چھوٹے کاشتکاروں کو بار دانے کی فراہمی کیلئے 7 دن مختص کیے جائیں

چھوٹے کاشتکاروں کو بار دانے کی فراہمی کیلئے 7 دن مختص کیے جائیں

لاہور(کامرس رپورٹر)زرعی ماہر اور کسان رہنماء راؤ افسر نے کہا ہے کہ حکومت چھوٹے کاشتکاروں کو بار دانے کی فراہمی پہلے پانچ کی بجائے سات دن مختص کئیے جائیں ۔ گندم کی رقم نقد ادائیگی 50 بور ی بجائے 100 بوری کی جائے ڈیلیوری چارج کی مد میں خرچہ 40 سے 45 روپے فی بوری 9 روپے فی بوری نا کافی ہے کم از کم 15 روپے کئیے جائیں ۔ گندم کے بل کے ختم ہونے کی تاریخ کا دورانیہ بڑھانے کا اختیار ضلع کی سطح پر ڈی ایف سی کو دیا جائے بل گم ہونے کی صورت میں ڈبلیکیٹ بل لاہور کی بجائے ڈی ایف سی کو ضلع کی سطح پر اختیار دیا جائے خادم اعلیٰ پنجاب ، منسٹر خوراک سیکرٹری خوراک کاشتکاروں کے دیرینہ مسائل پالیسی کا حصہ بنا کر کسان دوست حکومت ہونے کا ثبوت دے راؤ افسر چئیرمین سمال فارمر پنجاب تفصیلات کے مطابق خادم اعلیٰ پنجاب نے قیام پاکستان کے بعد تاریخ میں پہلی بار 72 فیصد چھوٹے کاشتکاروں کو پہلے بار دانے کی فراہمی جیسی پالیسی بنا کر تاریخی اقدام کیا جو کہ قابل تحسین اور خوش آئندہ اقدام ہے اگر مزید اس میں دو دن کا اضافہ کر کے پانچ کے بجائے ساتھ دن مختص کر دئیے جائیں تو 70 فیصد کاشتکار وں کوحکومتی مقررہ قیمت مل جائے گی اور غریب کاشتکاروں کو کروڈوں روپے کا معاشی ریلیف ملے گا ۔ راؤ افسر نے مزید بتایا کہ گندم کی رقم کی نقد ادائیگی 50 بوری

تک ہے اگر اس کی مقدار 50 کی بجائے 100 بوری نقد ادائیگی کر دی جائے تو 50 اور 100 بوری کے درمیان گندم فروخت کرنے والے کاشتکار کو بغیر اکاؤنٹ اور بینک کی مشکلات کی بجائے نقد رقم ادا کی جائے ایک تو کپاس کی بجائی میں تاخیر ہونے سے کاشتکار بچ جائیں گے۔

دوسرا رقم کی فوری سہولت سے ریلیف ملے گا گندم خریداری مرکز تک پہنچانے کا 40 سے 50 روپے خرچہ ٹرانسپورٹ گندم کی بھرائی تولائی سلائی لوڈنگ ان لوڈنگ ہوجاتا ہے اگر حکومت غریب کاشتکاروں کو تیسرا حصہ 15 روپے فی بوری ڈیلیوری چارج کی مد میں دے تو اس سے غریب کاشتکاروں کو معاشی فائدہ ہوگا اور جناب خادم اعلی کی کسان دوست پالیسی بھی عیاں ہوگی راؤ افسر نے مزید کہا کہ گندم کا بل کا دورانیہ ختم ہونے پر ڈویژن ہیڈ کوارٹر جانے کی بجائے ڈسٹرکٹ کی سطح پر ڈی ایف سی کو تاریخ بڑھانے کی اجازت مل جاے تو اس سے پنجاب بھر کے کاشتکاروں کو ڈویژن ہیڈ کوارٹر جانے سے چھٹکاراہ مل جائے گا اور اپنے ہی ضلع مین اس کو یہ سہولت دستیاب ہو جائے گی بل گم ہونے کی صورت میں کاشتکار کو صوبائی محکمہ خوارک جناب ڈائریکٹر فوڈ کے پاس جانا پڑتا ہے اگر یہ سہولت کاشتکار کو ضلع کی سطح پر مل جائے اور ڈبلیکیٹ بل بنانے کا اختیار ڈی ایف سی کو مل جاے تو پنجاب بھر کے کاشتکاروں کو ریلیف ملے گا انہوں نے مزید کہا کہ یہ دیرینہ مسائل اور ضرورت کاشتکاروں کے جائز حق ہے اگر موجودہ مسلم لیگی حکومت ان کو پالیسی کا حصہ بنا دے تو یہ موجودہ حکومت کی کسان کا دوستی اور لاکھوں کسانوں کو ریلیف دینے کی پالیسی عیاں ہوگیا اور پنجاب بھر کے کاشتکار ان مطالبات کو پورا کرنے پر حکومت کے شکر گزار ہونگے۔

مزید : کامرس