یونیورسٹی آف ہوم اکنامکس لاہور ایکٹ 2017کی منظوری ,تعلیم کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی میں اہم سنگ میل

یونیورسٹی آف ہوم اکنامکس لاہور ایکٹ 2017کی منظوری ,تعلیم کے ساتھ ساتھ معاشی ...

تحریر: مصطفٰی کمال پاشا

گورنمنٹ کالج آف ہوم اکنامکس لاہور کے خوبصورت علاقے گلبرگ میں 1956 میں اپنے قیام سے لے کر ہنوز قومی سطح پرخواتین کی پیشہ وارانہ تعلیم اور تہذیب و تربیت کے لئے منظم کاوشیں کر رہا ہے یہاں فوڈ اینڈ نیوٹریشن ، ٹیکسٹائل اینڈکلودنگ، آرٹ اینڈ ڈیزائین، ہیومن ڈویلپمنٹ اینڈ فیملی سٹڈیز کے علاوہ انٹیر ئیر اینڈ ہاوسنگ کے شعبوں میں خواتین کی اعلیٰ پیشہ وارانہ بنیادوں پر تعلیم وتربیت کا بندوبست کیا جاتا ہے۔

پر شکوہ عمارت میں قائم اس ادارے میں بیان کردہ پانچ شعبہ جات میں 4سالہ بی ایس، 2 سالہ ایم ایس سی، 2سالہ ایم فل اور پھر پی ایچ ڈی کے ڈگری پروگرامز کرائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں بالعموم اور پنجاب میں بالخصوص ، صنعت و کاروبار میں مصروف خواتین کی اکثریت اسی ادارے کے فارغ التحصیل ملیں گی۔ گزری نصف صدی سے زائد عرصے تک خواتین کی پیشہ ورانہ تربیت کے حوالے سے اس کالج کی اجارہ داری قائم تھی۔ ماضی قریب کی ایک دھائی اور اس سے کچھ زائد مدت کے دوران یہاں پنجاب میں شعبہ جاتی تربیت کے لئے کچھ اور ادارے بھی قائم ہوئے ہیں لیکن اس کالج کی فارغ التحصیل خواتین کو جاب مارکیٹ اور پرو فیشن میں برتری حاصل ہے۔ اپنی فنی صلاحیتوں اور منظم تربیتی پروگرام کے باعث اس ادارے کی فارغ التحصیل خواتین میدانِ عمل میں اپنا لوہا منوا رہی ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے اداروں کے قیام اور ان کی جدت طرازیوں کے باعث ہوم اکنامکس کالج کی پروفیشنل برتری پر انگلیاں اٹھنی شروع ہو گئی تھیں 61سالوں سے قائم یہ ادارہ اپنے نظام اور روایات کے باعث شاید جدت طرازی میں دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہو رہا تھا اس لئے اس کی پیشہ وارانہ برتری پر سوال اٹھنے شروع ہو گئے تھے لیکن اس ادارے سے وابستہ ، اس کی روایات کی امین اساتذہ کرام اس کی تعمیرو ترقی اور اسے دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ہمہ وقت مصروف رہیں حتی کہ 2017 میں ان کی کاوشیں رنگ لے آئیں اور ایکٹ آف پارلیمنٹ (پنجاب اسمبلی) کے ذریعے اس ادارے کو یونیورسٹی آف ہوم اکنامکس کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ گویا ایک بار پھر اس ادارے کی پروفیشنل برتری کا بندوبست کر دیا گیا ہے 1956سے قائم یہ ادارہ ایک بار پھر نئی امنگوں اور تعمیروترقی کے جذبات سے لیس خواتین کی پیشہ وارنہ صلاحیتوں کو جلا بخشنے کے لئے تیاریوں میں مصروف ہو گیا ہے۔ ہوم اکنامکس کالج کا یونیورسٹی بننا یقیناًایک تاریخی قدم ہے۔ ہماری خواتین کے لئے ہماری معیشت کی ترقی کے لئے حکومت پنجاب کے ایجنڈے میں خواتین کی بہتری اور ایمپاورمنٹ کا منصوبہ بنیادی اہمیت کاحامل ہے۔ اسی لئے ہوم اکنامکس یونیورسٹی کے قیام کا سلسلہ 2016میں شروع ہو چکا تھا اس دور میں کالج کی پرنسپل ڈاکٹر سمیعہ کلثوم کی مسلسل کاوشوں کے نتیجے میں یونیورسٹی آف ہوم اکنامکس لاہور بل 2016 (بل نمبر 2016-38) کو اسمبلی کی ایک اعلیٰ سطحی اور اختیاراتی 9 رکنی کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ اسمبلی کے طریق کار کے مطابق اس کمیٹی نے اپنی میٹنگز منعقدہ 8,21 ستمبر 2016، 5اکتوبر2016، 21دسمبر2016اور 5+11جنوری 2017میں اس بل پر طویل اور پُر مغز بحث ومباحثہ کیا۔ 9 رکنی پارلیمانی کمیٹی میں ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ، حکومت پنجاب کے سپیشل سیکرٹری طاہر یوسف، لا اینڈ پارلمانی امور کے ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر محسن بخاری نے بھی ان میٹنگز میں شرکت کی اور اس بل کی نوک پلک سنوارنے میں اپنا اپنا کردار ادا کیا۔ پنجاب اسمبلی کے سپیشل سیکرٹری حافظ محمد شفیق عادل نے کمیٹی کے سیکرٹری کے فرائض سر انجام دئیے اور اسے طے شدہ طریقِ کار کے مطابق مکمل کیا ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے سپیشل سیکرٹری طاہر یوسف نے کمیٹی کو بتایا کہ خواتین کی تعلیم اور پیشہ وارانہ تربیت کے لئے یونیورسٹی آف ہوم اکنامکس کا قیام ضروری تھا۔ ماہرین تعلیم کی سفارشات اور صوبے میں تعلیم و تربیت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب کے پیشِ نظر ایک یونیورسٹی کے قیام کی بنیادوں کی فراہمی ضروری تھی۔ اس کے قیام سے پاکستان کے لوگ بالعموم اور پنجاب کے لوگ بالخصوص فائدہ اٹھائیں گے مجوزہ یونیورسٹی خواتین کے لئے ایک بہترین ادارہ ہو گی جہاں علم وہنر کے مختلف شعبوں میں تعلیم وتربیت فراہم کی جائے گی اس کے علاوہ ریسرچ اور ڈویلپمنٹ میں بھی منظم اور اعلی کام کیا جائے گا۔ اس کمیٹی نے بل کے تیار کردہ مسودے میں چند ترامیم کے ساتھ اس بل کو اسمبلی میں منظوری کے لئے پیش کرنے کی سفارش کر دی ۔ پنجاب اسمبلی کے اجلاس منعقدہ 11جنوری 2017میں کمیٹی کے تیار کردہ بل کو یونیورسٹی آف ہوم اکنامکس لاہور ایکٹ 2017کے طور پر منظور کیا گیا جس کے ساتھ بھی یونیورسٹی کا قیام عمل میں آگیا ہے۔

