سی پیک کیلئے قرضوں اور واپسی کے شیڈول کی تفصیلات عام کی جائیں‘ زاہد حسین

سی پیک کیلئے قرضوں اور واپسی کے شیڈول کی تفصیلات عام کی جائیں‘ زاہد حسین

کراچی (آن لائن)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م و آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینیئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ اقتصادی راہداری کیلئے لئے جانے والے قرضوں، انکی واپسی کے شیڈول اور مستقبل قریب میں چینی سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کی منتقلی کے بارے میں تفصیلات کو عام کیا جائے۔اقتصادی راہداری کیلئے درامد کی جانے والی مشینری کا ادائیگیوں کے توازن پر اثر انداز ہونے کے متعلق بھی قوم کو اعتماد میں لیا جائے۔ میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ اقتصادی راہداری منصوبہ کی زیادہ ترتفصیلات خفیہ رکھی جا رہی ہیں جو ملکی مفاد کے خلاف ہے۔ اس منصوبہ کیلئے لئے جانے والے قرضوں کے متعلق حکومت خاموش ہے ۔

تاہم بعض ماہرین قرضوں کی واپسی اور چینی کمپنیوں کی جانب سے منافع کی منتقلی کا سالانہ حجم ساڑھے تین ارب ڈالر تک بتا رہے ہیں تاہم اس میں نان۔سی پیک منصوبہ شامل نہیں اور نہ ہی سی پیک کے تحت بجلی کے پیداواری منصوبے شامل ہیں جن سے تقریباً نو ہزار میگاواٹ بجلی بنے گی۔ اسکے علاوہ اس میں ایل این جی کی درامد اور ری گیسیفیکیشن پلانٹس کی تعمیر،کئی دیگر بجلی گھر اور منصوبے اور نیلم جہلم اور تربیلا کے منصوبے بھی شامل نہیں ہیں جنکی مالیت اربوں ڈالر میں ہے۔سی پیک کے تحت بننے والے بجلی گھروں میں سالانہ کم از کم بیس کروڑ ڈالر کا ایندھن استعمال ہو گا جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر مزید زور پڑے گا۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ عام خیال ہے کہ اس منصوبہ کے تحت قائم ہونے والے بجلی گھر مہنگی پیداوار کریں گے جس سے عوام اور کاروباری برادری کی مشکلات میں اضافہ ہو گا تاہم سرکاری زرائع کے مطابق اس منصوبہ کے تحت قائم ہونے والے بجلی گھر نو سے دس سینٹ فی یونٹ تک بجلی فراہم کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت اس منصوبہ کو جلد از جلد مکمل کرنے اور سیکورٹی کو بہتر بنانے کے ساتھ عوام کے مفادات کا بھی بھرپور تحفظ کرے تاکہ کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع نہ ملے۔ #/s#

مزید : کامرس