب کے پاکستان کے فرق کو مٹا دیں۔اپنے دکھوں کو خوشیوں میں بدلیں اورپاکستان کو صحیح معنوں میں قائدؒ و اقبالؒ کے تصورات کے مطابق اسلامی فلاحی ریاست بنائیں،یہ اسی وقت ہوگا جب اشرافیہ اپنا رویہ بدلے گی۔

میری اساتذہ سے ایک بار پھر درخواست ہے کہ آپ بھی اپنے اداروں کو سینٹر آف ایکسی لنس بنائیں مجھے خوشی ہوگی اور میں آپ کو سر کا تاج بناؤں گا۔پھر آپ کی تنخواہیں بھی بڑھائیں گے اور قوم آپ کو دعائیں بھی دے گی۔شاندار اذہان اورقوت ہونے کے باوجود غریبوں کے بچوں کے معیاری تعلیم کیلئے سینٹر آف ایکسیلنس نہ بننا بڑی زیادتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض تعلیمی اداروں میں سکولوں کے بچوں سے مالیوں کا کام لیا جاتا ہے ،جو انتہائی افسوسناک امر ہے۔ ایک سکول سے تو ایسی شکایت بھی سامنے آئی ہے کہ طالبعلم سکول کے باہر قائم ایک استاد کی دوکان پر کام کررہا ہے۔زندہ معاشروں میں ایسے واقعات کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ذرا غور کریں کہ ہم اپنے بچوں کوسکول میں تعلیم کیلئے بجھوائیں اوروہاں ان سے صفائی اورمالیوں کا کام لیاجائے تو ہمارے دل پر کیا گزرے گی۔شہبازشریف کے ہوتے ہوئے ایسا نہیں ہوگا۔ پاکستانیوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا بیرونی دنیا میں منوایا ہے۔انہیں پاکستان کی تعمیر و ترقی میں بھی اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ڈاکٹروں اورپیر امیڈیکل سٹاف کو دکھی انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھنا ہے اورصحیح معنوں میں مسیحا بن کر ان کی خدمت کرنا ہے۔مریض ہسپتالوں میں علاج کیلئے تڑپتے رہیں اورڈاکٹرز ہڑتال کریں ،یہ سراسر زیادتی، ناانصافی اورغریب ماری ہے۔ ملتان میں دو ارب روپے سے بنائے گئے کڈنی ہسپتال متعلقہ حکام کی بے حسی کا منہ چڑا رہا ہے۔ کروڑوں روپے کی مشینری ڈبوں میں بند ہو،ڈاکٹر مریضوں کو طبی سہولتیں نہ دیں تو یہ عمارت صرف ایک پتھر کی مانند ہے۔ میں نے اس ہسپتال کی مینجمنٹ ،انڈس ٹرسٹ کے حوالے کرنے کا معاہدہ کیا ہے اوریہ ٹرسٹ مظفر گڑھ میں طیب اردوان ہسپتال اورلاہور میں لدھڑہسپتال کو شاندار انداز میں چلا رہا ہے،یہاں ڈاکٹروں کی ہڑتال نہیں ہوتی اورنہ ہی کبھی کڈنی ہسپتال، ملتان میں ہڑتال ہوگی۔بعض لوگ ہسپتالوں کے معاملات میں بھی سیاسی دکانداری چمکانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کڈنی ہسپتال ملتان کے حوالے سے بھی سیاسی جماعتوں نے سیاست کرنے کی کوشش کی ،ان میں پی ٹی آئی بھی شامل تھی۔ان سیاسی جماعتوں نے احتجاج کیا کہ ہسپتالوں کو پرائیویٹ کیا جارہا ہے ،ہم سب کیلئے یہ ایک تازیانہ اورلمحہ فکریہ ہے کہ اتنا شاندار ہسپتال جو ٹیکس چوروں نہیں بلکہ غریب قوم کی محنت کی کمائی سے بنایاگیا تھا لیکن وہ مریضوں کو علاج معالجہ کی فراہمی میں ناکام تھا، جب میں نے طیب اردوان ہسپتال مظفرگڑھ کا انتظام انڈس ٹرسٹ کے حوالے کیا تھا تو کہا تھا کہ اس علاقے کے لوگ اب علاج کیلئے لاہور یا کراچی کا رخ نہیں کریں گے بلکہ دوسرے شہروں کے لوگ علاج معالجہ کیلئے یہاں آئیں گے۔میری یہ بات سچ ثابت ہوئی ہے۔دوسرے شہروں سے لوگوں کا علاج کیلئے یہاں آنے کی بڑی وجہ یہی ہے کہ یہاں ہڑتال نہیں ہوتی اورڈاکٹرز مریضوں سے انتہائی اچھے انداز سے پیش آتے ہیں اوردکھی انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہوکر ان کا علاج کرتے ہیں۔اس بات سے انکار نہیں کہ سرکاری ہسپتالوں میں بھی بڑے بڑے مسیحا موجود ہیں جنہوں نے دکھی انسانیت کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اس کی مثال 60کی دہائی میں میو ہسپتال میں ڈاکٹر امیر الدین کی دی جاسکتی ہے جو نہ صرف اپنے وارڈ میں مریضوں کو بہترین علاج فراہم کرتے تھے بلکہ وہ اپنی جیب سے مریضوں کو کھانا بھی دیتے تھے۔آج بھی ایسے ڈاکٹروں کی کمی نہیں ہے تاہم حالات اوروقت بدل گیا ہے ،کچھ خرابیاں آگئی ہیں اورمسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ قوم کا سرمایہ طبی سہولتوں کی فراہمی کی بجائے احتجاجوں کی نذر ہوجاتا ہے۔مریض ہسپتالوں میں تڑپ تڑپ کر جان دے رہے ہوں اور ان کی آہیں آسمانوں کو چیر رہی ہوں،شہبازشریف کے دور میں ایسا نہیں ہوگا۔ڈاکٹروں کو ہڑتالوں کی بجائے مسیحا بن کردکھی انسانیت کی خدمت کرنی ہے اورجوغریب عوام کو علاج معالجے کی فراہمی کی بجائے اس میں رکاوٹ بنے گاتو اس کے خاندان کے لوگ اورقوم بھی انہیں پسند نہیں کرے گی۔انہوں نے کہاکہ پاکستان ہمارا ہے اورہمیں ملکر اسے سنوارنا ہے اوراسے عظیم سے عظیم تر بنانا ہے۔یہ منزل عوام کو تعلیم اورصحت کی سہولتوں کی فراہمی سے ہی ممکن ہے۔اس مقصد کیلئے اساتذہ اور ڈاکٹروں سمیت معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردارادا کرناہے۔