اس ایکٹ کے تحت گورنمٹ کالج آف ہوم اکنامکس کے تمام اثاثہ جات بشمول بلڈنگز وغیرہ اور اس کے ذمے واجبات قائم کردہ یونیورسٹی کو منتقل ہو جائیں گی۔ کالج کے تمام ملازمین ( ریگولر اور کنٹریکٹ) بھی یونیورسٹی کو منتقل ہو جائیں گے۔ گویا ہوم اکنامکس کالج مکمل طور پر یونیورسٹی بن جائے گا۔ یونیورسٹی ایکٹ کے نفاذ تک یہ ملازمین ڈیپوٹیشن پر تصور کئے جائیں گے۔ لیکن انہیں کسی قسم کا ڈیپوٹیشن الاؤنس نہیں ملے گا۔

اسمبلی کے منظور کردہ ایکٹ میں درج تفصیلات کے مطابق یونیورسٹی چانسلر ، پروچانسلر ، وائس چانسلر ، پرو وائس چانسلر، اتھارٹی ممبران ، چئیرمین، ڈنیز، اساتذہ، طالبات اور دیگر سٹاف پر مشتمل ہو گی، ایکٹ کے مطابق گورنر پنجاب اس یونیورسٹی کے چانسلر ہونگے۔ حکومت کم از کم تین اور زیادہ سے زیادہ 5اراکین پر مشتمل ایک سرچ کمیٹی تشکیل دے گی جو ایک خاتون وائس چانسلر کا انتخاب کرے گی۔ جسکی عمر 65 سال سے زائد نہیں ہو گی سرچ کمیٹی تین خواتین کاایک پینل حکومت کو پیش کرے گی جس میں سے کسی ایک خاتون کو یونیورسٹی کا وائس چانسلرنامزد کر دیا جائے گا۔ اس کی مدت ملازمت 4سال ہو گی اور چانسلر3سینیئر پروفیسرز میں سے کسی ایک کو پرو وائس چانسلرنامزد کرے گا۔ جس کی مدت تین سال ہو گی۔ یونیورسٹی سنڈیکٹ ، ایکڈیمک کونسل، بورڈز آف اڈوانسڈ سٹذیز اور اریسرچ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کمیٹی فنانس کمیٹی اور اس کے علاوہ روایات کے مطابق قائم کردہ ادارے پر مشتمل ہو ں گی۔ ایکٹ میں ان تمام اتھارٹیز کے بارے میں تفصیلات بیان کر دی گئی ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہوم اکنامکس یونیورسٹی کا قیام نہ صرف ملکی ، معاشی تعمیرو ترقی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔ بلکہ صوبے کی خواتین کے معاشی و معاشرتی بہتری اور اثر پزیری میں اہم کردار ادا کرے گا۔ جس طرح ہوم اکنامکس کالج خواتین کی معاشی و معاشرتی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ بالکل اسی طرح دور جدید کے تقاضوں کے عین مطابق خواتین یونیورسٹی عورتوں کے حقوق کی بازیابی اور معاشرے میں موئثر کردار ادا کرُنے میں ممدومعاون ثابت ہو گی۔

مزید : ایڈیشن 2