پالیسی سازی میں نجی شعبے کا کرداربڑھانا چاہتے ہیں، وزیر خزانہ پنجاب

پالیسی سازی میں نجی شعبے کا کرداربڑھانا چاہتے ہیں، وزیر خزانہ پنجاب

لاہور (کامرس رپورٹر) لاہور، صوبائی وزیر برائے فنانس ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے کہا ہے کہ سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کو فروغ دینا اور پالیسی سازی میں نجی شعبے کا کردار بڑھانا چاہتے ہیں تاکہ پائیدار بنیادوں پر معاشی ترقی حاصل کی جاسکے، موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ بڑھانے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر میں انکیوبیشن سنٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر امجد علی جاوا ، سابق سینئر نائب صدر الماس حیدر، سابق نائب صدرکاشف انور، ذیشان خلیل، میاں عبدالرزاق، میاں زاہد جاوید اور دیگر نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ بڑھانے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ موجودہ چیئرمین پنجاب ریونیو اتھارٹی نے جب چارج سنبھالا تو صرف آٹھ ہزار ٹیکس دہندگان اتھارٹی کے ساتھ رجسٹرڈ تھے جو اب 45ہزار تک پہنچ گئے ہیں جبکہ ٹیکس نیٹ میں سیکٹرز کی تعداد بھی 7یا آٹھ سے بڑھ کر 61تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی سمیت بہت سے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ آٹھ سو میگاواٹ کا آر ایل این جی بلوکی پاور پلانٹ جلد ہی جنریشن پر آجائے گا۔ ڈبل ٹیکسیشن کے معاملے پر وفاقی وزیر خزانہ اور ایف بی آر سے بات چیت کی ہے جس کا مثبت نتیجہ جلد ہی سامنے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب ریونیو اتھارٹی کو سنگل ٹیکس کلکشن اتھارٹی بنایا جائے گا جس سے کاروباری آسانیاں پیدا ہونگی اور معاملات میں شفافیت کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ تاجر خوشی سے خود ٹیکس دیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال 10اپریل کو ٹیکس کلکشن ڈے منانے کا اعلان کیا گیا تھا جس کا مقصد ٹیکس دہندگان کو یہ بتانا تھا کہ ان کا ٹیکس کہاں استعمال ہورہا ہے۔ چیئرمین پنجاب ریونیو اتھارٹی ڈاکٹر راحیل احمد صدیقی نے بتایا کہ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کے معاملے پر سندھ حکومت سے رابطہ کیا اور ابتدائی مرحلے میں ریٹس کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ تاجروں پر سے بوجھ کم ہو۔

لاہور چیمبر کے صدر عبدالباسط نے کہا کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا وقت کا تقاضا ہے، دوہرے ٹیکس کا مسئلہ حل ہونا اور صوبوں میں ٹیکس ہم آہنگی ہونی چاہیے کیونکہ مختلف جگہوں پر ایک ہی ٹیکس کی شرح مختلف ہے جس سے تاجروں کو پریشانی کا سامناہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے 0.9فیصد انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس عائد کردیا ہے جبکہ سندھ بھی اس مد میں 1.05فیصد وصول کررہا ہے جو دوہرا ٹیکس ہے، اسے ختم کیا جائے۔ انہوں نے بڑے زمینی قطعات پر لگثرری ٹیکس ختم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ اس وقت کئی ایسے ٹیکس ہیں جن کی سالانہ کولیکشن ایک ارب روپے سے بھی کم ہے، ان ٹیکسوں کو دوسرے ٹیکسوں میں ضم کردیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس بڑھانے کے لیے اقدامات اٹھانے سے قبل تاجروں کو اعتماد میں لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ چھاپوں نے تاجروں کو پریشان کررکھا ہے لہذا پنجاب حکومت یہ معاملہ متعلقہ حکام کے سامنے اٹھائیں۔ لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر امجد علی جاوا نے انکیوبیشن سنٹر کے قیام کے اغراض و مقاصد پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

مزید : کامرس