صوبائی وزیر سکولزایجوکیشن رانا مشہود احمد خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہبازشریف نے محنت کشوں ،کسانوں کو عزت دی اورغریب خاندانوں کے بچے اوربچیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے بے مثال اقدامات کیے۔سیلاب کے دنوں میں قوم نے خادم پنجاب کا انسان دوستی کا روپ دیکھا ہے اورتعلیم سے لگاؤ بھی سامنے ہیں۔بلاشبہ انہوں نے عوام کو تعلیم ،صحت اوردیگر سہولتوں کی فراہمی یقینی بنا کرخادم پنجاب ہونے کا حق ادا کیا ہے۔وزیراعلیٰ شہبازشریف نے قوم کے بچے اوربچیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے شاندار پروگرام شروع کر کے خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھ دی ہے۔

وائس چےئرمین پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ ڈاکٹر امجدثاقب نے وزیراعلیٰ کے فروغ تعلیم کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ کے ذریعے لاکھوں بچے اوربچیاں تعلیم حاصل کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ علم نور ہے ،زندگی ہے اورروشنی ہے۔شہبازشریف قوم کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر نور ،روشنی اورزندگی کی طرف لے جانے کیلئے انتھک کاوشیں کررہے ہیں۔ سیکرٹری سکولزعبدالجبار شاہین نے انرولمنٹ مہم 2017ء کے خدوخال اور فروغ تعلیم کیلئے اٹھا ئے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی۔

تقریب میں پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے مختلف ڈپارٹمنٹس کے سٹاف نے ایم ڈی طارق محمود کی سربراہی میں شرکت کی۔اس دوران ایم ڈی پیف کے ساتھ سیکرٹری سکولز موجودتھے ۔ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی کمیونیکیشن کی ٹیم نے مفت تعلیمی منصوبوں کے حوالے سے سٹال لگایاجسے وہاں پر موجود طلباء اور اساتذہ کی کثیر تعداد نے بے حد پسند کیا ۔پیف سٹال کا ڈاکٹر اللہ بخش ملک نے بھی وزٹ کیا ۔ انہوں نے مفت تعلیمی منصوبوں کے ماڈلز کو سراہااور فاؤنڈیشن کی ترقی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔صوبائی وزراء ،اراکین قومی و صوبائی اسمبلی،وائس چانسلر ز،پرنسپلز،اساتذہ ،والدین،طلبا و طالبات ،دانشوروں،کالم نگاروں اورماہرین تعلیم نے تقریب میں شرکت کی۔

مزید : ایڈیشن 2